30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
مال الغیر عندنا یتوقف البیع علی اجازۃ المالك [1]۔ |
غیر کا مال فروخت کیا تو ہمارے نزدیك یہ بیع مالك کی اجازت پر موقوف ہوگی۔(ت) |
اب کہ زید خود ہی ان مکانات پر قابض رہا،پھر وہ بالااجازت انتقال کرگیا بیع باطل ہوگئی،یہاں تك کہ وارثان زیدکو بھی اجازت کااختیار نہیں۔
|
فی الہندیۃ اذا مات المالك لاینفذ باجازۃ الوارث [2]۔ |
ہندیہ میں ہے کہ جب مالك فوت ہوجائے تو وارث کی اجازت سے بیع نافذ ہوگی۔(ت) |
درحقیقت نہ بکر ان مکانوں کا مالك ہے نہ اس کے ورثہ نہ خالد خریدار پر ڈگری،بلکہ وہ سب متروکہ زید ہیں،اور ورثائے بکر کو صرف اپنی مقدار قرض کے مطالبہ پہنچتاہے وبس،اور دعوٰی شفعہ فقط عقد مبادلہ میں ہے نہ انتقال بوراثت میں،
|
فی العالمگیریۃ لا تجب الشفعۃ مالیس ببیع ولا بمعنی البیع حتی لا تجب بالھبۃ والصلۃ والمیراث و الوصیۃ [3]۔ |
عالمگیری میں ہے،جب تك بیع یا معنی بیع نہ پایا جائے تو شفعہ لازم نہ ہوگا۔حتی کہ ہبہ،صلہ،میراث اور وصیت میں لازم نہ ہوگا۔(ت) |
پس عمرو کو زنہار استحقاق شفعہ حاصل نہیں،شرع مطہر کا تویہ حکم ہے۔اور حکم نہیں مگر شرع مطہر کے لئے۔والله تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۶:زید ہندو ہے۔اس نے ایك مکان بنایا،ایسی زمین دیہہ میں کہ آبادی او اراضی اس دیہہ کی ملکیت مشترکہ ہےدس بارہ اشخاص کی،اب اس زید مذکور نے صرف اس مکان وبناء سکنی اپنی کو بہ ثمن متعدد ہاتھ ایك شخص کے کہ مکان خاص رہنے اس کے کا تخمینا پچاس قدم کے فاصلہ سے ہے فروخت کیا،مگر راضی داخل بیع نہیں ہے۔صرف عملہ وبناء کوفروخت کیا ہے۔اب بعد انقضائے عرصہ دو ماہ کے منجملہ اور شرکاء کے ایك شریك کہ وبھی پچاس قدم اس مکان مبیعہ سے رہتاہے،بگمان شفیع ہونے کے شفعہ شرعی بربنائے دعوٰی قائم کرتاہے۔ایسی صور ت میں عندالشرع شریف اس عملہ مبیعہ زید ہندو پر شفعہ جائز ہے یانہیں؟ بینوا توجروا۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع