30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
درمختارمیں ہے:
|
ثم یشہد علی البائع لو العقار فی یدہ اوعلی المشتری وان لم یکن ذاید [1] باختصار،واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔ |
اگر زمین بائع کے قبضہ میں ہو تو وہاں گواہی قائم کرے یا مشتری کے پاس گواہ بنائے اگر چہ زمین اس کے قبضہ میں نہ ہو باختصار،والله سبحانہ وتعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔(ت) |
(۲)کل کو کہ جب احاطہ واحد،دروازہ واحد ہے تو وہ دار واحد ہے۔ہدایہ میں ہے:
|
الداراسم لما ادیر علیہ الحدود [2]۔ |
جس دائرہ پر حدود قائم کی گئی ہیں اس کو دار کہتے ہیں۔(ت) |
اورواحد کے کسی ٹکڑے سے جسے اتصال ہو وہ کل دار کا شفیع ہے،حتی کہ اگر ایك شخص صرف ایك جانب بقد ایك بالشت کے اتصال رکھتاہو اور دوسرا تینوں جانب بروجہ کمال تو دونوں شفعہ میں برابر ہیں۔ ردالمحتارمیں ہے:
|
الملاصق من جانب واحد ولو بشبر کالملاصق من ثلثۃ جوانب،فہما سواء اتقانی[3]۔ |
ایك جانب سے اتصال اگر چہ ایك بالشت ہو تو وہ باقی تین اطراف والے سے اتصال کے برابر ہے اتقانی(ت) |
یہاں تك کہ اگر دارواحد اپنے جمیع منازل کے ساتھ شخص واحد کے ہاتھ بیچے،اور شفیع چاہےکہ بذریعہ شفعہ ان میں سے صرف وہ منزل لے جس سے اس کا مکان متصل ہے۔تو ہر گز اجازت نہ دیں گے،اگرچہ بیچنے والے جدا جدا ہوں بلکہ کل لے یا کل ترك کرے۔عالمگیری میں ہے:
|
ان اراد الشفیع ان یاخذ بعض المشترٰی دون البعض وان یاخذ الجانب الذی یلی الدرار دون الباقی لیس لہ ذٰلك بلا خلاف بین اصحابنا،ولکن یاخذ الکل اویدع، |
ایك غیر ممتاز مبیع میں سے شفیع بعض حصہ کو لینا چاہے اور کچھ چھوڑنا چاہے اور اپنے دار سے متصل حصہ کو شفعہ میں لینا اور باقی کو چھوڑنا چاہے تو اس کو یہ اختیار نہیں،اس میں ہمارے اصحاب کا کوئی اختلاف نہیں،لیکن وہ سب کو لے یا سب کو |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع