دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 2 | فتاوی رضویہ جلد ۲

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۲

کلام علامہ سید طحطاوی سے ظاہر یہ ہے کہ حصّہ زیریں ناپاك ہوجائیگا۔

حیث قال واذا وقعت فیہ نجاسۃ فی تلك الحالۃ فالا علی طاھر الی ان یبلغ الا قل فینجس [1] اھ وحملہ علی انہ ینجس بنجاسۃ اخری خلاف ظاھر سوق الکلام۔ اقول :  وکذا ھو ظاہر الدران قدر وقوع النجس بقرینۃ قرینہ فان نظمہ لواعلاہ               

جہاں فرمایا کہ “ اور جب اس میں نجاست گر جائے اس حالت میں تو بالائی حصہ پاك ہے یہاں تك کہ اقل کو پہنچے تو وہ ناپاك ہوگا اھ “ اور اس کو اس پر محمول کرنا کہ وہ دوسری نجاست کے ساتھ نجس ہوجائیگا سیاق کلام کے ظاہر کے خلاف ہے۔ (ت)

میں کہتا ہوں اور اسی طرح وہ دُر کا ظاہر ہے اگر نجس گرنا مقدر کیا جائے اور اس پر قرینہ اس کا متصل

عشرا واسفلہ اقل جاز حتی یبلغ الا قل ولو بعکسہ فوقع فیہ نجس لم یجز حتی یبلغ العشر [2] اھ  فان ضمیرجاز الی رفع الحدث بہ ومعلوم ضرورۃ من الدین ان رفع الحدث جائز بکل ماء مطلق مطلقًا  ولو قلیلامالم ینسلب طہارتہاوطھوریتہ فکان المعنی کقرینہ لواعلاہ عشرا واسفلہ اقل فوقع فیہ نجس جازالتطہربہ حتی یبلغ الاقل فاذا بلغہ لم یجزفقد غیاجواز التطھربہ بلوغہ الاقل فبنفس البلوغ لایجوز لظھور حکم النجس الذی لم یتحملہ الا علی لکثرتہ وحملہ علی التقیید بوقوع النجاسۃ بعد بلوغ الاقل کما فعل ش حیث قال ای اذا بلغ الاقل فوقعت فیہ نجاسۃ تنجس کما فی المنیۃ [3] اھ

فاقول : (۱)خروج عن الظاھر(۲)واخراج للکلام عـــہ  الی قریب من العبث(۳)والاستناد الی              

کلام ہے ، کیونکہ ان کی عبارت اس طرح ہے ، اور اگر اس کا بالائی حصہ دس ہاتھ ہے اور نچلا حصہ کم ہے تو وضو جائز ہے یہاں تك کہ وہ اقل کو پہنچے اور اگر اس کا عکس ہو اور اس میں نجاست گر جائے تو جائز نہ ہوگا یہاں تك کہ دس ہاتھ کو پہنچے اھ کیونکہ جاز کی ضمیر “ رفع الحدث بہ “ کی طرف لوٹتی ہے اور یہ چیز دین کے ضروریات سے ہے کہ رفعِ حدث ہر مطلق پانی سے جائز ہے خواہ کم ہی ہو تاوقتیکہ اس کی طہارت یا طہوریت سلب نہ ہوئی تو معنی اس کے قرین کی طرح یہ ہوئے کہ اگر اس کا بالائی حصہ دس ہاتھ ہو اور اس کا نچلا حصہ کم ہو اور اس میں نجس واقع ہوجائے تو اس سے پاکی حاصل کرناجائز ہے یہاں تك کہ اقل کو پہنچ جائے ، اور جب اقل کو پہنچے تو جائز نہیں اس کے ساتھ طہارت کے جوازکی غایت اقل کو پہنچنا بیان فرمائی تو نفس بلوغ سے جائز نہ ہوگاکیونکہ اس نجس کا حکم ظاہر ہے جس سے بالائی بالائی حصہ متاثر نہ ہوا کیونکہ وہ کثیر ہے اور اس کو اقل کو پہنچنے کے بعد نجاست کے واقع ہونے سے مقید کرنا جیساکہ “ ش “ نے کیا انہوں نے فرمایا “ یعنی جب اقل کو پہنچے اور اس میں نجاست گر جائے تو ناپاك ہوجائیگا جیسا کہ منیہ میں ہے اھ(ت)

میں کہتا ہوں یہ ظاہر سے خروج ہے ، اور کلام کو تقریباً لغو قرار دینا ہے اور اس کو مُنیہ کی طرف

عـــہ  فی الحلیۃ عند قول المنیۃ اذا سدالماء من فوقہ وبقی جریہ یجوز التوضی بہ مانصہ کان علی المصنف ان یذکر

منیہ کے اس قول “ جب اوپر سے پانی بند ہوجائے اور پانی جاری ہو تو وضوء جائز ہے “ پر حلیہ نے کہا کہ مصنف کو “ بہ “ کی جگہ “ فیہ “ کہنا چاہئے تھا

المنیۃ فی غیرمحلہ فان عبارتھالو ان ماء الحوض کان عشرا فی عشر فتسفل فصار سبعافی سبع فوقعت النجاسۃ فیہ تنجس فان امتلاء صار نجسا ایضا[4]اھ فھو لم یذکر للاعلی حکما انما قصد بیان حکم المتسفل فاحتاج فی التصویر الی وقوع النجس فیہ لیکون توطئۃ لابانۃ حکم خفی وھو انہ بعد امتلائہ ایضا یبقی نجساکماکان بخلاف نظم الدر فانہ افرز الا علی بحکم الجواز ولا معنی لہ الا بفرض وقوع المانع والا فذکرہ عبث ثم حد لجوازہ حدا ینتھی دونہ وھو بلوغ الاقل فافاد ماقلنا واین ھذا من عبارۃ المنیۃ ، وکلام الدرمن اولہ الی ھنا فی رفع الحدث بہ لافیہ ولوکان لصح حملا لہ علی معنی التوضی بغمس الاعضاء فیہ بناء علی ماھو الحق من فرق الملاقی والملقی وان کان میل صاحب الدر الی خلافہ فاذن کان                          

منسوب کرنا بے محل ہے کیونکہ منیہ کی عبارت یہ ہے کہ اگر حوض کا پانی دہ در دہ ہو اور پھر نیچے چلا جائے اور سات در سات ہوجائے پھر اس میں نجاست گرجائے تو ناپاك ہوجائیگا اوراگر بھر جائے تو بھی نجس ہوجائیگا تو انہوں نے بالائی کا کوئی حکم بیان نہیں کیا ان کا مقصود تو محض یہ تھاکہ وہ نچلے کا حکم بیان کریں تو اس کی وضاحت میں ان کو یہ کہنا پڑاکہ اس میں نجاست گر جائے ، تاکہ یہ ایك مخفی حکم کے اظہار کی بنیاد بن جائے اور وہ یہ کہ یہ بھر جانے کے باوجود نجس ہی رہے گاجیساکہ پہلے تھا ، اور در کی نظم اس کے خلاف ہے کیونکہ انہوں نے بالائی پرجوازکا حکم لگایا اور اس کا  کوئی مفہوم نہیں ، ہاں مانع کے وقوع کو فرض کرنے کی صورت میں ہوسکتا ہے ، ورنہ تو اس کا ذکر عبث ہے ، پھر انہوں نے اس کے جواز کی ایك حد مقرر کی جس سے پہلے وہ منتہی ہوتا ہے اور وہ اقل تك پہنچنا ہے تو جو ہم نے کہا اس کا انہوں نے افاد ہ کیا ، اور اس کو منیہ کی عبارت

 

فیہ(ای مکان بہ) لان من الواضح جدا جواز الوضوء بہ جاریا کان اوغیرجار خارجہ فلا یقع التقیید ببقاء جریان الماء موقعا ثم ھم اعلی کعبامن ذکر مثلہ اھ  منہ غفرلہ۔ (م)

کیونکہ اس سے وضوء کا جواز بہت واضح ہے خواہ پانی جاری ہو یا نہ ہو لہٰذا پانی کے جاری رہنے کی قید لگانا بے موقع ہوگا حالانکہ ان حضرات کا مقام ایسے کلام سے بلالند وبالا ہے اھ(ت)

یؤل الی کلام البزازیۃ لوعشرا فی عشر ثم قل توضأ بہ لافیہ لاعتبار اوان الوقوع [5] اھ لکن لامساغ لہ فی کلامہ ولذا احتاج ش الی اضافۃ قید لیس فیہ فترجح ماقلنا۔

 سے کیا تعلق ہے؟

اور دُر کاکلام ابتداء سے یہاں تك اس کے ساتھ حدث کے رفع کرنے کی بابت ہے نہ کہ اُس میں ، اور اگر ایسا ہوتا تو صحیح ہوتا اور اس کو اس پر محمول کیا جاتاکہ اس میں اعضاء کو ڈبو کر وضو کرنا جیسا کہ حق ہے کہ ملقی اور ملاقی میں فرق ہے اگرچہ صاحبِ در کا میلان اس کے خلاف ہے ، ایسی صورت میں بزازیہ کے کلام کی طرف لوٹا جائیگا اگر دہ در دہ ہو پھر کم ہوگیا ہو تو اسکے ساتھ وضو کرے نہ کہ اس میں کیونکہ وقوع کے زمانے کا اعتبار ہے اھ مگر اس کی ان کے کلام میں گنجائش نہیں ، اور اس لئے “ ش “ نے لیس فیہ کا اضافہ کیا ، تو جو ہم نے کہا وہ راجح ہے۔ (ت)

اور کلام علامہ سید شامی سے مفہوم کہ سب پاك رہے گا۔

حیث قال فی المسألۃ الاخری وھی مااذا کان اعلاہ قلیلا واسفلہ کثیرا فوقع فیہ نجس لم یجز حتی یبلغ العشر فاذا بلغھا جاز مانصہ وکانھم لم یعتبرواحالۃ الوقوع ھھنا لان مافی الاسفل فی حکم حوض اٰخر بسبب کثرتہ مساحۃ وانہ لو وقعت فیہ النجاسۃ ابتداء لم تضرہ بخلاف المسألۃ الاولی تدبر [6] اھ ففرق بین المسألتین ان نجاسۃ الاعلی القلیل لاتشمل الجزئین وطھارۃ الا علی الکثیر تشملھما۔

اقول اولا : (۱)اعتبار حالۃ الوقوع                       

 



[1]         طحطاوی علی الدرالمختار باب المیاہ بیروت ۱ / ۱۰۸

[2]   الدرالمختار باب المیاہ مجتبائی دہلی ۱ / ۳۶

[3]   ردالمحتار باب المیاہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۴۲

[4]        منیۃ المصلی فصل فی الحیاض مکتبہ قادریہ جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور ص۷۲

[5]   فتاوٰی بزازیۃ علی حاشیۃ الہندیۃ نورانی کتب خانہ پشاور ۴ / ۵

[6]   ردالمحتار باب المیاہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۴۳

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن