دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 2 | فتاوی رضویہ جلد ۲

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۲

بدن الانسان ارسالا تاما غیرجانحین الی تقییدھا بعدم نیۃ القربۃ(۱)کمسألۃ غسل الدابۃ المذکورۃ فی المبتغی والفتح والبحر والدر و التتارخانیۃ وغیرھا ومسألۃ القدور والقصاع ھذہ وغیرھا فاطباقھم علی اطلاقھا یؤذن باتفاقہم علی تقییدھا ببدن الانسان فان کل ذلك یحتمل نیۃ القربۃ کغسل ثوب ابویہ من الوسخ والثمار من الغبار لاکلھما واحجار فرش المسجد للتنظیف الی غیر ذلك فما من مباح الا ویمکن جعلہ قربۃ بنیۃ محمودۃ کم لایخفی علی عالم علم النیات

وثالثًا : (۲)ھذاالتقیید ھو القضیۃ للدلیل(۳) الذی جعل بہ اقامۃ القربۃ مغیر ا للماء عن وصف الطہوریۃ اعنی حملہ الاٰثام من البدن المستعمل فیہ فی الھدایۃ قال محمد رحمہ الله تعالٰی  لایصیر مستعملا الاباقامۃ القربۃ لان الاستعمال بانتقال نجاسۃ الاٰثام الیہ وانھا تزول بالقرب وابو یوسف رحمہ الله تعالٰی  یقول اسقاط الفرض مؤثر ایضا فیثبت الفساد بالامرین [1]اھ وفی العنایۃ التغیر عندھما(ای تغیر الماء وتدنسہ عندالشیخین رضی الله تعالٰی  عنھما)انما یکون بزوال نجاسۃ حکمیۃ عن المحل          

ثانیًا : فقہاء سب کے سب غیر انسان کے بدن میں استعمال کے مسائل کو مطلق رکھتے ہیں عدمِ نیتِ قربت کی قید نہیں لگا تے ہیں ، جیسے گھوڑے کو غسل دینے کا مسئلہ جس کا ذکر مبتغی ، فتح ، بحر ، دُرّ اور تتارخانیہ وغیرہ میں ہے اور کپڑے اور پتھروں کا مسئلہ _______ پھلوں کا مسئلہ ، ہانڈیوں اور پیالوں کا مسئلہ وغیرہا تو اُن تمام فقہا کا ان کو مطلق رکھنے پر اتفاق کرلینا اس امر کی علامت ہے کہ وہ سب کے سب اس کو بدنِ انسانی کے ساتھ مقید کرنے پر متفق ہیں کیونکہ ان میں سے ہر ایک نیتِ قربت کا احتمال رکھتا ہے ، جیسے اپنے والدین کے میلے کپڑوں کا دھونا ، اور والدین کے کھلانے کیلئے پھلوں کا دھونا ، اور مسجد کے فرش کا صفائی کیلئے دھونا وغیرہ تو ہر مباح کا نیت محمودہ سے قربت کرلینا ممکن ہے ، اور نیتوں کا جاننے والا اِسے خوب جانتا ہے۔

ثالثًا : یہ قید لگانا ہی دلیل کا تقاضا ہے جس کی وجہ سے قربت کی ادائیگی کو پانی کے وصف کو طہوریۃ سے متغیر کردینے والا قرار دیا تھا ، یعنی اُس کا بدن سے گناہوں کا دُور کردینا۔ ہدایہ میں ہے کہ امام محمد نے فرمایا پانی قربت کی ادائیگی سے ہی مستعمل ہوتا ہے کیونکہ استعمال کی وجہ گناہوں کا اُس کی طرف منتقل ہونا ہے ، اور یہ چیز قُربت کی ادائیگی سے ہی ہوتی ہے ، اور امام ابو یوسف فرماتے ہیں کہ اسقاطِ فرض بھی اس میں مؤثّر ہے تو

وانتقالہا الی الماء وقد انتقلت الی الماء فی الحالین(ای حال اقامۃ القربۃ وحال اسقاط الواجب(کما تقدم من

دونوں صورتوں میں فساد ثابت ہوجائے گا اھ اور عنایہ میں ہے کہ تغییر اُن دونوں کے نزدیک(یعنی پانی کا بدلنا اور اُس کا

 اعتبارھا بالنجاسۃ الحقیقیۃ فیثبت فساد الماء بالامرین جمیعا [2]اھ موضحا ، ومثلہ فی البحر عن المحیط حیث قال تغیر الماء عند محمد باعتبار اقامۃ القربۃ بہ وعندھما باعتبار انہ تحول الیہ نجاسۃ حکمیۃ وفی الحالین تحول الی الماء نجاسۃ حکمیۃ فاوجب تغیرہ [3]  اھ وفی التبیین سببہ اقامۃ القربۃ اوازالۃ الحدث بہ عند ابی حنیفۃ وابی یوسف وعند محمد رضی الله تعالٰی  عنھم اقامۃ القربۃ لاغیر والاول اصح لان الاستعمال بانتقال نجاسۃ الحدث اونجاسۃ الاٰثام الیہ[4]  اھ وقال فی الکافی سؤر الکلب نجس لقولہ صلی الله تعالٰی علیہ وسلم یغسل الاناء من ولوغ الکلب ثلثا لایقال جاز ان یؤمر بالغسل تعبداکما امر المحدث بالوضوء لان الغسل تعبدالم یشرع الا فی طھارۃ الصلاۃ فانہ یقع لله تعالٰی  عبادۃ والجمادات لایلحقہا حکم العبادات لانھا باعتبار نجاسۃ الاٰثام والجمادات لیست باھل لھا لایقال(۱)الحجر                

میلا ہونا شیخین رضی اللہ عنہما کے نزدیک(نجاست حُکمیہ کا محل سے زائل ہو کر پانی کی طرف منتقل ہونے کے باعث ہوگا ، اور یہ نجاست دونوں صورتوں میں ہی پانی کی طرف منتقل ہوئی ہے)قربۃ کی ادائیگی اور اسقاط فرض دونوں صورتوں میں)جیسا کہ گزرا کہ اس کو نجاست حقیقیہ پر قیاس کیا گیا ہے ، تو پانی کا فساد دونوں صورتوں میں ثابت ہوجائے گا اھ اسی قسم کی بات بحر میں محیط سے منقول ہے ، وہ فرماتے ہیں پانی کا تغیر امام محمد کے نزدیک اس پر مبنی ہے کہ قُربت اُس سے ادا کی گئی ہے ، اور شیخین کے نزدیک اس لئے ہے کہ پانی کی طرف نجاست حکمیہ منتقل ہوئی ہے اور دونوں حالتوں ہی میں پانی کی طرف نجاست حکمیہ منتقل ہوئی ہے اس لئے پانی متغیر ہوجائے گا اھاور تبیین میں ہے اس کا سبب قُربۃ کا قائم کرنا ہے اور اُس سے حَدَث کا زائل کرنا ہے یہ شیخین کے نزدیک ہے ، اور امام محمد کے نزدیک صرف قُربت کا ادا کرنا ہے ، اور اول اصحّ ہے کیونکہ استعمال کا باعث یہ ہے کہ حَدَث کی نجاست اُس کی طرف منتقل ہوئی ہے یا گناہوں کی نجاست اس کی طرف منتقل ہوئی ہے اھ اور کافی میں ہے کہ کُتّے کا جھُوٹا نجس ہے کیونکہ

الذی استعمل فی رمی الجمار یغسل ویرمی ثانیا لاقامۃ القربۃ بہ لان الحجر الۃ الرمی وقد تتغیر الالۃ بنقل نجاسۃ الاٰثام الیھا کمال الزکٰوۃ والماء المستعمل[5] اھ باختصار۔

حضور اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے فرمایا : “ جس برتن کو کُتّا لے اس چاٹ کو تین مرتبہ دھویا جائے۔

اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ یہ بھی تو جائز ہے کہ غسل کا حکم تعبُّداً دیا جائے جیسے بے وضو کو وضو کا حکم دیا گیا ، تو اس کا جواب یہ ہے کہ غسل تعبُّداً صرف نماز کی طہارت کیلئے مشروع ہوا ہے کیونکہ وہ اللہ کی عبادت ہے ، اور جمادات کو عبادات کا حکم نہیں ہے ، کیونکہ وہ گناہوں کی نجاست کی وجہ سے ہے ، اور جمادات گناہوں کے اہل نہیں ہیں۔ اگر یہ اعتراض کیا جائےکہ وہ پتھر جو رمی جمرات میں استعمال ہوا ہو اس کو دھو کردوبارہ اُسی سے قربت کی ادائیگی کیلئے رمی کی جائے تو کیا حکم ہے ، اس کا جواب یہ ہے کہ پتھر آلہ رمی ہے اور آلہ اس کی طرف گناہوں کے منتقل ہونے کی وجہ سے متغیر ہوجاتا ہے جیسے زکوٰۃ کا مال اور مستعمل پانی اھ باختصار۔

اقول :  وبما حثنا ھذہ ظھر ولله الحمد ان مطلق الوقایۃ والنقایۃ والکنز والغرر والاصلاح والملتقی والتنویر محمول علی مقید الکتاب والھدایۃ والمنیۃ ومما یؤیدہ اطباقھم علی اشتراط الانفصال عن العضو للحکم بالاستعمال وانما(۱)وقع المقال فی اشتراط القرار بعد الانفصال فشرطہ بعض المشائخ وبہ جزم فی الکنز مخالفا لکا فیہ واختارہ الامام فخرالاسلام وغیرہ فی شروح الجامع الصغیر وھو مذھب الامام ابی حفص الکبیر والامام ظھیر الدین المرغینانی وقال فی الخلاصۃ ھو المختار ورجحہ الاتقانی فی غایۃ البیان زاعماان فی عدم اشتراطہ حرجا کما بینہ مع جوابہ فی البحر والمذھب             

الحمدلله ہماری ان بحثوں سے معلوم ہوا کہ وقایہ ، نقایہ ، کنز ، غُرر ، اصلاح ، ملتقی اور تنویر کا اطلاق کتاب(قدوری)ہدایہ اور منیہ کے مقید پر محمول ہے ، اور اس کی تائید اس امر سے بھی ہوتی ہے کہ ان کا اتفاق ہے کہ پانی کا عضو سے جُدا ہونا اس کے مستعمل ہونے کیلئے شرط ہے۔ اختلاف صرف اس امر میں ہے کہ انفصال کے بعد قرار کی شرط ہے یا نہیں؟ تو بعض مشائخ نے اس کی شرط رکھی ہے اور اسی پر کنز میں جزم کیا ہے جو اسکی اپنی کافی کے خلاف ہے ، اور اس کو امام فخرالاسلام نے جامع صغیر کی شروح میں مختار قرار دیا ہے ، اور یہی ابو حفص کبیر اور امام ظہیر الدین مرغینانی کا مذہب ہے ، اور خلاصہ میں اسی کو مختار قرار دیا ہے ، اور غایۃ البیان میں علامہ اتقانی نے اس کو راجح قراردیا ہے اور فرمایا ہے کہ اس کو شرط نہ کرنے میں حرج ہے

عندنا ھو حکم الاستعمال بمجرد الانفصال و صححہ فی الھدایۃ وکثیر من الکتب واعتمدہ فی الکافی وضعف خلافہ وعلیہ المحققون کما فی الفتح والعامۃ کما فی البحر بل فی المحیط ان القائل باشتراط الاستقرار الامام سفیٰن الثوری رحمہ الله تعالٰی دون اھل المذھب وقد تکفل فی الفتح والبحر برد ماتعلقوا بہ واشار الیہ فی الدر وبالجملۃ المذکور فی کلام الفریقین ھو الانفصال عن العضو المؤذن بان المراداستعمالہ فی البدن لاغیر  والله تعالٰی اعلم ،

ورابعا : (۱)محل نظر کون غسل الاوانی بالماء لمجرد اثر الطعام قربۃ مطلوب بعینھا بل المطلوب ھو التنظیف وربما یحصل بلحس وبخرقۃ وبغیر ماء مطلق و(۲)الاول اقرب الی التواضع والتأدب باٰداب السنۃ ، فاخرج عــہ الامام مسلم فی صحیحہ عن جابر رضی الله تعالٰی عنہ    

 



[1]      الہدایۃ باب الماء الذی یجوزبہ الوضوء  المکتبۃ العربیۃ کراچی ۱ / ۲۲)

[2]   العنایۃ علی حاشیۃ فتح القدیر باب الماء الذی یجوزبہ الوضوء نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۷۸

[3]   بحرالرائق بحث الماء المستعمل ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۹۱)

[4]              تبیین الحقائق الماء المستعمل بولاق مصر ۱ / ۲۴)

[5]    کافی

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن