30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اورہبہ مجردہیں اگرچہ شفعہ نہیں،مگر مشتری بوجہ ہبہ خواہ کسی طریقہ اتنقال کے حق شفیع کو ساقط نہیں کرسکتا کہ اس کا دعوٰی شفعہ بربنائے بیع ہے۔جو مالك اول نے اس مشتری کے ہاتھ کی،نہ بربنائے اس ہبہ کے جو یہ مشتری دوسرے کے لئے کرتاہے،ایسی حالت میں شفیع کو اختیار ہوتاہے کہ مشتری کے تمام تصرفا ت کو ردکردے اور مبیع بذریعہ شفعہ لے لے۔
|
فی الدرالمختار ینقض الشفیع جمیع تصرفاتہ ای المشتری حتی الوقف والمسجد والمقبرۃ والھبۃ زیلعی وزاھدی [1]۔ (جواب نامکمل ملا) |
درمختار میں ہے کہ شفعہ حاصل کرلینے کے بعد شفیع مشتری کے تمام تصرفات ختم کردے گا حتی کہ وقف،مسجد،مقبرہ اورہبہ تك کو توڑ دے گا،زیلعی وزاہدی(ت) |
مسئلہ ۴:۱۶ رجب ۱۳۰۷ھ از بدایوں مِردہی ٹولہ شیخ حامد حسن صاحب مختار

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ا س مسئلہ میں کہ مکان تعدادی(ما سہ للعہ ۹گرہ)جانب شمال مینڈھو عظیم الله کا تھا۔اس کےجانب جنوب رحمو کا مکان تعدادی(صہ للعہ ۵ گرہ)کا،اس سے جنوب کو نیاز احمد کا مکان تھا،رحمو کامکان مینڈھو ونیاز احمد نے خرید کیا،اورباہم تقسیم ہوگئی(لعہ للعہ ۷ گرہ)اراضی شمال مینڈھو کو ملی،اس نے اپنے مکان شمال میں شامل کرلی اب مینڈھووعظیم الله کا مکان(ما سہ لعہ)علاوہ آبچك کے ہوگیا،اور(مہ لعہ ۱۴گرہ)جنوبی نیاز احمدکوملی،اس نے اپنے مکان جنوبی میں ملا لی نیاز احمد اپنامکان جس میں اراضی مشتری یہ بھی شامل تھی بدست وزیرالدین بیع کردیا،تخمینا دس برس ہوئےکہ وزیر الدین مشتری نے ہر چہار سمت سے بطور خود اپنا پختہ مکان تعمیرکرلیا،فرمائےکہ جب تقسیم ہوکر تین مکان سے دو مکان ہوگئے،او ردرمیان میں دیوار موجود ہے اور کوئی شرکت دیوار میں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع