30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
الجواب:
قطع نظر اس سے کہ وہ فی نفسہ شفیع ہونے کی صلاحیت رکھتاہے۔اور طلب مواثبت واشہاد وغیرہما امور لازمہ جس کے بغیر شفعہ باطل ہوجاتاہے بجالایا یانہیں۔دعوٰی اس کا صو رت مستفسرہ میں راسا باطل ہے کہ بناء محل شفعہ نہیں اور اس میں قصدا وبالذات شفعہ ثابت نہیں ہوسکتا۔
|
کمافی تنویر الابصار وشرحہ الدرالمختار لاتثبت قصدا الا فی عقار لا بناء ونخل اذا بیعا قصدا ولو حق القرار خلافا لما فہمہ ابن الکمال لمخالفتہ المنقول کما افادہ شیخنا الرملی [1]اھ ملخصا،وذکر ہ من قبل فقال فردہ شیخنا الرملی وافتی بعدمہا تبعا للبزازیۃ وغیرھا فلیحفظ [2]۔واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
جیساکہ تنویر الابصارمیں اور اس کی شرح درمختارمیں ہےکہ شفعہ قصدا صرف زمین میں ہوسکتا ہے عمارت او ر کجھور کے درخت میں شفعہ نہیں،جب ان کو قصدا فروخت کیا جائے اگرچہ بشرط قرار فروخت کیا جائے،یہ ابن کمال کے فہم کے خلاف ہے کہ انھوں نے منقول کے خلا ف کہا جیسا کہ ہمارے شیخ رملی نے افادہ کیا اھ ملخصا انھوں نے قبل ازیں ذکر کیا ہے اور کہا کہ ہمارے شیخ رملی نے اس کارد کیا ہے اور عدم شفعہ کافتوٰی بزازیہ وغیرہا کی اتباع میں دیا ہے پس اسے محفوظ کرلو۔ والله تعالٰی اعلم۔(ت) |
مسئلہ ۱۷:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے ایك کوٹھری جس کا صحن مملوك عمرو اور اس صحن میں اس کوٹھری کے اور عــــــہ ہے اور سقف اس کی ملك بکر ہے۔اور اس کی دوجانب بھی مکانات بکر واقع ہیں بکر کے ہاتھ فروخت کی، اس صورت میں شفیع اس کا بکر ہے یا عمرو،اور عمرو کو بدعوی شفعہ وہ کوٹھری مل سکتی ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا
الجواب:
صورت مستفسرہ میں شفیع اس کا عمرو ہے نہ کہ بکر،اور اگر عمرو شرائط شفعہ بجالایا تھا تو بدعوی شفعہ
عــــــہ: اصل میں اس طرح ہے،اغلب یہ ہے کہ عبارت اس طرح ہو"اسی کوٹھری کے برابر ایك کوٹھری اور ہے"عبدالمنان اعظمی ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع