30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جیسا کہ انہوں نے اس کو بیان کیا اور اس کا جواب بھی بحر میں دیا ، اور ہمارے نزدیک پانی عضو سے جدا ہوتے ہی مستعمل ہوجاتا ہے ، اسی کو ہدایہ میں صحیح کہا ہے ، اور کافی میں اس پر اعتماد کیا ہے اور اس کے خلاف کو ضعیف قرار دیا ہے ، اور اسی پر محققین ہیں جیسا کہ فتح میں اور عام کتب میں ہے کما فی البحر ، بلکہ محیط میں ہے کہ استقرار کی شرط کے قائل امام سفیان ثوری ہیں ، اہل مذہب نہیں ہیں اور فتح اور بحر میں اِن کے دلائل کا رد کیا ہے اور دُر میں اس کی طرف اشارہ کیا ہے ، خلاصہ یہ ہے کہ فریقین کے کلام میں مذکور عضو سے منفصل ہونا ہے ، جس کا مطلب یہ ہے کہ مراد اس کا بدن ہی میں استعمال ہے فقط نہ کہ اسکے غیر میں والله تعالٰی اعلم
رابعًا : محلِ نظر یہ امر ہے کہ برتنوں کو محض اس لئے دھونا کہ اُن پر کھانے کا اثر ہے یہی قُربت مطلوبہ ہے بلکہ مطلوب صفائی ہے جو کبھی چاٹ کر بھی کپڑے سے
عــــہ : ترجمہ و احادیث(۱)صحیح مسلم میں جابر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے ہے نبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمانگلیاں اور رکابی چاٹنے کا حکم فرماتے اور ارشاد کرتے تمہیں کیا معلوم کھانے کے کس حصہ میں برکت ہے یعنی شاید اسی حصے میں ہو جو انگلیوں یا برتن میں لگا رہ گیا ہے ۔ امام حکیم ترمذی نے حضرت انس سے یہ لفظ نقل کئے “ اور وہ برتن اس کے لئے دعا کرے گا “ (۲)مسلم و احمد وابوداؤد وترمذی ونسائی نے انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت کی رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ہمیں کھانا کھا کر پیالہ خوب صاف کردینے کا حکم فرمایا کہ تم کیا جانو کہ تمھارے کون سےکھانے میں برکت ہے۔ (۳)احمدو ترمذی و ابن ماجہ نے نبیشۃ الخیر الہذلی سے روای کہ رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے فرمایا کہ جو کسی پیالے میں کھانا کھا کر زبان سے اسے صاف کردے وہ پیالہ اس کیلئے دعائے مغفرت کرے گا۔ (۴)امام حکیم ترمذی اسی مضمون میں حضرت انس سے راوی کہ فرمایا اور وہ برتن اس پر درود (باقی اگلے صفحہ پر)
ان النبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم امر بلعق الاصابع والصحفۃ وقال ا نکم لاتدرون فی ایہ البرکۃ [1] ولہ کاحمد وابی داؤد والترمذی والنسائی عن انس رضی الله تعالٰی عنہ ان رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم امرنا ان نسلت القصعۃ قال فانکم لاتدرون فی ای طعامکم البرکۃ[2] و للامام احمد والترمذی وابن ماجۃ عن نبیشۃ الخیر الہذلی رضی الله تعالٰی عنہ قال قال رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم من اکل فی قصعۃ ثم لحسھا استغفرت لہا
اور کبھی ماء مطلق کے غیر سے حاصل ہوجاتی ہے اور پہلا اقرب الی التواضع ہے اور اس میں اتباع سنت بھی ہے ،
چنانچہ امام مسلم نے اپنی صحیح میں حضرت جابر سے روایت کی کہ حضور اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے انگلیاں چاٹنے اور برتن چاٹنے کا حکم دیا اور فرمایا تم کو معلوم نہیں کہ کس چیز میں برکت ہوگی!اور امام مسلم ، احمد ، ابو داود ، ترمذی اور نسائی نے حضرت انس سے مرفوعا روایت کی کہ حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ہمیں برتن صاف کرنے کا حکم دیا ہے فرمایا تم کو پتا نہیں کہ تمہارے کھانے کے کس حصہ میں برکت ہے۔ امام احمد ، ترمذی اور
(بقیہ حاشیہ گزشتہ)بھیجے دیلمی کی روایت میں ہے کہ فرمایا وہ پیالہ یوں کہے الہی! اسے آتش دوزخ سے بچا جس طرح اس نے مجھ کو شیطان سے بچایا یعنی برتن سنا ہوا چھوڑدیں تو شیطان اسے چاٹنا ہے۔
(۵)حاکم اور ابن حبّان نے اپنی صحیح میں اور بیہقی نے شعب میں جابر بن عبداللہ سے مرفوعاً روایت کیا ، آپ نے فرمایا کہ پیالہ کو نہ اٹھائے تاوقتیکہ اس کو خود چاٹ لے یا دوسرے کو چاٹنے دے کیونکہ کھانے کے آخر میں برکت ہے۔
(۶)مسند حسن بن سفیان میں والد رائطہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے ہے رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے فرمایا پیالہ چاٹ لینا مجھے اس سے زیادہ محبوب ہے کہ اس پیالے بھر کھانا تصدق کروں یعنی چاٹنے میں جو تواضع ہے اس کا ثواب اس تصدق کے ثواب سے زیادہ ہے ۔
(۷)معجم کبیر میں عرباض بن ساریہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے ہے رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے فرمایا جو رکابی اور اپنی انگلیاں چاٹے اللہ تعالٰی دنیا اور آخرت میں اس کا پیٹ بھرے ۔ یعنی دنیا میں فقروفاقہ سے بچے قیامت کی بھُوک سے محفوظ رہے دوزخ سے پناہ دیا جائے کہ دوزخ میں کسی کا پیٹ نہ بھرے گا اُس میں وہ کھانا ہے کہ لایسمن ولا یغنی من جوع نہ فربہی لائے نہ بھوک میں کچھ کام آئے والعیاذ بالله ۔ )
القصعۃ [3] زاد الامام الحکیم الترمذی عن انس رضی الله تعالٰی عنہ وصلت علیہ [4]د الدیلمی عنہ فتقول اللھم اعتقہ من النار کما اعتقنی من الشیطان [5]والحاکم وابن حبان فی صحیحیھما والبیھقی فی الشعب عن جابر بن عبدالله رضی الله تعالٰی عنہما فی حدیث یرفعہ الی رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم لایرفع القصعۃ حتی یلعقھا اویلعقہا فان فی اٰخر الطعام البرکۃ [6]۔ وللحسن بن سفیٰن عن رائطۃ عن ابیہا رضی الله تعالٰی عنہا عن النبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم لان العق القصعۃ احب الی من ان اتصدق بمثلھا طعاما [7]وللطبرانی فی الکبیر عن العرباض بن ساریۃ رضی الله تعالٰی عنہ عن النبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم من لعق الصحفۃ ولعق اصابعہ اشبعہ الله تعالٰی فی الدنیا والاخرۃ [8]وخصوص الغسل بالماء من الامور العادیۃ الشائعۃ بین المؤمنین والکفار فاذا نوی شرط ۱۲سنۃ التنظیف عــــہ ای التنظیف لانہ سنۃ
ابن ماجہ نے نبیشۃ الخیر الہذلی سے روایت کی کہ حضور اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے فرمایا کہ جس نے کسی پیالہ میں کھایا پھر اس کو چاٹا تو وہ پیالہ اس کیلئے استغفار کرے گا۔ امام حکیم ترمذی نے حضرت انس سے یہ لفظ نقل کئے “ اور وہ برتن اس کے لئے دعا کرے گا “ اور دیلمی نے اُن سے روایت کی کہ وہ پیالہ کہے گا یا اللہ اس کو نارِ جہنم سے آزاد فرما جس طرح اس نے مجھ کو شیطان سے چھٹکارا دلایا ہے ، حاکم و ابن حبّان و بیہقی جابر بن عبداللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے روای کہ رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے فرمایا کھاناکھا کر برتن نہ اٹھائے جب تک اسے خود چاٹ نہ لے یا(مثلا کسی بچے یا خادم کو)چٹادےکہ کھانے کے پچھلے حصہ میں برکت ہے۔ اور حسن بن سفیان رائطہ سے وہ اپنے باپ سے وہ حضور اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمسے روایت کرتے ہیں کہ میرے نزدیک پیالہ کا چاٹ لینا اس کی مقدار میں کھانے کے صدقہ کرنے سے افضل ہے ، اور طبرانی نے کبیر میں عرباض بن ساریہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ جس نے پلیٹ کو چاٹا اور انگلیوں کو چاٹا اللہ اس کو دینا اور آخرت میں شکم سیر فرمائے گا۔ اور پانی کی
یرید ان الاضافۃ بیانیۃ لالامیۃ لیصیر الغسل سنۃ فی ھذا التنظیف بل المعنی نوی سنۃ ھو التنظیف ای نوی التنطیف لکونہ سنۃ اھ منہ(م)
اضافت بیانیہ مراد ہے لامیہ نہیں تاکہ اس تنظیف میں دھونا سنّت بن جائے بلکہ معنی یہ ہے کہ سنّت کی نیت کی اور وہ تنظیف ہے یعنی تنظیف کی نیت کی کیونکہ وہ سنّت ہے اھ(ت)
ادخلہ بنیتہ تحت عام محمود فکان کمتوضیئ توضأ للتعلیم۔
ثم اقول تحقیق(۱)المقام علی ماعلمنی الملك العلام ان(۲)لیس کل ماجُعل قربۃ مغیرا للماء عن الطھوریۃ بل یجب ان یکون الفعل المخصوص الذی یحصل بالماء اولا وبالذات قربۃ مطلوبۃ فی الشرع بخصوصہ ومرجعہ الی ان تکون القربۃ المطلوبۃ عینا لاتقوم الا بالماء اذلو جازان تحصل بدونہ لکان لتحققہا موارد منھا مایحصل بالماء ومنھا غیرہ فما یحصل بالماء اولاوبالذات لایکون مطلوبا بعینہ بل محصلا لمطلوب بعینہ فیتحصل ان یکون نفس انفاق الماء فی ذلك الفعل مطلوبا فی الشرع عینا اذ المطلوب عینا لم یحصل الا بہ کان ایضا مطلوبا عینا کالمضمضۃ والاستنشاق فی الوضوء والتثلیث فیہ وفی الغسل ولو للمیت ولعلك تظن ان ھذہ فائدۃ لم تعرف الا من قبل العلامۃ صاحب البحر وتبعہ علیہ اخوہ فی النھر۔
اقول : کلا بل المسألۃ اعنی وضوء المتوضیئ للتعلیم منصوص علیھا فی المبتغی والفتح وغیرھما من کتب المذھب وقد نص فی الدّرانھا متفق علیھا ولا شك انھا صریحۃ
[1] صحیح لمسلم استحباب لعق الاصابع مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ / ۱۷۵
[2] صحیح لمسلم استحباب لعق الاصابع مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۷۶
[3] مسند احمد بن حنبل عن نبیشۃ بیروت ۵ / ۷۶
[4] کنزالعمال اداب الاکل مکتبہ التراث حلب ۱۵ / ۲۵۳
[5] کنزالعمال ، اداب الاکل ، مکتبہ التراث حلب ۱۵ / ۲۵۳
[6] صحیح ابن حبان اداب الاکل ، مکتبہ التراث حلب اثریہ سانگلہ ہل ۸ / ۳۳۵
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع