30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ونحوہ فی النہایۃ والذخیرۃ والتتارخانیۃ عن السراجیۃ [1] اھ ملخصا۔واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
اور درختوں وغیرہ میں نہیں ہے۔نہایہ،تاتارخانیہ اورذخیریہ میں سراجیہ سے منقول ہے۔اھ ملخصا۔والله تعالٰی اعلم(ت) |
مسئلہ ۱۵:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے بکر سے(مامہ عہ)روپیہ قرض لئے اور تین مکان رہن کردئے جبکہ مدت گزری ار روپیہ ادا نہ ہوا،بکر نے نالش کرکے مع سود وخرچہ(مالہ لعہ لعہ)کے ڈگری پائی،اس میں تینوں مکان جن کی قیمت کی حیثیت قریب پانسو روپیہ کے تھی،چھیاسٹھ روپیہ میں نیلام ہوگئے،نیلام کارندہ بکر نے خریدا اور بعدہ،اپنے آقا کے لئے خریدا ظاہر کرکے بنام بکر لکھ دیا،بکر نے ان مکانات پر قبضہ نہ کیا،زیدچھ سات برس تك بدستور قابض رہا،اس سے قبل از نیلام خواہ اس کے بعد کبھی کوئی بات ایسی صادرنہ ہوئی جو اس نیلام کے اجازت یارضامندی پر دلیل ہو،یہاں تك کہ دونوں انتقال کرگئے،اور بعد زید وارثان زید قابض ہوئے،اب ورثائے بکر نے نالش کرکے ڈگری دخلیابی حاصل کی،اور ہنوز دخل نہ ہوا تھا کہ ڈگری بدست خالد بیع کردی،اس خالد کو بھی دخل نہیں ملا ہے۔اس صورت میں عمرو حویلی مذکور کا شفیع مدت دخل یابی خالد شفعہ طلب کرسکتاہے یانہیں،اور اگر خالد اپنی ڈگری ضائع کردے اورحق دخلیابی سے بعوض یا بلاعوض دستبردار ہوتو شفیع کے حق شفعہ کی کیا حالت ہوگی؟ بینوا توجروا
الجواب:
صور ت مستفسرہ میں ان مکانات پر ہر گز کسی طرح دعوٰی شفعہ نہیں پہنچتا کہ شفعہ کے لئے مکان کا ملك مالك سے خارج ہونا ضروری ہے۔
|
فی ردالمحتار فی الفتاوٰی الصغرٰی الشفعۃ تعتمد زوال الملك عن البائع [2] الخ۔ |
ردالمحتار میں فتاوٰی صغرٰی سے منقول ہے۔شفعہ کامدار بائع کی ملکیت کا زوال ہے۔الخ(ت) |
اوریہاں وہ مکانات شرعا ملك زید سے خارج نہ ہوئے،یہ بیع نیلام جو بلااجازت واقع ہوئی غیر مالك کی بیع تھی جسے شرع میں بیع فضولی کہتے ہیں،اور وہ اجازت مالك پر موقوف رہتی ہے۔
|
فی فتاوٰی الامام قاضی خاں اذا باع الرجل |
امام قاضی خاں کے فتاوٰی میں ہے جب بائع نے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع