دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 20 | فتاوی رضویہ جلد ۲۰

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۲۰

سے جانب شمال ہے۔لہذا باستثنائے آبچك بیع کی)اس(لہ لعہ ۱۴ گرہ)گز منجملہ اس(لعہ للعہ)گز کے بھی شامل ہے جو خاص مشریہ مینڈھو تھی،اور یہ کل تعدادی(ما سہ لعہ)گز اس وقت تك بلا کسی حد فاصل کے ہے،نقشے میں جہاں جہاں نقطے دئے گئے ہیں وہاں کوئی دیوار یا حد نشان نہیں صرف تعیین سمت و مقدار گز کے اسے ایك ذہنی امتیاز ہے۔یہم قطعہ زمین سے جسے آبچك کہا جاتاہے یہ بھی بلا کسی حد فصل کے مجموعہ مکان کا ایك غیر متمیز ٹکڑا ہے جسے بے پیمائش کے تعین نہیں کرسکتا،غرض کل مکان قطعہ واحدہ ہے۔اس میں سے بقیہ(للعہ ۲ گرہ)گز جنوبی وکل آبچك و عملہ واقعہ مشریہ حامد حسن کو مینڈھوو عظیم الله نے بدست وزیر الادین ہمسایہ جنوبی بیع کیا،اس مکان او ر مکان وزید الدین مشتری کے بیچ میں ایك دیوار خاص مملوك وزیر الدین فاصل ہے۔دونوں مکان کی راہیں جانب غرب شارع عام میں ہیں۔اور دونوں کی آبچکیں اپنی اپنی خاص زمین میں جانب مشرق ہیں،دونوں کاپانی اپنی خاص زمین میں ہوتاہوا شرق مکانات مختلفہ میں گزر جاتاہے۔فرمائیے کہ ایسی صورت میں اراضی مبیعہ حامدحسن کو حق شفیع خلیط ہے یانہیں؟ اور شرعا اس استحقاق سے وہ کل زمین حامد حسن کو ملنا چاہئے یانہیں؟ بینوا توجروا

الجواب:

صورت مستفسرہ میں وزیر الدین ا س مکان مینڈھو وغیرہ کا جارمحض ہے کہ نہ اسے کوئی شرکت نفس مبیع میں،نہ حق مبیع میں، اور تقریر ونقشہ سوال سے ظاہرکہ آبچك کی زمین بھیج باہم مشترك نہیں،بلکہ دونوں آبچکیں ایسے مختلف مکانوں کے جداگانہ ٹکڑے ہیں جن میں ایك کا کوئی حق دوسرے سے متعلق نہیں،صرف اتصال ہی اتصال ہے توجوار سے زیادہ اسے کوئی استحقاق نہیں،نفی خلط کے لئے بیچ میں دیوارہی ہونا ضروری نہیں کہ اراضی آبچك میں جہاں دیوارنہیں شرکت وخلط مانیں،بلکہ مجرد و تعیین وامتیاز کافی ہے۔عالمگیریہ میں ہے:

اذا کان نہر علاہ لرجل واسفلہ لرجل فاشترٰی رجل نصیب صاحب اعلی النہر فطلب اسفل النہر الشفعۃ فالشفعۃ لہ بالجوار وکذٰلك لواشتری رجل نصیب اسفل النہر فالشفعۃ لصاحب الاعلی بالجوار،کذا فی المبسوط [1]اھ ملخصا۔

اگرایسی نہر ہو کہ اس کا اوپر والا حصہ ایك شخص کو اور نیچے والادوسرے کا ہو تو کسی آدمی نے اوپر والے کا حصہ خرید لیا تو نیچے والے کو شفعہ کے مطالبہ کاحق ہے اس کا یہ شفعہ پڑوسی والا ہوگا،اوریونہی اگر کسی نے نیچے والے کاحصہ خریدا ہو تو اوپر والے کا شفعہ ہو تو وہ شفعہ پڑوسی والاہوگا۔مبسوط میں یوں ہے اھ ملخصا(ت)

 


 

 



[1] فتاوٰی ہندیۃ کتاب الشفعۃ الباب الثانی نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۱۷۱

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن