دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 2 | فتاوی رضویہ جلد ۲

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۲

ای ممالہ دم سائل کالفأرۃ والحیۃ والوزغۃ بخلاف مالادم لہ کالخنفس والصرصر و العقرب فانہ لایکرہ کمامرو تمامہ فی الامداد [1] اھ۔

اقول : (۱)فلایتجہ مازعم فی جامع الرموز من کراھۃ سؤر العقرب بالاتفاق ولم یعزہ لاحد والله تعالی اعلم۔                            

اُسی میں زیرِ قول شارح وسواکن بیوت فرمایا۔ یعنی وہ جانور جن میں بہنے والا خون ہو جیسے چُوہا ، سانپ ، چھپکلی۔ بخلاف ان جانوروں کے جن میں خون نہ ہو جیسے خنفس(ہشت پا) صرصر(جھینگر ، مجیرا)بچھّو ، کیونکہ یہ مکروہ نہیں ، جیسا کہ گزرا ، اور مکمل بحث امداد میں ہے۔ ت انہوں نے کسی کی طرف منسوب نہیں کیا والله  تعالٰی اعلم۔ (ت)

میں کہتا ہوں اس سے معلوم ہوا کہ جامع الرموز میں ہے کہ بچھّو کا جُوٹھا مکروہ ہے بالاتفاق ، اسکی کوئی وجہ معلوم نہیں ہوتی ، اس کو

مسئلہ ۴۱ :                ازجالندھر محلہ راستہ متصل مکان ڈپٹی احمد جان صاحب مرسلہ محمد احمد خان صاحب             ۲۰ شوال ۱۳۱۴ھ

نامحرم عورت جوان یا بُڑھیا اپنے مرشد کا جوٹھاپانی یا شوربا پی لے تو درست ہے یا نہیں ، مکروہِ تحریمی یا تنزیہی ، باسند لکھیں۔

الجواب :

تلذّذو شہوانی کی نیت سے حرام اور خالص تبرك کی نیت سے جائز  وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ الْمُفْسِدَ مِنَ الْمُصْلِحِؕ- (اللہ   تعالٰی خوب جانتا ہے مفسد کو مصلح سے۔ ت)صحیح حدیث میں ہے جب حضور پُرنور سید عالم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم ہجرت فرما کر سیدنا ابو ایوب انصاری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے یہاں مقیم ہوئے حضور اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا اولش جب اُن کے گھر جاتا وہ اور ان کے گھر والے حضور اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی انگشتانِ مبارك کے نشان کی جگہ سے کھاتے ، دُرمختار کتاب الخطر میں ہے :

یکرہ للمرأۃ سؤر الرجل وسؤ رھالہ[2]۔

مرد کا جوٹھا عورت کیلئے اور عورت کا مرد کیلئے مکروہ ہے۔ (ت)

اُسی کے آخر فصل فے البئر میں ہے :

یکرہ سورھا للرجل کعکسہ لاستلذاذ [3]۔

عورت کاجوٹھا مرد کیلئے اور مرد کا عورت کیلئے لذّت لینے کیلئے مکروہ ہے۔ (ت)

ردالمحتار میں ہے :

یفھم منہ انہ حیث لااستلذاذ لاکراھۃ ، [4] والله   تعالٰی اعلم ۔

اس سے یہ سمجھ میں آیا اگر لذّت کیلئے نہ ہو تو کراہت نہیں۔ والله   تعالٰی اعلم(ت)

مسئلہ ۴۲ :                از مقام چتور گڑھ علاقہ اودے پور راجپوتانہ  مسئولہ مولوی عبدالکریم صاحب    ۱۶ ربیع الاول شریف ۱۳۳۴ھ

پانی کی نالی ناپاك چُونے سے تیار کی گئی اورخشك ہونے سے قبل اُس میں پانی جاری کیا گیا اور وہ پانی حوض میں اُسی جگہ سے جمع ہوناشروع ہوا جہاں ناپاك چُونے سے بند کی گئی تھی تو کیا یہ پانی پاك ہے یا ناپاک ، فقہاء نے لکھا ہے کہ جس تالاب میں نجاست کنارہ پر ہو اور پانی وہیں سے جمع ہوتاہو تو وہ پانی ناپاك ہے تو اس روایت پر تمام پانی ناپاك ہوگا۔

الجواب :

پانی اگر اُوپر سے اُس نالی پر بہتا ہوا آیا اور بہتا ہوا گزر گیا تو صحیح مذہب یہ ہے کہ ناپاك نہ ہوگا جب تك کہ اس کے کسی وصف میں اُس کے سبب تغیر نہ ہو دوسری روایت ضرور یہ ہے کہ کل یا اکثر یا نصف پانی کا بہاؤ اگر نجاست پر ہو تو بہنا نفع نہ دے گا کل پانی ناپاك سمجھا جائے گا صحح ایضاوان کان الاول علیہ المعول لانہ الا قوی وعلیہ الفتوی(اور اس کی تصحیح بھی کی گئی ہے اعتماد اگرچہ پہلے قول پر ہے کیونکہ وہ اقوی ہے اور اسی پر فتوی ہے۔ ت)

اقول : مگر یہ نجاست مرئیہ میں ہے جیسے مردار یاغلیظ غیر مرئیہ میں بالاتفاق اُسی ظہور اثر کا اعتبار ہے ،

کما نصواعلیہ قاطبۃ وقال فی البحر فی توجیہ القول الاٰخر للتیقن بوجود النجاسۃ فیہ بخلاف غیر المرئیۃ لانہ اذالم یظہراثرھا علم ان الماء ذھب بعینھا [5]۔

جیسا کہ اُن تمام نے اس پر نص کیا ، اور بحر میں دوسرے قول کی توجیہ میں فرمایا کہ اس میں نجاست کا پایا جانا متیقن ہے بخلاف غیر مرئی نجاست کے کیونکہ جب اس کا اثر ظاہر نہ ہوا تو معلوم ہوا کہ پانی اس نجاست کو بہا کر لے گیا ہے۔ (ت)

اور چُونا نجاست نہیں متنجس ہے اور اعتبار نجس کا ہے نہ متنجس کاولہٰذا اگر ناپاك گلاب(۱)یا زعفران آب جاری میں گرے اور اس میں گلاب کی بُو یا زعفران کی رنگت آجائے اسے ظہور اثر نہ کہیں گے بلالکہ اُس نجاست کا کوئی وصف پانی میں آئے جس نے گلاب وزعفران کو ناپاك کیا تو پانی ناپاك ہوگا ، ردالمحتار میں ہے :

فی شرح ھدیۃ ابن العماد لسیدی عبدالغنی الظاھران المراد اوصاف النجاسۃ لاالمتنجس کماء الورد والخل مثلا فلوصب فی ماء جار یعتبر اثر النجاسۃ التی فیہ لااثرہ نفسہ لطھارۃ المائع بالغسل ولم ارمن نبہ علیہ وھو مھم فاحفظہ [6] اھ

اقول :  وھو واضح البرھان فان المقصود غلبۃ النجاسۃ علی الماء حتی اکسبتہ وصفالھا وذلك فی ظھور وصف نفسھا دون المتنجس بھا الا تری ان لوکانت قلیلۃ لاتغلب الماء وکان مکان ماء الوردماء قراح لم یظھراثرھا فکذا فی ماء الورداذلا تختلف قلۃ وکثرۃ باختلاف المتنجس۔

سیدی عبدالغنی نے شرح ہدیۃ ابن العماد میں لکھا ہے کہ بظاہر اس سے مراد نجاست کے اوصاف ہیں نہ کہ نجس ہونے والا پانی ، جیسے گلاب کا پانی اور سرکہ ، اگر اس کو بہتے پانی میں ڈالا جائے تو اس میں جو نجاست ہے اس کا اثر معتبر ہوگا ، خود اس کا اپنا اثر معتبر نہ ہوگا کیونکہ بہنے والی چیز غسل(دھونے)سے پاك ہوجاتی ہے ، اس نکتہ پر میں نے کسی اور کو مطلع کرتا ہوا نہیں پایا حالانکہ یہ بہت اہم ہے اسے یاد کرلیجئے اھ(ت)

 



[1]   ردالمحتار فصل فے البئر مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۶۳

[2]   درمختار فصل فے البیع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۵۴

[3]   درمختار فصل فے البئر مجتبائی دہلی ۱ / ۴۰

[4]   ردالمحتار  فصل فے البئر   مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۶۳

[5]   ردالمحتار باب المیاہ  مصطفی البابی مصر  ۱ / ۱۳۸

[6]   ردالمحتار باب المیاہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۳۸

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن