30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
وغیرہ عن جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالٰی عنہما۔ |
اور دیگر نے حضرت جابر بن عبدالله رضی الله تعالٰی عنہما سے روایت کیا ہے۔(ت) |
فتاوی عالمگیریہ میں ہے:
|
اذا اقتسما الارض وخطا خطا فی وسطہا ثم اعلی کل منہما شیئا حتی بنیا حائطا،فکل منہما جارلصاحبہ فی الارض [1]۔ |
جب دو شریکوں نے زمین تقسیم کرلی اور درمیان میں خط کھینچ لیا پھر دونوں نے کچھ خرچہ کرکے دیوار بنادی تو دونوں ایك دوسرے کے پڑوسی قراراپائیں گے،(ت) |
غرض اگلے وقتوں کی شرکت پر اب دعوٰی حق خلط کرنا عجب دعوی ہے جس کا بطلان ہر ذی عقل پر ظاہر۔فضلا عن ذی فضل۔ واﷲ سبحنہ وتعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۵: از بدایوں مِردی ٹولہ شیخ حامد حسن وکیل ۱۶ رجب ۱۳۰۷ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مینڈھو وعظیم الله کا مکان(ما صہ للعہ)گز کا ہے جس میں جانب شمال(ما مہ للعہ۹گرہ)ان کی موروثی اور(لعہ للعہ ۷ گرہ)جنوبی خاص مشتریہ مینڈھو ہے جو اسے بذریعہ شراء بعد تقسیم نیاز احمد ملی تھی، مینڈھو عظیم الله نے منجملہ مکان تعدادی(ماصہ لعہ)گز کے===== گز کے زمین جانب شمال میں باستثنائے آبچك شرقی وعلمہ بدین تعینین کہ شرقا غربا(عہ عہ)گزرا اور جنوبا شمالا ہے گز بدست حامد حسن بیع کی(ما عہ عہ)گز منجملہ مکان باقی رہی،اس بقیہ(ما عہ سہ)گز سے(لہ لعہ ۱۴ گرہ)گز اراضی شمالی تنہا مینڈھو نے بایں الفاظ بدست حامد حسن مذکور بیع کی کہ منجملہ(ما عہ سہ گز کے لعہ ۱۴ گرہ)گز میری اراضی بروئے تقسیم خانگی باہمی اراضی عظیم الله
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع