30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اسی میں ہے:
|
مشتری الذراع صارشریکا فی الحقوق فیقدم علی الجار کما قدمناہ [1]۔ |
باقیماندہ گزمیں مشتری حقوق کا شریك ہوگیا لہذا وہ پڑوسی پر مقدم ہوگا،جیسا کہ پہلے گزرا۔(ت) |
پس حامد حسن نے جس وقت پہلا قطعہ ===== گزبتعیین سمت ومقدار خریداباقی تمام زمین مملوکہ مینڈھو وعظیم الله میں خلیط فی الحق ہوگیا،اسی طرح دوسرے بار کی خریداری نے اس کا بھی استحقاق قائم رکھا،اور جبکہ وہ مکان مع آبچك وغیرہ بتمامہ قطعہ واحدہ ہے،تو اس کے مجموع سے حق حامد حسن متعلق ہوا،جس سے کسی جز کو مستثنٰی ماننےکی کوئی وجہ نہیں کما لا یخفی علی احد(جیسا کہ کسی پرمخفی نہیں ہے۔ت)اور خلیط فی الحق جار محض پر شرعا مقدم کہ جار خریدے تو یہ بذریعہ شفعہ اس سے سب پرواپس لے سکتاہے۔کما فی الکتب قاطبۃ(جیسا کہ معتبر کتب میں ہے۔ت)عالمگیری میں ہے:
|
یراعی فیہا الترتیب فیقدم الشریك علی الخلیط، والخلیط علی الجار[2]۔ |
اس میں ترتیب کی رعایت ہوگی تو شیریك مقدم ہوگا خلیط پر،اور خلیط مقدم ہے پڑوسی پر۔(ت) |
پس ثابت ہوا کہ جس قدر زمین آبچك وغیرہ آبچك بدست وزیر الدین جار محض بیع کی گئی تمام وکمال حامد حسن شفیع خلیط فی حق المبیع کو بذریعہ شفعہ ملنی چاہئے،اگر وہ شرائط طلب کما ینبغی بجالایا ہو،اور عملہ اگر چہ جب اپنی زمین سے بیچا جائے محل شفعہ نہیں،شرح المجمع علامہ ابن ملك میں ہے:
|
وبیع النخل وحدہ اوالبناء وحدہ فلا شفعۃ لانہما الاقرار لہما بدون العرصۃ [3]۔ |
کھجور کے درخت کی علیحدہ یا عمارت کی علیحدہ بیع میں شفعہ نہیں کیونکہ زمین کے بغیر ان کو قرار حاصل نہیں ہے۔(ت) |
مگر اس کابیع میں داخل ہونا زمین میں استحقاق شفعہ کا مانع نہیں،ردالمحتارمیں ہے:
|
الصفقۃ وان اتحدت فقد اشتملت علی مافیہ الشفعۃ، وعلی مالیست فیہ |
سودا ایك ہواور وہ ایسے حصوں پرمشتمل ہو کہ بعض شفعہ ہو سکتاہے اوردوسرے بعض میں نہیں ہوسکتا تو شفعہ والے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع