30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
فیحکم بہا فیما تثبت فیہ اداء لحق العبد کذا فی درر البحار وشرح المجمع اھ[1] واﷲ سبحانہ وتعالٰی اعلم۔ |
میں بندے کا حق ہونے کی وجہ سے پورے سودے پر شفعہ کا حکم ہوگاکہ بندے کاحق ادا ہوسکے،جیسا کہ درالبحاراور شرح المجمع میں ہے اھ،والله سبحانہ وتعالٰی اعلم۔(ت) |
مسئلہ ۶: از بدایوں شیخ حامد حسن صاحب وکیل ۹ رمضان المبارك ۱۳۰۷ھ
بدایوں سے دوبارہ یہ سوال بعبارات طوال آیا جس کا خلاصہ یہ کہ کل مکان ۲۰۲ گز کا ظاہر کیا گیا ہے اوربیع اول بدست حامد حسن مین سے ======== گز نکل کر(ما عہ عہ)گز باقی تھا،اس میں سے منجملہ(ماعہ عہ)گز کے(لہ لعہ ۱۴ گرہ)گز شمالی کہ بروئے تقسیم خانگی حق مینڈھو ٹھہری،مینڈھو نے بایں حدودمعینہ بدست حامد حسن بیع کی اراضی آبچك زمین مبیعہ مملوکہ مقروبردار مقروبعد مکان سعد الله وغیرہ۔
غربی جنوبی شمالی
راستہ اراضی عظیم الله اراضی مشریہ حامد حسن
پھر باقی بدست وزیر الدین بیع ہوئی،اس مکان اور مکان وزیر الدین کا پانی اپنی اپنی خاص آبچکوں میں ہوکر شرقی مکانوں کے صحن مملوکہ سعد الله وغیرہ میں ملتاہے۔اور وہاں یہ دونوں پانی اور ان مکانوں کے پانی سب ایك ہوکر اسی صحن مملوك کے دروازے سے نکل کر راہ میں گزر جاتے ہیں،اس صور ت میں وزیر الدین کو دعوی شرکت فی حقوق المبیع ہے۔اورحامد حسن شفیع کو بدیں وجہ کہ کوئی تمیز خارجی نہیں دعوٰی شرکت فی نفس المبیع ہے،پس شرعا کیاحکم ہے۔اور عملہ کہ اس مبیع بارسوم پر قائم اور بیع میں داخل ہےشفعہ میں داخل رہے گایانہیں؟ بینوا توجروا
الجواب:
صورت مستفسرہ میں حامدحسن کو حق شفع حاصل ہے۔اور وزیر الدین کو اس کے مقابل کوئی استحقاق مزاحمت نہیں کہ اگر چہ زمین کا محمدود بحدود معینہ ہونا ہی اس کے امتیاز وابطال شیوع کےلئے بس ہے۔جس قطعہ کا آغاز وانجام جدا بتاسکیں وہ مشاع کب ہوا،مگر از انجا کہ ہنوز مکان میں حدیں فاصل نہ پڑیں،دیواریں نہ کھنچیں،راہیں نہ پھریں،صرف ذہنی امتیازات ہیں،تو حامد حسن کو بیع میں ایك اعلٰی درجہ کا حق خلیط فی حقوق المبیع حاصل ہے۔اوریہ استحقاق اس کے لئے اسی وقت سے ثابت ومسلم تھا جب سے اس نے == گز کا پہلا قطعہ خریدا،ردالمحتارمیں ہے:
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع