دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 2 | فتاوی رضویہ جلد ۲

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۲

(۱) اکثر جسم پر پانی بہ جانا اگرچہ کفّار کے نہانے میں ہوتا ہو اور بے تمیزی سے منہ بھر کر پانی پینے میں سارا مُنہ بھی حلق تك دُھل جاتا ہو مگر ناك میں پانی بے چڑھائے ہرگز نہیں جاتااور خود ایسا کیوں کرتے کہ پانی سُونگھ کر چڑھائیں لہٰذا اس چھپ چھپ کرلینے سے جو کفار کرلیا کرتے ہیں اُن کا غسل نہیں اُترتا۔ ع

ہرچہ شوئی پلید تر باشد

فی الحلیۃ عن السیر الکبیر للامام محمد ینبغی للکافر اذا اسلم ان یغتسل غسل الجنابۃ ولا یدرون کیفیۃ الغسل [1] اھ وفیھاعن الذخیرۃ الاتری ان فرضیۃ المضمضۃ والاستنشاق خفیت علی کثیر من العلماء

حلیہ میں امام محمد کی سیر کبیر سے منقول ہے کہ اگر کافر اسلام لائے تو اس پر لازم ہے کہ غسلِ جنابت کرے ، اور وہ غسل کی کیفیت نہیں جانتے اھ اور اس میں ذخیرہ سے منقول ہے کیا تم نہیں دیکھتے ہو کہ کلی اور ناك میں پانی ڈالنے کی فرضیت بہت سے علماء پر مخفی

فکیف علی الکفار [2]۔

رہی تو کافروں کا کیا کہنا۔ (ت)

نمازی محتاط مسلمانوں کے غسل کا پانی پاك ہے اگرچہ دوبارہ اُس سے غسل یا وضو نہیں ہوسکتا مگر وہ خود پاك ہے کپڑے وغیرہ کو لگ جائے تو نمازجائز ہے اور دھونے کی حاجت نہیں اور جس کے بدن پر نجاست لگی ہونا تحقیق ہو اس کے بدن کا پانی نجس ہے اور تحقیق نہ ہو تو بے نمازی بے احتیاط کے آب وغسل میں شُبہ ہے اُس سے بچنااولیٰ ہے نہ کہ کافر کہ اُن کے تو پاجاموں رانوں میں چھٹنکیوں پیشاب ہوتا ہے ان کا آبِ غسل مکروہ ہے پھر بھی ناپاکی کا حکم نہ دیں گے جب تك تحقیق نہ ہو کما حققناہ فی الاحلی من السکر والله تعالی اعلم (جیسا کہ ہم نے اپنے رسالہ احلی من السکر میں اس کی تحقیق کی ہے والله  تعالٰی اعلم۔ ت)

مسئلہ ۴۷ :                مسئولہ شیخ شوکت علی صاحب                          ۶ ربیع الآخر شریف ۱۳۰۲ ہجریہ قدسیہ

کیا فرماتے ہیں علمائے ملّت اہلسنّت وجماعت اس مسئلہ میں کہ جُوٹھا ہندو یانصرانی وغیرہ کا پاك ہے یا ناپاک ، اُس کے کھانے کا کیا حکم ہے اگر کوئی کافر سہواً یا قصداً حقّہ یا پانی پی لے تو اس کا کیا حکم ہے بینوا توجروا۔

الجواب :

حکم اللہ ورسول کیلئے ہے رسول (۱) اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے نصرانی کے کھانے سے ممانعت فرمائی ، سُنن ابی داؤد وجامع ترمذی ومصنف ابو بکر بن ابی شیبہ ومسند امام احمد میں ہُلب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے ہے :

واللفظ لابی بکر قال رأیت النبی صلی الله تعالٰی  علیہ وسلم نھی عن طعام النصاری فقال لایتخلجن فی صدرك طعام ضارعت فیہ نصرانیۃ [3] ۔ اقول :  بھذا اللفظ اوردہ الامام الجلیل السیوطی فی الجامع الکبیر وقال حسن اھ وھو صریح فی رد مازعم الھروی فی تاویل الحدیث انہ نظیف کما نقلہ عنہ                      

الفاظ ابی بکر کے ہیں فرمایا میں نے رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکو دیکھا کہ طعامِ نصرانی سے نہی فرمائی اور ارشاد کیا زنہار تیرے سینے میں وہ کھانا جنبش نہ کرے جس میں نصرانیت کا اشتراك ہو۔

اقول : انہی الفاظ سے اس کو امام سیوطی نے جامع کبیر میں ذکر کیا اور حسن کہا اھ اور یہ ہروی کی واضح تردید ہے انہوں نے حدیث کی تاویل کی کہ یہ صاف ستھرا ہے ، یہ مجمع البحار میں اُن سے منقول ہے

فی مجمع البحار ثم ردہ بقولہ وسیاق الحدیث لایناسبہ [4] اھ

اقول :  (۱)وایضا  یبعد مانقلہ عن الطیبی من تفسیرہ بقولہ شابھت النصرانیۃ والرھبانیۃ فی تشدیدھم وتضییقھم وکیف وانت علی الحنفیۃ السھلۃ [5] اھ کیف وھذا لایلائم النھی۔

اقول :  (۲) وکذا یبعد مافھم منہ ابو داؤد اذ اوردہ فی باب کراھیۃ التقذر للطعام وانما تأتی لہ ذلك لان لفظ روایتہ سمعت رسول الله صلی الله تعالٰی  علیہ وسلم وسألہ رجل فقال ان من الطعام طعاما اتحرج منہ فقال لایتخلجن فی صدرك شیئ ضارعت فیہ النصرانیۃ [6] اھ فھذا لفظ محتمل والذی ذکرناہ نص صریح فتثبت وبالله التوفیق ورحم الله الامام اباحاتم الرازی حیث یقول ماکنا نعرف الحدیث مالم نکتبہ من ستین وجہا [7] ۔                

 پھر انہوں نے اس کو اپنے اس قول سے رد کیا اور حدیث کا سیاق اس کے مناسب نہیں۔ (ت)

میں کہتا ہوں یہ بھی بعید ہے کہ انہوں نے طیبی سے اس کی تفسیر یہ نقل کی ہے کہ یہ نصرانیت اور رہبانیت کے مشابہ ہے ان کی شدت اور سختی میں اور تم دین حنیف پر ہو جو سہل اور آسان ہے اھ کیسے اور یہ نہی کے مناسب نہیں۔ (ت)

میں کہتا ہوں اسی طرح وہ بھی بعید ہے جو ابو داؤد نے اس سے سمجھا ہے کیونکہ انہوں نے اس کو باب کراہیۃ التقذر الطعام میں وارد کیا ہے ، اور انہوں نے ایسا اس لئے کیا ہے کیونکہ ان کی روایت کے لفظ یہ ہیں کہ میں نے رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکو سنا ، اورآپ سے ایك شخص نے سوال کیا تو آپ نے فرمایا ان کھانوں میں سے ایك کھانا ایسا ہے جس سے میں حرج محسوس کرتا ہوں ، توآپ نے فرمایا تمہارے دل میں کوئی ایسی چیز خلش پیدا نہ کرے جو نصرانیت کے ساتھ ملی ہے اھ اب ان الفاظ میں احتمال ہے اور جو ہم نے ذکر کیا ہے وہ صریح نص ہے ، اوراللہ ابو حاتم الرازی پر رحم فرمائے وہ فرمایا کرتے تھے کہ ہم اُس وقت تك حدیث کو نہیں پہچانتے تھے جب تك کہ اس کو ساٹھ طریقوں سے نہ لکھ لیں۔ (ت)

ابو ثعلبہ خشنی(۳) رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں :

قلت یارسول الله انا نغزو ارض العدو فنحتاج الی اٰنیتھم فقال استغنوا عنھامااستطعتم فان لم تجدوا غیرھا فاغسلوھاوکلوامنھاواشربوا [8] ۔  اوردہ الامام فی الجامع وعزاہ لابن ابی شیبۃ۔

اقول :  (۱)قد رواہ احمد والبخاری ومسلم وابو داؤد والترمذی واٰخرون وفی لفظ للترمذی قال انقوھا غسلا [9]۔                

 



[1]                حلیہ

[2]   حلیہ

[3]            سنن ابی داؤد  باب کراھیۃ التقذر للطعام مجتبائی لاہور ۲ / ۷۵

[4]   مجمع البحار لفظ ضرع  منشی نولکشور لکھنؤ ۲ / ۲۸۸

[5]   طیبی شرح مشکوٰۃ

[6]   سنن ابی داؤد باب کراھیۃ التقذر الطعام مجتبائی دہلی ۲ / ۱۷۵

[7]

[8]   مصنف ابن ابی شیبہ الاکل فی اٰنیۃ الکفار ادارۃ القرآن کراچی ۸ / ۹۰

[9]   جامع للترمذی الاکل فی اٰنیۃ الکفار  امین کمپنی دہلی ۲ / ۲

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن