30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اس کوٹھری کو بکر سے لے سکتاہے کہ جب طریق اس مکان کا زمین عمرو میں ہے تو عمرو خلیط فی حق المبیع ہوا،اور بکر اسی وجہ سے کہ مالك علو ہے اور اس کے مکانات کوٹھری کے دونوں جانب ہیں محض جوار ہے۔اور خلیط جار پر شرعا مقدم مکانات بکر دونوں جانب ہونے سے وہ صرف جارہوسکتا ہے۔اسی طرح قابض علو ہونا بھی اگر بوجہ ملك ہو تو فقط مثبت جوار ہے۔ورنہ لغو بحث۔
|
فی الفتاوٰی العالمگیریۃ سفل بین رجلین و لاحدھما علیہ علو بینہ وبین اٰخر فباع الذی لہ نصیب فی السفل والعلو نصیبہ فلشریکہ فی السفل الشفعۃ فی السفل ولشریکہ فی العلو الشفعۃ فی العلوا ولاشفعۃ لشریکہ فی السفل فی العلو ولا لشریکہ فی العلو فی السفل لان شریکہ فی السفل جار للعلو و شریك فی حقوق العلو ان کان طریق العلو فیہ وشریکۃ فی العلو جار للسفل اوشریك فی الحقوق اذا کان طریق العلو فی تلك الدار فکان الشریك فی عین البقعۃ اولٰی [1]۔وفی الفتوٰی قاضی خاں باع صاحب السفل سفلہ کان لصاحب العلوان یاخذ السفل بالشفعۃ لان السفل متصل بالعلو فکانا جارین [2]۔ |
فتاوٰی عالمگیری میں ہے نچلی منزل دو حضرات کی مشترکہ ہے اور دونوں میں سے ایك کا اس پر بالاخانہ ہے جس میں کوئی تیسرا شخص بھی شریك ہے تو نچلی منزل والوں میں سے جس کا بالاخانہ میں حصہ ہے اس نے اپنےنچلے اور اوپر والے حصوں کو فروخت کیا تو نچلے شریك کو نچلے حصہ میں اور اوپر والے شریك کو اوپر والے حصہ میں شفعہ کا حق ہے نیچے والے کو اوپراور اوپروالے شریك کو نیچے والے حصہ میں شفعہ کا حق نہیں ہے کیونکہ نیچے والا شریك بالاخانہ کا پڑوسی ہے اور اگر بالاخانہ کا راستہ مشترکہ ہو تو وہ بالاخانہ کے حقوق میں بھی شریك ہے اور یوں ہی بالاخانہ کا حصہ دار نیچے والے حصہ کا پڑوسی ہے اگر راستہ بالاخانہ نیچے والی منزل میں سے گزرتا ہو توہ بھی نچلی منزل کے حقوق میں شریك ہو گا لہذا پڑوسی یا حقوق میں شریك کی بنسبت عین مبیع میں شریك کا حق مقدم اور اولٰی ہے۔اور فتاوٰی قاضی خاں میں ہے کہ نچلی منزل والےنے اپناحصہ فروخت کیا تو اوپر والے کو شفعہ کا حق ہے کیونکہ نچلی اور اوپر منزل میں اتصال ہے تو دونوں پڑوسی قرار پائیں گے۔(ت) |
غرض بہر حال بکر جار محض سے زائد نہیں اور عمرو خلیط فی حق المبیع ہے کہ راستہ مکان مبیع کا اس
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع