30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
میں کہتا ہوں اس کی دلیل بہت واضح ہے کیونکہ مقصود نجاست کا پانی پر غالب ہونا ہے تاکہ نجاست کا وصف اس میں ظاہر ہوجائے ، اور یہ تب ہے جب خود اس کا اپنا وصف اس میں ظاہر ہو نہ کہ اس چیز کا جو اس کی وجہ سے نجس ہوئی ہے ، مثلاً اگر نجاست اتنی تھوڑی ہوتی کہ پانی پر غالب نہ ہوتی اور بجائے عرق گلاب کے سادہ پانی ہوتا تو اس کا اثر ظاہر نہ ہوتا تو اسی طرح گلاب کے پانی کا حال ہے کیونکہ نجاست قلۃ وکثرۃ میں ناپاك ہونے والے پانی کے اعتبار سے مختلف نہیں ہوتی ہے۔ (ت)
تو جبکہ وہ نجاست(۲)جس سے چُونا ناپاك ہوا مرئی نہیں تو یہ صورت نجاست غیر مرئیہ کی ہے اس سے وہ روایت متعلق نہیں بلالکہ یہاں بالاتفاق حکمِ طہارت ہے والله تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۴۳ : ازکوٹارمپورہ عقب موچی کٹرہ مکان چاند خان دفعدار مرسلہ شیخ ممتاز علی بیکل منگلوری سرویر محکمہ جنگلات کوٹا۱۰ جمادی الاولی ۱۳۳۴ھ۔
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین سوالاتِ ذیل کے جواب میں خداوند کریم آپ کو اجرِ عظیم اور سائل کو صراطِ مستقیم عطا فرمائے۔
عمرو وزید دو شخص ہیں عمرو سے کسی نے دریافت کیا کہ یہ چاہ جو سامنے موجود ہے اس کا پانی قابلِ وضو اور نیز دیگر استعمال کے ہے یا نہیں؟عمرو نے جواب دیاکہ بنا بررفعِ شك چاہ کو ناپ لیا جائے چنانچہ وہ کُنواں ناپا گیا تو لمبائی ۲ / ۱ -۱۱ ہاتھ اور چوڑائی ۲ / ۱ -۹ ہاتھ گہرائی ۳ ہاتھ ہوئی جو برابر ہے ۷۵ع ۳۲۷ ہاتھ کے مگر زید اس کو ۴۲ ہاتھ بتلا کر اس کے پانی سے وضوناجائز بتلاتا ہے اورپانی ہذا کو قابلِ استعمال نہیں بتلاتا لیکن عمرو نے اسی چاہ سے وضو کیا اور زید نے عمرو کے پیچھے نماز پڑھی لہٰذا التماس ہے کہ اس پانی کا استعمال موافق شرع شریف جائز ہے یا نہیں اور زید کی نماز اس صورت میں عمرو کے پیچھے ہوئی یا نہیں؟
نوٹ : اس چاہ میں پانی کی اس قدر آمد ہے کہ اگرچر س بند کردیا جائے جو دن بھر پانی کھینچتا ہے تو چاہ لبریز ہو کہ زائد پانی ایك راستہ سے خارج ہو کر چند روز میں دو سو فیٹ لمبے اور پچاس فیٹ چوڑے بند کو جس کی گہرائی بھی ۳ فیٹ سے کم نہیں لبریز کردیتا ہے۔ یہ پانی مویشی پیتے ہیں یہ تو موسم سرما کی حالت ہے اور موسم گرما میں چرس چلے یا نہ چلے کنویں سے پانی باہر نہیں آتاالبتہ جس قدر کنواں خالی ہوجاتا ہے وقت چرس چلنے کے اُتنا ہی رات کو پھر کنویں میں پانی آجاتا ہے ماسوا اس کے پہاڑی علاقہ ہونے کے سبب ایسے کنویں قلیل ہیں کہ جن کاپانی ڈول وغیرہ سے کھینچا جائے ورنہ عام کنویں زینہ دار ہیں تمام لوگ اندر جا کر پانی پیتے اور بھرتے ہیں بلالکہ نہانا اور عام طور پر کپڑے وغیرہ دھونے کا عام رواج ہے ، ہاں بعض موقع پر ایسا بھی رواج ہے کہ جس کنویں کے اندر نہاتے ہیں اُس کا پانی نہیں پیتے۔
الجواب :
پانی میں فقط اُس کی سطح بالا کی پیمائش معتبر ہے عمق کا اصلاً لحاظ نہیں اگر اوپر کی سطح مثلاً ایك ہاتھ مربع ہے اور ہزار ہاتھ گہرا ہے تو وہ ایك ہی ہاتھ قرار پائے گا اور سطح سو ہاتھ ہے اور فقط نصف ہاتھ گہرا ہے تو وہ پورا سو ہاتھ ٹھہرے گا نہ کہ پچاس۔ عمق صرف اتنا ہونا چاہئے کہ لپ میں پانی لینے سے زمین نہ کُھلے لہٰذا چاہ مذکور کی مساحت ۲۵ء۱۰۹ ہاتھ ہے نہ ۷۵ء ۳۲۷ بہرحال شك نہیں کہ وہ مائے کثیر ہے اُس سے وضو وغسل اور اُس میں کپڑے دھوناسب جائز ہے وہ نجاست پڑنے سے بھی ناپاك نہ ہوگا جب تك نجاست اس کا رنگ یا مزہ یا بُو نہ بدل دے اُسے ۴۲ ہاتھ کہنا محض بے علمی اور اُس سے وضو وغسل ناجائز بتانا صریح نادانی ہے اور اگر واقع $&'); container.innerHTML = innerHTML; }
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع