دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 2 | فتاوی رضویہ جلد ۲

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۲

الکسر الزائد اقل من النصف اسقطوہ کما ھو عادۃ اھل الحساب وصاحب الخلاصۃ اعتبر ایضا مااعتبر فی الکبری لکنہ لم یتدنق فی الحساب فاخذ الکسر الزائد واحداللاحتیاط فاخذ الامتداد الاطول خمسۃ عشر فاذا اعتبرناہ قطرا یکون المحیط سبعاواربعین ذراعا وسبع ذراع فاعتبر ثمانیاواربعین تتمیما عـــہ۲ للکسر  ، والقاضی                                                                                                                                                                                                                                       

اس خط کی ہے جو دو متقابل زاویوں کے درمیان متصل ہے ، اور یہ مربع مذکور میں ممکنہ امتدادات میں سب سے لمباہے اس کی دلیل پہلامقدمہ ہے تو فتاوی کبری میں اس امر کا اعتبار کیا گیا ہے کہ گول حوض کا قطر مربع حوض کے مفروضہ امتدادات میں سب سے طویل ہوتاکہ گول حوض میں شرط مذکور کے ساتھ مربع کاہونا ممکن ہو ، اور گول حوض کے محیط سے دو متقابل اجزا کادرمیانی بُعد کسی جگہ بھی مربع کے امتدادات میں سے طویل ترسے چھوٹا نہ ہو تو گول حوض کا محیط اس امتداد سے تین گُنااور ساتواں ہوگایعنی چوالیس ہاتھ اور چار اعشاراور دسویں کے دو ثلث ہوں گے ، یہ دوسرے مقدمہ سے ثابت ہے اورچونکہ کسرِ زائد نصف سے کم ہے تو اس کو ساقط کر دیا گیا ، جیسا کہ حساب دانوں کا طریقہ ہے ، اور خلاصہ کے مصنف نے وہی اعتبار کیا ہے جو فتاوٰی کبریٰ میں کیا ہے ، لیکن انہوں نے حساب میں باریك بینی نہ کی ، تو انہوں نے کسر زائد کو ایك اعتبار کیا احتیاطاً ، تو انہوں نے طویل ترین امتداد کا اعتبار پندرہ ذراع

 عـــہ۱ : بل الکسر علی ماذکرہ ۴۷۱۴ء وھو اربعۃ اعشارواکثر من ثلثی عشر بقدر ۱۲۵ / ۶ تقریبا وعلی ماذکرنا ٤٤٦٣ء وھو اربعۃ اعشار واقل بثلثی عشر بقدر ۲۵۰ / ۵۱ ای اکثر من خمس العشر اھ منہ (م)

عـــہ۲ :  اقول السبع (۱) لایتم ولا احتیاط فی الاحتیاط فکان یجب ترکہ اھ منہ۔  (م)

بلاکہ ان کے ذکر کے مطابق کسر ۴۷۱۴ء ہے اوریہ چار عشر اور ایك عُشر کے دو تہائی حصے سے تقریباً ۱۲۵ / ۶ کی مقدار میں زیادہ ہے اور ہمارے بیان کے مطابق ۴۴۶۳ء ہے اوریہ چار عشر اور ۲۵۰ / ۵۱ کی مقدار میں دسویں حصے کے دو ثلث سے کم یعنی دسویں حصے کے پانچویں حصے سے زیادہ۔ (ت)

میں کہتا ہوں کہ ساتواں حصہ مکمل نہیں ہوتااوراس احتیاط میں احتیاط نہیں ہے لہٰذا اس کا ترك کرنا واجب تھا۔ (ت)

الامام ظہیرالدین اعتبر ان تکون مساحۃ الحوض المدورمساویۃ لمساحۃ المربع فیکون الماء فیہ مساویا لماء المربع ویشبہ ان یکون ھذا ماخوذاعمانقل عن محمدبن ابراھیم المیدانی علی مامرفنقول کانت المساحۃ مائۃ قسمناھاباحد عشر قسما کان کل قسم تسعۃ وجزء من احد عشرفاذازدنا ثلثۃ امثالھاعلی المائۃ حصل مائۃ وسبعۃ وعشرون وثلثۃ اجزاء من احد عشر وجذرہ یکون احد عشرو خمساونصف عـــہ۱ سدس تقریباوھوقطردائرۃ مساحتھامائۃ للمقدمۃ الثالثۃ وثلثۃ امثالہ مع سبعہ اعنی محیط الحوض المدور یکون خمساوثلثین ذراعا ونصف ذراع الانصف عـــہ۲ عشرفاعتبرواھذاالکسرواحدا

واخذوامحیطہ ستاوثلثین وانما اوردنا ھذہ المباحث لیظھر وجہ صحۃ اقوال ھؤلاء الائمۃ وانہ لیس شیئ منھاکما توھم بعضھم غلطاصریحا وکم من عائب قولا صحیحا  [1] اھ۔                                                                                                                                                                                                                   

اور قاضی ظہیر الدین نے گول حوض کی پیمائش مربع کی پیمائش کے مساوی قرار دی ہے ، تو اس کا پانی مربع کے پانی کے مساوی ہوگا ، اور غالباً یہ محمد بن ابراہیم میدانی کی نقل سے ماخوذ ہے جیسا کہ گزرا ہم کہتے ہیں پیمائش سو تھی اس کو ہم نے گیارہ پر تقسیم کیا تو ہر حصہ نو اور گیارہ کا ایك جُز ہوااور جب اس کا تین گنا سو پر زائد کیاتو ایك سو ستائیس۱۲۷اورگیارہ کے تین اجزاء حاصل ہوئے اور اس کا جذر گیارہ ، اور پانچواں اور چھٹے کا تقریباً نصف ہوا اور وہ دائرہ کا قطر ہے جس کی پیمائش سو ہے ، اس کی دلیل تیسرا مقدمہ ہے اور اس کا تین گنا مع ساتویں کے یعنی گول حوض کا محیط پینتیس ذراع اورنصف ذراع دسویں کانصف کم ہوگاتواس کسر کو انہوں نے پوراایك شمار کیا اور اس کا محیط چھتیس لیا اور ہم نے یہ مباحث اس لئے ذکر کیے تاکہ ان ائمہ کے اقوال کی صحت کاسبب معلوم ہوسکے اور یہ کہ ان میں سے کوئی بھی صریح غلط نہیں جیسا کہ بعض نے وہم کیا ، اوربہت سے لوگ صحیح اقوال کو عیب لگاتے ہیں اھ (ت)

 

عـــہ۱  ای اقل منہ بشیئ قلیل فانہ ٢ء تقریبا اھ منہ (م) عـــہ۲ بل المستثنی اقل منہ فعلی ماذکرہ ۱۰۵ / ۴ وعلی ماذکرنا ۵۰۰۰ / ۲۱۹ اھ منہ (م)   

یعنی اس سے کچھ کم کیونکہ وہ تقریباً ۲۸۱۵۱۸ء۱۱ ہے اھ (ت)

بلالکہ مستثنیٰ اس سے کم ہے ان کے ذکر کے مطابق ۱۰۵ / ۴ ہے$&'); container.innerHTML = innerHTML; }

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن