30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
وان شاء اخذ کلہا بالبیع الثانی [1] |
اورچاہےدوسرے سودے پر پور امکان شفعہ کے ذریعہ حاصل کرلے۔(ت) |
اسی میں ہے:
|
قدبطل حق الشفیع الحاضر بالشراءلکون الشراء دلیل الاعراض [2]۔واﷲ سبحانہ وتعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔ |
حاضر شفیع نے اپنا حق شفعہ خریداری کی وجہ سے باطل کرلیاکیونکہ خریدنا شفعہ سے اعراض کی دلیل ہے۔والله سبحانہ وتعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔ (ت) |
مسئلہ ۸ تا ۱۲: کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں:بینوا توجروا
(۱)بعد علم بیع قبل قبضہ کرنے مشتری کے شیئ مبیع پر دعوٰی شفعہ ہوسکتاہے یانہیں؟
(۲)ایك شخص کے احاطہ واحد ہ میں چند منازل ہیں جن کا دروازہ ایك ہی ہے اور حدودا ربعہ اس کی ایك ہی ہیں،اس احاطہ کے ایك طرف زید کا مکان ملحق ہے۔اب یہ کل مکان بیع کیاجائے،تو آیا اس صورت میں زید اس قطعہ کو بذریعہ شفعہ لے سکتاہے،جو اس کے مکان سے متصل ہے یا کل مکان کو۔
(۳)جس محلہ میں رواج شفعہ نہ ہو وہاں شرعا دعوٰی شفعہ ہوسکتاہے یا نہیں؟
(۴)اگر قبل بیع ہمسایہ خریداری سے انکار کرے۔پھر بعد بیع دعوٰی شفعہ کرے تو مسموع ہوگا یا نہیں؟
(۵)اگر شفیع مشتری کی طرف سے وکیل خریدنے کا ہو تو اس کا شفعہ قائم رہے گایا نہیں؟
الجواب:
(۱)شفعہ بمجرد بیع ثابت ہوتاہے۔قبضہ مشتری کی حاجت نہیں۔ہدایہ میں ہے:
|
یشہد علی البائع ان کان المبیع فی یدہ معناہ لم یسلم الی المشتری [3]۔ |
اگر مبیع زیرقبضہ بائع ہو تو وہاں گواہی قائم کرے اس کا معنی یہ ہے کہ ابھی مشتری کو نہ سونپا ہو۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع