30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
میں کہتا ہوں اگر معتزلہ کا یہی قول ہوتاتو ان پر یہ لازم آتا کہ ایك قطرہ سے پورا سمندر ناپاك ہوجائے ، انہوں نے فرمایا علاوہ ازیں مشہور یہ ہے کہ اختلاف جزء میں فلسفیوں اور مسلمانوں کے درمیان ہے ، اور فلاسفہ نے اس پر عالم کے قدم اور حشر ونشر کی نفی کی بنیاد رکھی ہے اور معتزلہ نے ان چیزوں میں کسی کی مخالفت نہیں کی ہے ورنہ وہ کافر قرار پاتے اھ
میں کہتا ہوں جزء کی نفی کفر نہیں ہے اور نہ ہی لازم مذہب ، مذہب ہوتا ہے ، خاص طور پر یہ لوازم بعیدہ ، اور جو معتزلی مذہب رکھتے ہیں ان پر بہت سے لوازم ہیں ، مگر ان کی تکفیر نہیں کی جاتی ہے ، سو یہ لازم بھی منجملہ ایسے لوازم کے ہو جائے ، تو ثقہ کی نقل کو کیسے رد کیا جائے ، علاوہ اس کے اس میں اتنا کافی ہے کہ یہ بعض کا قول ہو ، جیسا کہ (باقی بر صفحہ آیندہ)
ھذا انما یفید الافضلیۃ لھذا العارض ففی مکان لایتحقق النھر افضل [1] اھ
اھ اس سے افضل ہونے کی یہ عارضی وجہ معلوم ہوتی ہے جہاں یہ وجہ نہ ہو وہاں نہر سے وضو افضل ہوگا۔ (ت)
اقول : اس مصلحت سے اہم دفع تہمت ہے کہ معاذ اللہ لوگوں کو اس پر اتباع معتزلہ کا گمان ہو اس کے دفع کیلئے ایسا کرے اس(۱)کی نظیر مسح موزہ ہے کہ رافضی خارجی ناجائز جانتے ہیں اگر کسی کو اس پر گمان خروج ہو تو اس کے دفع کو مسح موزہ افضل ورنہ فی نفسہٖ پاؤں دھونا افضل۔ دُرمختار میں ہے :
الغسل افضل الالتھمۃ فھو افضل [2]۔
موزے پر مسح سے پاؤں دھونا افضل ہے مگرتہمت سے بچنے کیلئے مسح افضل ہے۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
لان الروافض والخوارج لایرونہ وانما یرون
رافضی خارجی پاؤں پر مسح کرتے ہیں اگر موزے پر مسح
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
یفرقوا بین القلیل والکثیر یلزمھم بالمجاورۃ ایضا تنجیس البحر الکبیر برشح (۲) یسیر فالحق عندی ان ذلك مبنی علی انھم لایلحقون الکثیر بالجاری والله تعالٰی اعلم اھ منہ حفظہ ربہ تعالٰی۔ (م)
فرمانِ الٰہی ہے “ یہود نے کہا کہ عزیراللہ کے بیٹے ہیں “ علماء فرماتے ہیں یہ صرف ایك گروہ کا قول تھا اور یہ فرقہ ختم ہوگیا ، فرمایا بہتر یہ ہے کہ یہ کہا جائے کہ یہ مسئلہ اس امر پر مبنی ہے کہ پانی ان کے نزدیك مجاورۃ کی وجہ سے ناپاك ہوجاتا ہے ، اور ہمارے نزدیك سرایت کی وجہ سے ، اور اس کا پتا اس سے لگتا ہے کہ اس کا اثر پانی میں ظاہر ہوتا ہے ، تو جب تك اثر ظاہر نہ ہو نجاست کا حکم نہ لگایا جائے گا ، یہ مجھ پر ظاہر ہوا ہے تم اس کو غنیمت جانو۔
میں کہتا ہوں بدائع میں اس کی تصریح کی ہے کہ نجس ہونے کی وجہ مجاورۃ ہے اور ہم نے النمیقۃ الانقی میں بیان کیا ہے کہ تھوڑا سا پانی یك دم ناپاك ہوجاتا ہے نہ کہ سرایت سے ، علاوہ ازیں انہوں نے قلیل وکثیر میں فرق نہیں کیا ہے ، ان پر یہ لازم ہے کہ وہ کہیں ایك بڑے سمندر کا پانی بھی مجاورۃ سے ناپاك ہوجاتا ہے خواہ تھوڑے سے چھینٹے کیوں نہ ہوں ، میرے نزدیك حق یہ ہے کہ وہ کثیر پانی کو جاری کے ساتھ ملحق نہیں کرتے ہیں ، والله تعالٰی اعلم۔ (ت)
المسح علی الرجل فاذا مسح الخف انتفت التھمۃ بخلاف مااذا غسل فان الروافض قدیغسلون تقیۃ فیشتبہ الحال فی الغسل فیتھم افادح [3]۔
کرے گا تو تہمت ختم ہوجائے گی بخلاف اس کے کہ جب وہ دھوئے گا کہ رافضی تقیہ سے دھو بھی لیتے ہیں غسل کی صورت میں صورت حال مشتبہ ہوجاتی ہے توتہمت کا خدشہ ہوگا افادح (ت)
اقول : رافضی تقیہ سے سب کچھ کرلیتے ہیں یوں ہی وہابی مجالس میلاد مبارك میں جائیں قیام کریں گیارھویں شریف کی نیاز میں حاضر ہوں پلاؤ کھانے کو موجود اور دل میں شرك وحرام ، لہٰذا ہم نے نفی تہمت خروج سے تصویر کی۔
قال ش ماذکرہ الشارح نقلہ القھستانی عن الکرمانی ثم قال لکن فی المضمرات وغیرہ ان الغسل افضل وھوالصحیح کمافی الزاھدی اھ وفی البحر عن التوشیح ھذا مذھبنا وقال الرستغفنی المسح افضل [4] اھ
اقول : ھذاسبق نظرانمانقل عن الکرمانی التخییربین الغسل والمسح ونقل اولویۃ المسح عن الذخیرۃ ثم (۱) ھولایمس ماذکرالشارح فان کلامہ عند وجود التھمۃ والذی فی الذخیرۃ وغیرھا اولویۃ المسح حکما مطلقًا وعلیہ یرد التصحیح المذکور والله تعالی اعلم۔
“ ش “ نے فرمایا جو شارح نے ذکر کیا ہے اس کو قہستانی نے کرمانی سے نقل کیا ہے پھر فرمایا لیکن مضمرات وغیرہ میں ہے کہ غسل افضل ہے اور یہی صحیح ہے جیسا کہ زاہدی میں ہے اھ اور بحر میں تو شیح سے منقول ہے “ یہ ہمارا مذہب ہے “ اور الرستغفنی نے کہا کہ مسح افضل ہے اھ (ت)
میں کہتا ہوں ان کی نظر چُوك گئی ہے ، کرمانی سے تو یہ نقل کیا ہے کہ غَسل اور مسح میں اختیار ہے اور ذخیرہ سے مسح کی اولویت نقل کی ہے پھر یہ اس کے مطابق نہیں ہے جس کو شارح نے ذکر کیا ہے کیونکہ ان کاکلام وجوہِ تہمت کے متعلق ہے اور جو ذخیرہ وغیرہ میں ہے وہ مسح کے اولیٰ ہونے کا مطلق حکم ہے اور اسی پر مذکور تصحیح وارد ہوتی ہے ، والله تعالٰی اعلم۔ (ت)
ثم اقول : اُس سے بھی اہم دفع وسوسہ ہے اگر کوئی شخص وسوسہ میں مبتلا ہو حوض سے وضو کرتے کراہت رکھتا ہو اُسے حوض ہی سے وضو افضل ہے کہ قطع وسوسہ ہو ورغم الشیطان اھم من رغم المعتزلی والله تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۴۶ : ۱۰ شوال ۱۳۱۲ ہجریہ قدسیہ
اس مسئلہ میں علمائے دین کیا فرماتے ہیں کہ ایك اہلِ اسلام اور ایك ہنود کو حاجت غسلِ جنابت ہے اُن دونوں کا آبِ غسل پاك ہے یا کچھ فرق ہے؟ ایك اہلِ اسلام نے اپنی بی بی سے صحبت کی اور غسل کیا وہ پانی پاك ہے یانہیں؟ اور ہنود نے بھی ایسا ہی کیا ہے اُس کے غسل کا پانی جو مستعمل ہو کر گرا ہے پاك ہے یا ناپاک؟اور ان دونوں کے پانی میں فرق ہے یا نہیں؟ بینّوا توجّروا۔
الجواب :
اگر شرعی طور پر نہائے کہ سر سے پاؤں تك تمام بدن ظاہر پر پانی بَہ جائے اور حلق کی جڑ تك سارامنہ اور ناك کے نرم بانسے تك ساری ناك دُھل جائے تو کافر کی جنابت اُتر جائے گی ورنہ نہیں ،
فی التنویر والدر والشامی یجب علی من اسلم جنبا اوحائضاوالابان اسلم طاھرا [5] (ای من الجنابۃ والحیض والنفاس ای بان کان اغتسل) فمندوب انتھی [6]ملخصا۔
تنویر ، در اور شامی میں ہے کہ واجب ہے اس شخص پر جو اسلام لایاجنابت کی حالت میں یا عورت اسلام لائی حیض کی حالت میں ، ورنہ اگر پاکی کی حالت میں اسلام لایا (یعنی جنابت ، حیض اور نفاس سے پاك ہونے کی حالت میں ، اگر ناپاك تھا تو غسل کرلیا) تو مندوب ہے انتہی ملخصا۔ (ت)
[1] (۱ فتح القدیر باب الماء الذی یجوزبہ الوضوء ومالایجوزبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۷۲)
[2] درمختار باب المسح علی الخفین مجتبائی دہلی ۱ / ۴۶
[3] ردالمحتار باب المسح علی الخفین مصر ۱ / ۱۹۳
[4] ردالمحتار باب المسح علی الخفین مصر ۱ / ۱۹۳
[5] الدرالمختار موجبات الغسل مجتبائی دہلی ۱ / ۳۲
[6] ردالمحتار موجبات الغسل مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۲۴
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع