30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بہر حال حامد حسن اس تمام زمین مبیع کو مع اس کے جو اس مبیع پر قائم اورا س بیع میں داخل ہے بذریعہ شفعہ لے سکتاہے عملہ جب اپنی زمین کے ساتھ بیع میں آئے تو بالتبع وہ بھی محل شفعہ ہوجاتاہے۔ردالمحتارمیں ہے:
|
خرج البناء والاشجار فلا شفعۃ فیہا الا بتبعیۃ العقار وان بیع بحق القرار،درمنتقی [1]۔واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
عمارت اور درخت خارج ہوگئے تو ان میں شفعہ نہ ہوگا بغیر زمین کے تابع بنے،اگرچہ قرار وبقاء کی شرط پر فروخت کئے ہوں درمنتقی،والله تعالٰی اعلم۔(ت) |
مسئلہ ۷: ۳ شوال ۱۳۱۰ھ
علمائے دین ومفتیان شرع متین کیا فرماتے ہیں اس صورت میں کہ ملوخاں نے ایك قلعہ حویلی معہ اراضی جس کے شمال میں ملحق حویلی محمد خاں،جنوب میں ملحق رفیع الدین کی ہے۔کلن خاں اور علی حسن خان شخص غیر کے ہاتھ بیع کردی،اور اس کی خبر پاکر محمد خان ورفیع الدین ہمسایہ بائع مستدعی شفعہ ہوئے،چنانچہ کلن خاں وعلی حسن خان مشتری حال نے حسب دعوٰی شفعہ محمد خاں کے نام بیعنامہ لکھ دیا،رفیع الدین نے نالش شفعہ کی ہے۔پس رفیع الدین مدعی بذریعہ شفعہ بمقابلہ محمد خاں مشتری شفعہ کے کامیابی شرعا حاصل ہوسکتاہے،یادونوں شفیعوں کو قطعہ مشفوعہ تقسیم ہوسکتاہے تو کس مقدار سے یعنی مساوی یا کم وبیش ؟ بینوا توجروا
الجواب:
صورت مستفسرہ میں رفیع الدین کل مکان مشفوع بذریعہ شفعہ محمدخاں سے پائے گا کہ محمد خاں کا اس کو مشتری اول سے خریدنا اس کے ملك کو تسلیم کرنا ہے اور اس کی ملك تسلیم کرنا بیع اول کے تسلیم شفعہ سے اعراض،اورشفعہ سے اعراض حق شفعہ کا مسقط،تو محمد خاں اس مکان کا شفیع نہ رہا اور رفیع الدین کا استحقاق باقی،لہذا وہ کل مکان محمدخان سے لے سکتاہے۔ فتاوٰی عالمگیری میں ہے:
|
لوکان الشفیع الحاضر اشتری الدار من المشتری ثم حضر الغائب فان شاء اخذ کل الدار بالبیع الاول، |
ایك حاضر شفیع نے مشتری سے مکان خریدلیا،پھر دوسرا شفیع جو غائب تھا حاضر ہوگیا تو اس کو اختیار ہے چاہے تو پورا مکان پہلے سودے پر |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع