30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نہیں اوراگر زوجہ کو بلاعوض ہبہ مجرد کردے تو شفعہ ہے یانہیں؟ بینوا توجروا
الجواب:
اگر بعوض مہر بیع کی یا ہبہ بالعوض کیا،یعنی یوں کہا یہ مکان میں نے بعوض تیرے مہر کے تجھے دیا،اور زوجہ نے قبول کیا تو شفعہ لازم ہے۔اگر چہ مکان قبضہ زوجہ میں نہ آیا ہو۔
|
لان الشفعۃ تعتمد زوال الملك عن المالك والملك فی البیع الصحیح یزول بمجرد العقد من دون توقف علی القبض والھبۃ بعوض بیع ابتداء وانتہاء،کما فی الہدایۃ [1] والدرالمختار [2]وغیرھما من الاسفار۔ |
کیونکہ شفعہ کا مدار مالك سے ملکیت کے زوال پر ہے جبکہ صحیح بیع میں عقد بیع سے ہی ملکیت زائل ہوجاتی ہے۔مشتری کے قبضہ پر موقوف نہیں ہوتی،اور ہبہ بالعوض ابتداءً اور انتہاءً بیع ہےجیسا کہ ہدایہ اوردرمختار وغیرہما کتب میں ہے۔(ت) |
اور اگر ہبہ بشرط العوض کیا یعنی یوں کہا کہ یہ مکان میں نے تجھے ہبہ کیا بشرطیکہ تو مجھے مہر ہبہ کردے،اور زوجہ نے مہر بخش دی،تو شفعہ ثابت نہ ہوگا،جب تك مکان قبضہ زوجہ میں نہ آجائے،جب باذن شوہر زوجہ قبضہ کاملہ کرے گی،اس وقت شفیع کا شفعہ ثابت ہوگا۔
|
لانہا ھبۃ ابتداء فلا یزول الملك الا بالقبض،فاذا وجد القبض عادت بیعا،فتثبت الشفعۃ۔ |
کیونکہ یہ ابتداء ہبہ ہے لہذا ہبہ میں قبضہ کے بغیر واہب کی ملکیت زائل نہ ہوگی،تو جب قبضہ پایا جائے گا تو ہبہ بیع بن جائے گا تو شفعہ ثابت ہوجائے گا۔(ت) |
اور اگر ہبہ مجرد کیا تو اصلا شفعہ نہیں،
|
فی الہدایۃ لا شفعۃ فی ھبۃ الا ان تکون بعوض مشروط لانہ بیع انتہاءً ولا بد من القبض وان لا یکون الموھوب ولا عوضہ شائعا لانہ ھبۃ ابتداءً [3]۔واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
ہدایہ میں ہے ہبہ میں شفعہ نہیں ہوتا مگر جب وہ عوض کے ساتھ مشروط ہوکیونکہ ایسی صورت میں وہ انتہاء بیع قرا ر پاتاہے تو قبضہ ضروری ہے۔اور موہوب اور اس کاعوض شائع نہ ہو کیونکہ یہ ابتداء ہبہ ہے۔والله تعالٰی اعلم۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع