30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جبکہ فرمایا دوسرے مسئلہ میں اور وہ یہ ہے کہ جب کہ اس کا بالائی حصہ کم ہو اور نچلا زائد ہو اور اس میں نجاست گر جائے تو جائز نہیں یہاں تك کہ دہ در دہ کو پہنچے تو جب اس مقدار کو پہنچے تو جائز ہے ، اور ان کی عبارت یہ ہے اور گویا ان حضرات نے یہاں وقوع کی حالت کا اعتبار نہیں کیا ، کیونکہ جو نچلے حصہ میں ہے وہ الگ حوض کے حکم میں ہے کیونکہ وہ پیمائش کے اعتبار سے کثیر ہے ، اوریہ کہ اگر اس میں ابتداءً نجاست گرتی تو مضر نہ ہوتی بخلاف پہلے مسئلہ کے تدبر اھ تو دونوں مسئلوں میں فرق ہے کہ اوپر والے کی نجاست جو قلیل ہے دونوں جزؤں پر مشتمل نہیں اور اعلیٰ کثیر کی طہارت دونوں کو شامل ہے۔ (ت)
میں کہتا ہوں اولاً حالتِ وقوع کا اعتبار
مذکور فی البدائع والتبیین والخانیۃ والخلاصۃ والبزازیۃ والحلیۃ والغنیۃ والبحر وغیرھامن دون ثنیا ولاحاجۃ الی استثناء ھذہ فان الاسفل لم یزل کثیرا فقد اعتبرت حالۃ الوقوع الا ان یقال ان الماء کان واحدا ظاھرا و وجہہ حین الوقوع قلیلا وبہ العبرۃ فکان ینبغی التنجس باعتبارہ لکن لم ینجسوہ نظرا الی ان وجہہ یصیر کثیرا حین بلوغ الماء الی الاسفل ،
وثانیا : (۱)لقائل ان یقول لم لایقال فی تلك اعنی مسألتنا ھذہ ان مافی الاسفل فی حکم حوض اخر بسبب قلتہ مساحۃ وانہ لووقعت فیہ النجاسۃ ابتداء لضرتہ وقد یمکن الجواب بان الکثیر یستتبع القلیل فیعد الاسفل القلیل عمقاللا علی الکثیر ومعلوم ان الوجہ ان کان کثیرا لم یتنجس شیئ من الماء لاوجہہ ولا عمقہ ولا یشترط مع ذلك کثرۃ العمق الا تری لوکان الحوض علی ھذا الشکل
![]()
نصف دائرۃ وکان اب منہ کثیرا لایتنجس شیئ منہ وان کان مادونہ قلیلا حتی لایبقی علی ح الا نقطۃ بخلاف العکس فان القلیل لایستتبع الکثیر فیعد حوضا برأسہ۔
بدائع ، تبیین ، خانیہ ، خلاصہ ، بزازیہ ، حلیہ ، غنیہ اور بحر وغیرہ میں بلا استثناء مذکور ہے اور اس میں استثناء کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ نچلا تو کثیر تھا تو حالتِ وقوع کا اعتبار کیاگیا ، ہاں اگر یہ کہا جائے کہ پانی بظاہر ایك تھا ، اور اس کی سطح وقوع کے وقت کم تھی اور اسی کا اعتبار ہے تو مناسب یہی تھا کہ اسی کے اعتبار سے ناپاك ہو ، لیکن علماء نے اس کو نجس قرار نہیں دیا ، یہ سمجھتے ہوئے کہ اس کی سطح کثیر ہوجائے گی جبکہ پانی نچلے حصّہ کو پہنچے گا۔
اور ثانیاً کوئی کہنا والا کہہ سکتا ہے کہ اس مسئلہ میں یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ نچلا حصّہ ایك مستقل حوض کے حکم میں ہے کیونکہ اس کی پیمائش کم ہے اور یہ کہ اگر اس میں ابتداء کوئی نجاست گرجاتی تو ناپاك ہوجاتا اور اس کے جواب میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ کثیر قلیل کو اپنا تابع بنا لیتاہے تو یہ سمجھاجائے گاکہ نچلا کم حصہ گویا اوپر کے کثیر حصہ کیلئے عُمق ہے ، اور یہ معلوم ہے کہ اگر پانی کی سطح زائد ہوتی تو پانی قطعاً ناپاك نہ ہوتا نہ اُس کی سطح اور نہ اُس کی گہرائی ، اور اس کے باوجود گہرائی کی کثرت شرط نہیں ہے ، مثلاً یہ کہ اگر حوض کی شکل یہ
![]()
ہو یعنی آدھے دائرہ کی شکل اورا ب اس میں کثیر ہے اس میں کچھ ناپاك نہ ہوگا اگرچہ اس سے کم قلیل ہے اور ح پر صرف ایك نقطہ رہے گا ، بخلاف عکس کے کیونکہ قلیل کثیر کو تابع نہیں بنا سکتا ہے تو یہ مستقل حوض شمار ہوگا۔ (ت)
یہ غایت عـــہ توجیہ ہے۔
عـــہ : وسیأتی الجواب عنہ ۱۲ منہ غفرلہ(م)
عنقریب ان کی طرف سے اس کا جواب ذکر کیا جائے گا۔ (ت)
واقول وبالله التوفیق نجاست اگر طافیہ ہے کہ حصہ زیریں تك پہنچی ہی نہیں جب تو ظاہر ہے کہ اس کی نجاست کی کوئی وجہ نہیں کہ اُس کا اتصال آب بالا سے ہے اور وہ بوجہ کثرت نجس نہ ہوا اور اگر راسبہ ہے کہ اسفل تك پہنچی خواہ مطلقًا جسے پتھر یا ابتداءً جیسے غرق شدہ جانور کہ تہ نشین ہو کر مرتا پھر اُتراتا ہے یا انتہاءً جیسے وہ کپڑا کہ تیرتا رہے گا پھر پانی سے بوجھل ہو کر بیٹھ جائیگا تو اب دو صورتیں ہیں اُن کا بیان۱یہ کہ پانی کیلئے بلحاظ محل مثل حوض وغیرہ ایك توصفت ہے یعنی کثرت وقلّت کہ مساحت محل کے سو ہاتھ یا کم ہونے سے حاصل ہوتی ہے دوسری صورت کہ جس فضا میں متمکن ہے اُس کی شکل سے پیدا ہوتی ہے یہ شکل کبھی واحد ہوتی ہے اگرچہ اس میں حصّے فرض کرسکتے ہیں اگرچہ اُن حصص مفروضہ کا مساحت میں تفاوت اُن کے لئے منشاء انتزاع ہو جیسے اسی شکل نصف دائرہ میں کہ مثلاً خط ء ہ تك کثیر اور
![]()
نیچے قلیل ہو تو دو حصّے ممتاز ہوجائیں گے ا ب ء ہ کثیر اور ء ہ ح قلیل مگر حقیقۃً ا ب ح فضائے واحد ہے اور کبھی شکل خود ہی واقع میں متعدد ہوتی ہے جیسے حوض کے اندر حوض مثلاً اس شکل پر

کہ حصہ بالا ا ء اور زیریں ہ ط خود ہی ممتاز ہیں اس لحاظ سے حصص زیرو بالاکی چار قسمیں ہوگئیں ایك یہ کہ دونوں حصّے صورۃً وصفۃً ہر طرح متحد ہوں جیسے دو گز گہرے مربع میں ایك گز اوپر ایك گز نیچے ، دوم صورۃً متحد ہوں اور صفۃً مختلف جیسے وہی نصف دائرہ کی شکل کہ فضا واحد ہے اور ا ہ کثیر اور ء ہ ح قلیل ، سوم صفۃً متحد ہوں اور صورۃمختلف جیسے اسی شکل ا ط میں جبکہ ہ ر بھی سو ہاتھ سے کم نہ ہو یا ا ب بھی دہ دردہ سے کم ۔ چہارم صورۃً وصفۃً ہر طرح جدا ہوں جیسے یہی شکل جبکہ ا ب سو ہاتھ اور ہ ر کم ہو۔
قسم اول کا حکم تو ظاہر کہ وہ زیر وبالا شیئ واحد ہے اگر نجس ہوگاسب نجس ہوگاپاك رہے گا سب پاك رہے گا۔
یونہی قسم دوم کہ بلاشبہ وہ محلِ واحد ہے اگرچہ حصص انتزاعیہ کی مساحت مختلف ہے۔
یونہی سوم کہ اگرچہ دوشے ہے مگر دونوں متحد الصفۃ ہیں اگر کثیرہیں تو زیریں بھی ناپاك نہ ہوگااگرچہ نجاست راسبہ ہو اور قلیل ہیں تو یہ بھی نجس ہوجائیگااگرچہ نجاست طافیہ ہو کہ نجس سے اتصال نہ ہوا تو متنجس سے ہواکہ حصہ بالا ناپاك ہوگیا۔
شکل چہارم وہی محل نظر ہے جبکہ نجاست راسبہ اس تك پہنچی اور نظر حاضر میں ظاہریہی ہے کہ ناپاك ہوجائے کلام ائمہ سے معہود یہی ہے کہ جب صورت وصفت دونوں مختلف ہوں توان کودو محل جداگانہ ٹھہراتے ہیں اور فقط اتصال قلیل بہ کثیر کو کافی نہیں جانتے۔
نہر کے(۲ کنارے کنارے پانی لینے کیلئے تختہ بندی کرتے ہیں کہ اُن پر بیٹھ کر پانی لیں وضو کریں اس سےخانے خانے ہوجاتے ہیں ہر خانہ مشرعہ کہلاتا ہے۔

پانی اگر تختوں سے نیچاہے جب تو محل کلام نہیں کہ تختوں سے پانی کا انقسام نہ ہوا لیکن اگر پانی تختوں سے ملا ہوا ہے تو ہر خانہ آب جداگانہ سمجھاجائیگا اوراگر اُن کا طول وعرض دس دس ہاتھ نہیں تو جن کے نزدیك دونوں امتدادہونا شرط ہے اس میں نجاست پڑے تو جتنا پانی تختوں سے گھراہواہے ناپاك ہوجائیگا اور نہر کے پاك پانی سے اس کا متصل ہونا نفع نہ دے گا۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع