30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
میں کہتا ہوں ان کی مراد یہ ہے کہ یہاں کسر ہے جو ساقط کردی گئی ہے یابڑھائی گئی ہے آسانی کیلئے ، پھر میں نے فتح میں دیکھا تو انہوں نے رفع کو متعین کردیا ، فرمایا اگر حوض گول ہو تو اس کا اندازہ چوالیس اور اڑتالیس کیا گیا ہے اور مختار چھیالیس کیا گیا ہے اور حساب کے اعتبار سے اس سے کم پر بھی اکتفاء کیا جائیگا کسرِ نسبت کیلئے ، لیکن چھیالیس پر فتوٰی دیا جائیگا تاکہ کسر کی رعایت میں پریشانی لاحق نہ ہو ، فرمایا یہ تمام باتیں محض اپنی مرضی سے کہہ دی گئی ہیں ان کا ماننا لازم وضروری نہیں صحیح وہی ہے جو ہم نے پہلے ذکر کیا ہے کہ کسی معین مقدار کا ہونا ضروری نہیں ہے اھ یعنی اصل مذہب پر عمل کرتے ہوئے ، اور آپ جان چکے کہ فتوٰی دس۱۰ پر ہے۔ (ت)
سوم : چوالیس ہاتھ اس کی ترجیح اس وقت کسی کتاب سے نظر میں نہیں ، جامع الرموز میں ہے :
امافی المدور فیشترط ان یکون دورہ ثمانیا و اربعین ذراعا وقیل اربعاواربعین فالاول احوط کمافی الکبری [1]۔
گول حوض میں شرط یہ ہے کہ اس کا دور اڑتالیس ہاتھ ہو ، اور ایك قول ہے کہ چوالیس ہاتھ ہو تو اول احوط ہے جیسا کہ کبری میں ہے۔ (ت)
چہارم : چھتیس ہاتھ ملتقط میں اسی کی تصحیح کی امام ظہیرالدین مرغینانی نے فرمایا یہی صحیح اور فن حساب میں مبرہن ہے ، جامع الرموز میں ہے :
وقیل ستۃ وثلثین وھو الصحیح المبرھن
اور ایك قول ہے کہ یہ چھتیس ہے اور یہی صحیح ہے
عند الحساب کما فی الظھیریۃ وفی الاولین تحقق الحوض المربع داخل المدور وفی الثالث مایساو یہ[2]۔
اور حساب کی رُو سے مبرہن ہے کما فی الظہیریہ اور پہلے دو میں مربع حوض مدوّر حوض متحقق ہوگیا اور تیسرے میں اس کے مساوی ہے۔ (ت)
اسی پر مولی خسرو نے متن غرر میں مع افادہ تصحیح اور مدقق علائی نے درمختار اور علامہ فقیہ ومحاسب شرنبلالی نے مراقی الفلاح میں جزم فرمایا ردالمحتار میں ہے :
قولہ وفی المدور بستۃ وثلثین ای بان یکون دورہ ستۃ وثلثین ذراعا وقطرہ احد عشر ذراعا وخمس ذراع ومساحتہ ان تضرب نصف القطروھو خمسۃ ونصف وعشر فی نصف الدور وھو ثمانیۃ عشر یکون مائۃ ذراع واربعۃ اخماس ذراع اھ سراج وما ذکرہ ھو احد اقوال خمسۃ عـــہ۱ وفی الدرر عن الظھیریۃ ھو الصحیح[3]۔
ان کا قول کہ مدور میں چھتیس ہیں یعنی اس کادور چھتیس گز ہو اور اس کا قطر گیارہ گز اور ایك خمس ہو اور اس کی مساحت یہ ہے کہ نصف قطر یعنی ساڑھے پانچ کو اور دسویں کو نصف دور میں ضرب دی جائے ، اور یہ اٹھارہ ہے ، تو کل سو ہاتھ اور چار خمس ذراع ہوگا اھ سراج ، اور جو انہوں نے ذکر کیا ہے وہ پانچ میں سے ایك قول ہے اور درر میں ظہیریہ سے ہے کہ یہی صحیح ہے۔ (ت)
اقول : تحقیق یہ ہے کہ اُس کادور تقریباًساڑھے پینتیس ہاتھ چاہئے یعنی ۴۴۹ء ۳۵ تو قطر تقریباً ۵ گز ۲ / ۱ -۱۰ گرہ ہوگا بلالکہ دس گرّہ ایك اُنگل یعنی ۲۸۴ء ۱۱ ہاتھ بیان اس کا یہ کہ اصولِ ہندسہ عـــہ۲ مقالہ ۴ شکل ۱۲ میں ثابت ہے کہ محیط دائرہ کو ربع قطر میں ضرب دینے سے مساحت دائرہ حاصل ہوتی ہے یا قطر دائرہ کو ربع محیط
عـــہ۱ لم ارفی التقدیر الا اربعۃ اقوال وکانہ اراد بالخامس ماذکر المحقق ان لاتعیین منہ حفظہ ربہ تعالی (م)
میں نے تقدیر میں صرف چار قول دیکھے ہیں شامی نے گویا پانچویں سے وہ مراد لیا ہے جس کو محقق نے ذکر کیا ہے کہ تعیین نہیں۔ (ت)
عـــہ۲ : یہ کتاب کتاب اقلیدس سے جُدا وجدید ہے ۸ مقالوں پر مشتمل اورہندسہ ومساحت ومثلث کروی سب میں مفید ہے اس میں بہت دعاوی کابیان کتاب اقلیدس پر مزید ہے فاضل محمد عصمہ مصری نے اسے ترکی سے عربی میں ترجمہ کیا ۱۲ (م)
یا نصف قطر کو نصف محیط میں ضرب دیجئے یا قطر ومحیط کو ضرب دے کر ۴ پر تقسیم کیجئے کہ حاصل سب کا واحد ہے اور ہم نے(۱) اپنی تحریرات ہندسیہ میں ثابت کیا ہے کہ قطر اجزائے محیطیہ سے قدحہ لہ الط لومہ ہے نصف قطر نرحہ لرمد مح یعنی محیط جسے مقدار سے ۳۶۰ درجے ہے قطر اُس سے ۱۱۴ درجے ۳۵ دقیقے ۲۹ ثانیے ۳۶ ثالثے ۴۵ رابعے ہے۔
وفی حساب الفاضل غیاث الدین جمشید الکاشی علی مانقل العلامۃ البرجندی فی شرح تحریر المجسطی لوبعہ ای ستاوخمسین مکان مہ لایفارق محسوبی الابنحو رابعۃ وجاء بحساب اخر مربعہ رفعا ای سبعا واربعین وبالجملۃ لافرق الا فی بعض روابع وعلی ھذا الاخیر عولنا۔
اور فاضل غیاث الدین جمشید الکاشی کے حساب میں جیسا کہ علامہ برجندی نے شرح تحریر مجسطی میں لکھا ہے لوبعہ یعنی ۵۶ بجائے مہ ، یہ حساب میرے حساب سے مختلف نہیں مگر صرف ۱۱ رابعہ کی مقدار میں اور دوسرے حساب سے مربعہ رفعا یعنی سینتالیس ہے ، خلاصہ یہ کہ اختلاف صرف بعض روابع میں ہے اور اسی اخیر پر
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع