دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 2 | فتاوی رضویہ جلد ۲

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۲

وہ نہر جو بڑے بھرے حوض سے متصل ہو اگر ڈھائی ہاتھ

 

عـــہ وقع فی نسخۃ الطبع ان کان الحوض وھو خطأ اھ  منہ غفرلہ۔ (م)

مطبوع نسخہ میں ان کان الحوض کا لفظ واقع ہے یہ درست نہیں ہے اھ(ت)

قدر ذراعین ونصف لایکون تبعالہ لان الربع یحکی حکایۃ الکل فلا یتوضؤ منہ وان اقل منہ فتبع وقیل لیس بتبع وان قدر ذراع[1]

ہو تو حوض کے تابع نہیں کیونکہ چوتھا کل کے قائم مقام ہوتا ہے تو اس سے وضو درست نہ ہوگا اور اگر اس سے کم ہو تو تابع ہے اور ایك قول ہے کہ تابع نہیں خواہ ایك ہاتھ ہو۔ (ت)

اقول : یوں ہی تالابوں نہروں کی تہ میں گڑھے بھی ہوتے ہیں ہر گڑھے کو مستقل قرار دینے میں حرج ومخالفت عرف ہے لہٰذا ارشاد مذکور کی بنا پر اُس کی تقدیر بھی پچیس ہاتھ مساحت سے چاہئے لان الربع یحکی حکایۃ الکل(کیونکہ چوتھا کل کے قائم مقام ہوتا ہے۔ (ت)یہاں اُس تعلیل کا جواب بھی کُھل گیا کہ الکثیر یستتبع القلیل(کثیر قلیل کو تابع بناتا ہے۔ ت)اس تقدیر پر حکم یہ ہونا چاہئے کہ صورت مسئولہ میں اگر نجاست طافیہ ہے کہ حصہ زیریں تك نہ پہنچی یا حصہ زیریں حصہ بالا کے ساتھ دو مختلف محل نہیں جیسے نصف دائرہ میں یامختلف تو ہے مگر پچیس ہاتھ مساحت سے کم ہے تو ان سب صورتوں میں نجاست پڑنے سے کوئی حصہ نجس نہ ہوگااوریہی محمل کلام علامہ شامی کاہے اوراگر نجاست راسبہ ہے کہ حصہ زیریں تك پہنچی اور اسفل اعلیٰ سے مختلف الشکل ہے اور سو ہاتھ مساحت سے کم مگر پچیس ہاتھ سے کم نہیں تواوپر کاحصہ بوجہ کثرت پاك رہے گااوریہ حصہ زیریں بوجہ حوض مستقل قلیل ہونے کے ناپاك ہوجائیگااوریہی محمل کلام علامہ طحطاوی کاہے یہ ہے وہ جو فقیر کے لئے ظاہر ہوا اور محل محتاج تحریر وتنقیح اور جزم بالحکم دست نگر تصریح ہے ،

والعلم بالحق عند ربی ان ربی بکل شیئ علیم امامافی الحلیۃ تحت قول المنیۃ المارفی صدر ھذا الجواب الرابع حیث قال وھذا محکی فی البدائع عن ابی القاسم الصفار رحمہ الله تعالی غیر ان فرض المسألۃ فیھافی الحوض الکبیر وقعت فیہ النجاسۃ ثم قل ماؤہ حتی صار یخلص بعضہ الی بعض وقعت فیہ نجاسۃ ثم عاودہ الماء حتی امتلأ ولم یخرج منہ شیئ[2] اھ۔                                                                                                                                       

اور حق کا علم میرے رب کے پاس ہے ، بیشك میرارب ہر چیز کو جاننے والا ہے ، اور حلیہ میں منیہ کے قول کے تحت جو اس چوتھے جواب کے شروع میں گزرا ہے کہ انہوں نے فرمایا یہ قول بدائع میں ابو القاسم صفار سے منقول ہے مگراس میں جو مسئلہ فرض کیا گیا ہے وہ بڑے حوض میں ہے جس میں نجاست گر گئی ہو پھر اس کا پانی اتنا کم ہوگیاکہ اس کا پانی ایك دوسرے سے متصل ہوگیا پھر اس میں نجاست گر گئی اور پھر اس کا پانی زائد ہوگیا یہاں تک

فاقول اولا لیس ھذا مسوقا فی البدائع سیاقاواحدا فی تصویر واحد حتی یقال ان الماء الواقع فیہ النجاسۃ حین امتلاء ہ و کثرۃ مساحتہ بعد مافرغ اعلاہ وبلغ السافل القلیل احتیج فی تنجیسہ الی وقوع النجاسۃ مرۃ اخری فافادان السافل القلیل لا ینجس تبعا للعالی الکثیر وھو باطلاقہ یشمل ما اذا کان السافل مختلف الصورۃ بل کل منھما فرع علیحدۃ ذکرھما فی البدائع علی التعاقب عن امامین فالاولی لاتؤخذ فی الاخری وھذا نصہ لوتنجس الحوض الصغیر بوقوع النجاسۃ ثم بسط ماؤہ حتی صار لایخلص بعضہ الی بعض فھو نجس لان المبسوط ھوالماء النجس وقیل فی الحوض الکبیر وقعت فیہ النجاسۃ ثم قل ماؤہ حتی صار یخلص بعضہ الی بعض انہ طاھر لان المجتمع ھو الماء الطاھر ھکذا ذکرہ ابو بکر الاسکاف رحمہ الله تعالٰی واعتبر حالۃ الوقوع ولو وقع فی ھذا القلیل نجاسۃ ثم عاودہ الماء حتی امتلاء الحوض ولم یخرج منہ شیئ قال ابو القاسم الصفار رحمہ الله تعالٰی لایجوز التوضؤ بہ لانہ کلما دخل الماء فیہ صار نجسا [3] اھ وذلك ان لاعتبارحالۃ الوقوع                                

کہ حوض بھر گیا اور اس سے کچھ باہر نہ نکلا اھ۔ (ت)

تو میں کہتا ہوں اوّلاً ، یہ چیز بدائع میں صرف ایك ہی انداز میں مذکور نہیں ، لہٰذا یہ کہنا کہ جب کثیر پانی کے بھرے ہونے کی صورت میں نجاست گر جائے اور اس کا بالائی حصّہ خالی ہوکر نیچے قلیل تك آجائے تو اُسی وقت ناپاك ہوگا جب اُس میں دوبارہ نجاست گرے ، تو انہوں نے یہ بتایا کہ نچلا قلیل حصہ اوپر والے حصہ کی متابعت میں ناپاك نہ ہوگا ، یہ اطلاق اس کو بھی شامل ہے جبکہ نچلے کی صورت مختلف ہو ، بلالکہ ان میں سے ہر ایك علیحدہ فرع ہے ، اس کو بدائع میں یکے بعد دیگرے ذکر کیا ہے ، اور دونوں اماموں کی طرف منسوب کیا ہے تو ایك صورت کو دوسری میں نہیں لیا جائیگا ان کی عبارت اس طرح ہے ، یا چھوٹا حوض جو نجاست کے گر جانے سے ناپاك ہوگیا ہو ، پھراُس کا پانی اتنا پھیل گیا کہ اس کا بعض حصہ دوسرے بعض تك پہنچنے سے قاصر ہوگیا تو یہ نجس ہے کیونکہ مبسوط نجس پانی ہی ہے ، اور وہ بڑا حوض جس میں نجاست گر گئی پھر اس کا پانی اتنا کم ہوگیا کہ اس کابعض حصہ دوسرے بعض تك پہنچنے لگا تو یہ پاك ہے کیونکہ جو اکٹھا ہے وہ پاك پانی ہے اسی طرح اس کو ابو بکر الاسکاف نے ذکر کیا اور حالۃ وقوع کا اعتبار کیا ، اور اگر اس کم میں نجاست گری پھر اس میں پانی واپس آگیا یہاں تك کہ حوض بھر گیا اور اس میں سے کچھ باہر

محلین الاول تغیر مساحۃ الماء مع بقائہ فی ذاتہ کما کان بلانقص ولا(۱)زیادۃ کأن یکون الماء منبسطا فی حوض کبیر وفیہ منفذ مسدود دونہ بئر مثلا قطرھاذراعان فوقعت فی الحوض نجاسۃ فلم یتنجس الماء لانہ عشر فی عشرثم اخرجت النجاسۃ وفتح المخرج حتی انتقل ذلك الماء الی البئر فصار فی قطر ذراعین لم یعد نجسا لان العبرۃ لحین الوقوع وھو اذذاك کان کثیر المساحۃ وان صار الاٰن قلیلا(۲)وانکان الماء فی البئر فوقعت فیھا نجاسۃ فنزح کلھاوجعل الماء فی الحوض حتی انبسط وصار عشرا فی عشرلم یطھر اعتبارابحال الوقوع حیث کان عندئذٍ قلیل المساحۃ وان صار الاٰن کثیرا وھذا مافی البزازیۃ لوکان دون عشر فی عشر لکنہ عمیق وقع فیہ مائع وانبسط حتی عد کثیرا لایتوضؤ منہ ولو عشرا فی عشر ثم قل توضأ بہ لافیہ لاعتبار اوان الوقوع[4] اھ وفی الخانیۃ الماء الطاھر اذا کان فی موضع ھو عشر فی عشر

کیونکہ وقوع کی حالت کے دو اعتبار ہیں پہلا تو یہ کہ پانی کی پیمائش میں تغیر آجائے اور اس کی ذات بحال رہے جیسی کہ تھی نہ کمی ہو اور نہ زیادتی مثلاً یہ کہ پانی بڑے حوض میں پھیلا ہوا ہو اور اس میں ایك سوراخ ہو جو کنویں تك جاتا ہو اور یہ سوراخ بند ہو ، کنویں کا قطر مثلاً دو ہاتھ ہو اب حوض میں نجاست گر جائے تو پانی ناپاك نہ ہوگا کہ یہ دہ در دہ ہے پھر نجاست نکال لی جائے اور سوراخ کھول دیا جائے اور وہ پانی کنویں کی طرف منتقل ہوجائے اور دو ذراع کے قطر میں پہنچ جائے تو نجس نہ ہوگا ، کیوں کہ یہاں اعتبار گرنے کے وقت کا ہے اور اس وقت اس کی پیمائش زیادہ تھی اگرچہ اب کم ہوگئی ہے اور اگر پانی کنویں میں ہو اور اس میں نجاست گر جائے پھر کنویں کا تمام پانی نکال کر ایك حوض میں جمع کر لیا جائے حتی کہ وہ پھیل جائے اور پانی دَہ در دَہ ہوجائے تو پانی پاك نہ ہوگا کیونکہ نجاست کے واقع ہونے کے وقت کا اعتبار ہے اور اس وقت پیمائش کم تھی اگرچہ اب کثیر ہوگئی ہے یہ بزازیہ میں ہے اور اگر دَہ در دَہ سے کم ہو لیکن گہرا ہو اور اس میں کوئی بہنے والی چیز گر گئی اور پھیل گئی یہاں تك کہ زیادہ ہوگئی تو اس سے وضو نہ کیا جائیگا اور اگر وہ دَہ در دَہ ہو اور پھر کم ہوجائے تو اس سے وضو کرے گا نہ کہ اس میں ، یہاں بھی گرنے کے وقت کا اعتبار ہے اھ اور خانیہ میں ہے کہ پاك پانی اگر کسی ایسی جگہ میں ہے جو دہ در دہ ہو اور اس میں نجاست گر جائے پھر وہ پانی ایسی جگہ جمع ہوجائے جو دہ در دہ سے کم ہو تو وہ پانی پاك ہے اور اگر پانی تنگ جگہ میں ہو جو دہ در دہ سے کم ہے اس میں نجاست گر جائے پھر وہ پھیل کر دہ در دہ ہوجائے تو پانی ناپاك ہے اور اعتبار اس میں نجاست

 



[1]   بزازیہ علی الہندیۃ نوع فی الحیاض نورانی کتب خانہ پشاور ۴ /

[2]   حلیۃ

[3]       بدائع الصنائع فصل فی بیان مقدار الخ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۷۲

[4]   فتاوٰی بزازیۃ نوع فی الحیاض نورانی کتب خانہ پشاور ۴ / ۵

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن