30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
میں نے عرض کی یا رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم ! ہم دشمن کے ملك میں جہاد کو جاتے ہیں اُن کے برتنوں کی حاجت پڑتی ہے رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے فرمایاجہاں تك بَن پڑے اُن برتنوں سے دُوررہو اور اگر اور برتن نہ ملے تو انہیں دھو کرپاك کرلو اس کے بعد ان میں کھاؤ پیو۔
میں کہتا ہوں احمد ، بخاری ، مسلم ، ابو داؤد ، ترمذی اور دوسروں نے بھی اس کو روایت کیا ہے اورترمذی کا لفظ فاغسلوھا کی جگہ انقوھا غسلا ہے۔ (ت)
اللہ عزوجل فرماتا ہے : اِنَّمَا الْمُشْرِكُوْنَ نَجَسٌ [1] کافر نرے ناپاك ہیں۔
یہ ناپاکی ان کے باطن کی ہے پھر اگر شراب وغیرہ نجاستوں کا اثر ان کے منہ میں باقی ہو تو ناپاکی ظاہری بھی موجود ہے اوراس وقت ان کا جھوٹا ایسا ہی ناپاك ہے جیسا کُتّے کا ، بلکہ اُس سے بھی بدتر لخلاف مالك فی الکلب(کیونکہ کتّے کے بارے میں امام مالك کا اختلاف ہے۔ ت) اور حُقّے وغیرہ جس چیز کو اُن کا لعاب لگ جائیگا ضرور ناپاك ہوجائے گی۔
تنویر الابصار میں ہے :
سؤر شارب خمرفور شربھا وھرۃ فور اکل فأرۃ نجس [2]۔ لوشاربہ طویلا لایستوعبہ اللسان فنجس
شرابی کا شراب پینے کے بعد فوری جھوٹا اور بلّی کا چوہا کھانے کے بعد فوری جھوٹا نجس ہے۔ (ت)
ہنود ونصاریٰ وغیرہم اکثر شراب خور ہوتے ہیں اور مونچھیں بڑھانا اُن کا شعار اور شراب(۲) خور کی مونچھیں بڑی بڑی ہوں کہ شراب مونچھ کو لگ گئی تو جب تك مُونچھ دُھل نہ جائے گی پانی وغیرہ جس چیز کو لگے گی ناپاك کر دے گی ،
درمختار میں ہے :
لوشاربہ طویلا لایستوعبہ اللسان فنجس
اگر شراب خور کی مونچھیں لمبی ہوں کہ زبان ان تک
ولوبعد زمان [3]۔
اگر شراب خور کی مونچھیں لمبی ہوں کہ زبان ان تك نہ پہنچ سکے تو اس کا جھوٹا نجس ہے اگرچہ وہ طویل وقت کے بعد پانی پئے۔ (ت)
اور اگر ظاہری نجاستوں سے بالکل جُدا ہو جس کی اُمید کافروں میں بہت کم ہے تو اس کے جُوٹھے کو اگرچہ کُتّے کے جُوٹھے کی طرح صریح ناپاك نہ کہا جائے۔
فی التنویر والدر سؤرادمی مطلقًا
ولوجنبااوکافرطاھر الفم طاھرا مختصرا [4]۔
تنویر اور در میں ہے آدمی کا جھُوٹا چاہے وہ جنبی ہو یا کافر ہو پاك ہے کیونکہ منہ پاك ہے۔ مختصرا (ت)
اقول : مگر ہر چیز کہ ناپاك نہ ہو طیب وبے دغدغہ ہونا ضرور نہیں رینٹھ بھی تو ناپاك نہیں پھر کون عاقل اُسے اپنے لب و زبان سے لگاناگوارا کرے گا کافر کے جُوٹھے سے بھی بحمداللہ تعالٰی مسلمانوں کو ایسی ہی نفرت ہے اور یہ نفرت اُن کے ایمان سے ناشیئ ہے۔
وفی رفعہ عن قلوبھم اسقاط شناعۃ الکفرۃ عن اعینھم اوتخفیفھا وذلك غش بالمسلمین وقد صرح العلماء کما فی العقود الدریۃ وغیرھا (۱) ان المفتی انما یفتی بما یقع عندہ من المصلحۃ ومصلحۃ المسلمین فی ابقاء النفرۃ عن الکفرۃ لافی القائھا [5] ۔
اور اس کو ان کے دلوں سے اٹھانے میں کافروں کی بُرائی کو ان کی نگاہوں میں ختم کرنا ہے یا کم کرنا ہے ، اور یہ مسلمانوں کو دھوکا دینا ہے اور علماء نے تصریح کی ہے جیسا کہ عقود الدریۃ وغیرہا میں ہے کہ مفتی کو وہی فتوٰی دینا چاہئے جس میں اس کے نزدیك مصلحۃ ہو اور مسلمانوں کو مصلحۃ اس میں ہے کہ ان کے دلوں میں کافروں سے نفرت باقی رہے نہ یہ کہ نفرت ختم ہوجائے۔ (ت)
جو شخص دانستہ اُس کا جوٹھا کھائے پئے مسلمان اُس سے بھی نفرت کرتے ہیں وہ مطعون ہوتا ہے اُس پر محبّت کفار کا گمان جاتا ہے اور حدیث(۱) میں ہے :
من کان یؤمن بالله والیوم الاٰخر فلا یقفن مواقف التھم [6]۔
جو اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتا ہو تہمت کی جگہ کھڑا نہ ہو۔
متعدد(۲) حدیثوں میں ہے رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمفرماتے ہیں :
ایاك وما یسؤ الاذن [7]
اُس بات سے بچ جو کان کو بُری لگے
رواہ الامام احمد عن ابی العادیۃ والطبرانی فی الکبیر وابن سعد فی الطبقات والعسکری فی الامثال وابن مندۃ فی المعرفۃ والخطیب فی المؤتلف کلھم عن ام العادیۃ عمۃ العاص بن عمرو الطفاوی وعبدالله بن احمد الامام فی زوائد المسند وابو نعیم وابن مندۃ کلاھما فی المعرفۃ عن العاص المذکور مرسلا وابو نعیم فیھا عن حبیب بن الحارث رضی الله تعالی عنہم۔
اس کو امام احمد نے ابو العادیۃ سے روایت کیا اور طبرانی نے کبیر میں اور ابنِ سعد نے طبقات میں اور عسکری نے امثال میں اور ابن مندہ نے معرفۃ میں اور خطیب نے مؤتلف میں ، ان سب نے اُم عادیہ ، عاص بن عمرو طفاوی کی پھوپھی سے روایت کی ، اور عبداللہ بن احمد نے زوائد مسند میں ، ا ور ابو نعیم اور ابن مندہ نے دونوں معرفہ میں عاص مذکور سے مرسلاً روایت کی ، اور ابو نعیم نے معرفہ میں حبیب بن حارث سے روایت کی۔ (ت)
نیز بہت حدیثوں میں ہے رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمفرماتے ہیں : ایاك وکل امر یعتذر منہ[8]۔ ہر اس بات سے بچ جس میں عذر کرنا پڑے۔
[1] القرآن ۹ / ۲۸
[2] الدرالمختار فصل فے البئر مجتبائی دہلی ۱ / ۴۰
[3] الدرالمختار فصل فے البئر مجتبائی دہلی ۱ / ۴۰
[4] الدرالمختار فصل فے البئر مجتبائی دہلی ۱ / ۴۰
[5] الاشباہ والنظائر کتاب القضاء الخ ادارۃ القرآن کراچی ۱ / ۳۵۴
[6] مراقی الفلاح مع الطحطاوی قبیل باب سجود السہو نور محمد کتب خانہ کراچی ص۲۴۹
[7] مسند امام احمد عن ابی العادیۃ $&'); container.innerHTML = innerHTML; }
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع