30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ووقعت فیہ نجاسۃ ثم انبسط ذلك الماء وصار عشرا فی عشر کان نجسا والعبرۃ فی ھذا لوقت وقوع النجاسۃ [1] اھ ومثلہ فی الخلاصۃ ، وفی الدرر عن التتارخانیۃ عن الظھیریۃ وفی غیرھا والثانی تغیر مساحتہ لزیادۃ فیہ اونقصہ کان یکون فی غدیر بطنہ اکثر انحدارا من حافاتہ کما وصفنا من نصف الدائرۃ اعلاہ عشر فی عشر ثم لم یزل یقل فاذا کان ممتلئا کان کثیرا لایقبل النجاسۃ فاذا(۱)وقعت واخرجت وقل الماء بالاستعمال اوبحر الصیف حتی یبس فی الاطراف وبقی فی بطنہ اقل من عشر فی عشر کما ھو مشاھد فی کثیر من الغدران لم یعد نجسا لانہ کان حین وقعت کثیرا وان(۲)جف ماؤہ وبقی فی وسطہ قلیلا وعند ذلك وقع فیہ نجس ثم دخلہ الماء حتی امتلأ وصار کثیرا غیر انہ لم یفض من جوانبہ کی یطھر بالجریان فانہ یبقی کما کان نجسا لمامرو ھذا مافی المنیۃ کما تقدم ، وفی الخانیۃ حوض اعلاہ عشر فی عشر واسفلہ اقل منہ جاز فیہ الوضوء یعتبر فیہ وجہ الماء فان قل ماؤہ وانتھی الی موضع ھو اقل من عشر لایجوز فیہ الوضوء[2] و
کے گرنے کے وقت کا ہے اھ اور اسی قسم کا کلام خلاصہ میں ہے ، اور دُر میں تتارخانیہ سے ظہیریہ وغیرہ سے منقول ہے اور دوسرا یہ کہ پانی کی پیمائش میں تغیر آجائے اس میں کمی یا زیادتی کے باعث مثلاً یہ کہ اُس کے گڑھے میں پانی کا بہاؤ بہ نسبت کناروں کے زائد ہو جیسا کہ ہم نے بیان کیا ، یعنی دائرہ کا نصف جس کا بالائی حصہ دہ در دہ ہو پھر برابر کم ہوتا گیا ، اور جب بھرا ہوا ہو تو زائد ہوگا نجاست کو قبول نہ کریگا اور جب نجاست گر جائے اور نکال لی جائے اور پانی استعمال کی وجہ سے کم ہوجائے یا گرمی کے باعث اُس کے کنارے خشك ہوجائیں اور اس کے گڑھے میں دہ در دہ سے کم رہ گیا ہو جیسا کہ بہت سے گڑھوں سے مشاہدہ ہوتا ہے تو وہ نجس نہ ہوگا کیونکہ جب نجاست اُس میں گری تھی تو وہ زائد تھا اگر حوض کا پانی خشك ہوجائے حتی کہ اس وسط میں تھوڑا سا پانی باقی رہے اور اس وقت نجاست گر جائے پھر پانی داخل ہو حتی کہ وہ بھر جائے اور پانی کثیر ہوگیا مگر پانی اس کے کناروں سے نکلا نہیں ورنہ وہ پانی کے بہاؤ سے پاك ہوجاتا اب وہ حسب سابق نجس ہی رہے گا اس کی دلیل گزری اور یہ منیہ میں ہے جیسا اور خانیہ میں ہے کہ ایك حوض جس کا بالائی حصہ دہ در دہ ہے اور نچلا اس سے کم ہے ، اس سے وضو جائز ہے ، اور اس میں پانی کی سطح کا اعتبار ہوگا ، اور اگر اس کا پانی کم ہو اور وہ ایسی جگہ پہنچ جائے جو دہ در دہ سے کم تر ہو تو اس میں وضو جائز نہیں ، محقق نے فتح میں فرمایا کہ کوئی نجاست دہ در دہ حوض میں گری اور پھر پانی کم ہوگیا تو وہ طاہر ہے اور جب
قال المحقق فی الفتح سقطت نجاسۃ فی عشر فی عشر ثم صار اقل فھو طاھر واذا تنجس حوض صغیر فدخل ماء حتی امتلأ ولم یخرج منہ شیئ فھو نجس[3] اھ وفی الغنیۃ الحاصل ان الماء اذا تنجس حال قلتہ لایعود طاھرا بالکثرۃ وان کان کثیراقبل عـــہ اتصالہ بالنجاسۃ لایتنجس بھا ولو نقص بعد سقوطھا فیہ حتی صار قلیلا فالمعتبر قلتہ وکثرتہ وقت اتصالہ بالنجاسۃ سواء وردت علیہ او ورد علیھا ھذاھو المختار [4] اھ وبینہ فی التبیین باوجز لفظ فقال(۱)العبرۃ بحالۃ الوقوع فان نقص بعدہ لایتنجس وعلی العکس لایطھر [5] اھ فالامام ملك العلماء رحمہ الله تعالٰی ذکر الفصل الاول عن الامام ابی بکر الاسکاف الا تری الی قولہ ثم بسط ماؤہ وقولہ المبسوط ھو الماء النجس وقولہ المجتمع ھو الماء الطاھر فقولہ قل ای مساحۃ لاقدرا یقطع بہ تعبیرہ بالمجتمع وذکر الفصل الثانی من قولہ ولو وقع فی ھذا القلیل عن الامام
چھوٹا حوض ناپاك ہوگیا اور پھر اس میں پانی بھر گیا اور اُس سے کچھ باہر نہ نکلا تو وہ حوض اس نجاست سے ناپاك ہوگا اھ
اور غنیہ میں ہے ، خلاصہ یہ ہے کہ پانی جب کمی کی حالت میں ناپاك ہوگیا تو کثرت کی حالت میں پاك نہ ہوگا ، اور اگر اتصالِ نجاست کے وقت زائد تھا تو نجاست سے نجس نہ ہوگا اوراگر نجاست کے گر جانے کے بعد کم ہوا تو معتبر اس میں پانی کی قلّت وکثرت ہے جبکہ اس میں نجاست گری تھی خواہ نجاست پانی پر وارد ہوئی ہو یا پانی نجاست پر وارد ہوا ہو یہی مختار ہے اھ ،
تبیین میں اسی کو بہت مختصر عبارت سے بیان کیا ہے فرمایا ، اعتبار وقوع کی حالت کا ہے تو اگر اس کے بعد کم ہوا تو ناپاك نہ ہوگا اور اگر برعکس ہے تو پاك نہ ہوگا اھ امام ملك العلماء رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے پہلی فصل امام ابو بکر الاسکاف سے نقل کی اس کے قول ثم بسط ماؤہ اور ان کا قول مبسوط وہ نجس پانی ہے اور
ان کا قول مجتمع وہ پاك پانی ہے ، کی طرف غور کریں تو ان کا قول قَلَّ یعنی پیمائش کے اعتبار سے نہ کہ مقدار کے اعتبار سے جس کو وہ مجتمع سے تعبر کرتے ہیں اور دوسری فصل کو “ ولو وقع فی ھذا القلیل “ سے ذکر کیا یہ امام ابو القاسم الصفار سے منقول ہے ، اور اس لئے
عـــہ : اقول : الاولی حین کما لایخفی اھ منہ غفرلہ ۔ (م)
میں کہتا ہوں قبل کی بجائے لفظ حین کا استعمال بہتر ہے اھ(ت)
ابی القاسم الصفار ولذا قال عـــہ عاودہ الماء حتی امتلأ ولیست مقالۃ ابی بکر ماخوذۃ فی مقالۃ ابی القاسم رحمھما الله تعالٰی وان کان یوھمہ زیادۃ ھذا فی ھذا القلیل وکذا قولہ ثم عاودہ وقولہ حتی امتلأ فان ھذا شأن حوض کبیر نقص ماؤہ فبقی فی موضع قلیل ولم یمر لہذا ذکر سابقا لان الناقص لایقال لہ المجتمع (۱)فالاشارۃ وقعت غیر موقعہ وثانیا علی تسلیمہ فلاشك ان کلامہ فی الصورۃ الثانیۃ من الصور الاربع اعنی الاختلاف صفۃ مع الاتحاد صورۃ دون الرابعۃ التی فیھا کلامنا یقطع بہ تعلیلہ کلما دخل الماء صار نجسا مع قولہ ولم یخرج منہ شیئ کما ستعرفہ ان شاء الله تعالی والله تعالٰی اعلم
فرمایا اس میں پانی لوٹا یہاں تك کہ حوض بھر گیا اور ابو بکر کا مقالہ ابو القاسم کے مقالہ میں ماخوذ نہیں ہے اگرچہ ھذا القلیل میں ھذا کی زیادتی ہے اور اسی طرح ان کے قول ثم عاودہ اور ان کے قول حتی امتلأ سے یہ وہم پیدا ہوتا ہے کیونکہ یہ بڑے حوض کا حال ہے جس کا پانی گھٹ گیا ہے اور کم جگہ میں رہ گیا اور اس کا ذکر شروع میں نہیں ہے ، کیونکہ ناقص کو مجتمع نہیں کہا جاتا ہے تو اشارہ بے موقع ہے ،
اور ثانیاً اگر اس کو تسلیم کر لیاجائے تو اس میں شك نہیں کہ ان کا کلام چار صورتوں میں سے دوسری صورت میں ہے ، میری مراد یہ ہے جب صفت میں اختلاف اور صورت میں اتحاد ہو ، یہ چوتھی صورت نہیں ہے جس میں ہماری گفتگو ہے ، جس کی تعلیل قطعی یہ ہے ، جب بھی پانی داخل ہوگا تو نجس ہوجائیگا پھر ساتھ ہی یہ قید بھی لگاتے ہیں کہ اس سے کوئی چیز نکلی نہ ہو جیساکہ آپ اِن شاء الله تعالٰی پہچان لیں گے۔ (ت)
سوال۵۳ پنجم :
اسی صورت میں پانی حصّہ زیریں قلیل میں تھا اور اس وقت نجاست پڑی اور اُسے نکال کر یا بے نکالے بھر دیا گیا یا بارش وسیل سے بھر گیا کہ آب کثیر ہوگیا تو اب بھی اوپر کا حصہ پاك ہے یا نہیں اور حصہ زیریں کا کیا حکم ہے بینوا توجروا۔
الجواب :
یہاں اکثر کتب میں منقول تو اس قدر ہے کہ اگر بھر کر اُبل گیاکہ کچھ پانی باہر نکل گیا جب تو پاك ہوگیا کہ جاری ہولیا
عـــہ فافاد زیادۃ القدر دون المساحۃ فقط اھ منہ غفرلہ۔ (م)
اس نے مقدار کی زیادتی کا فائدہ دیا ہے صرف پیمائش کا نہیں اھ(ت)
[1] فتاوی قاضی خان فصل فے الماء الراکد نولکشور لکھنؤ ۱ / ۴
[2] فتاوی قاضی خان فصل فے الماء الراکد نولکشور لکھنؤ ۱ / ۴
[3] فتح القدیر بحث الغدیر العظیم نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۷۱
[4] غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی فصل فی احکام الحیاض سہیل اکیڈمی لاہور ص۱۰۱
[5] تبیین الحقائق بحث عشر فی عشر بولاق مصر ۱ / ۲۲
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع