30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
لوتوضأ فی اجمۃ القصب اومن ارض فیھازرع متصل بعضھاببعض ان کان عشرافی عشر یجوزواتصال القصب بالقصب لایمنع اتصال الماء بالماء[1] کذا فی الخلاصۃ وان کان الجمد علی وجہ الماء قطعا قطعاان کان کثیرالایتحرك بتحریك الماء لایجوز الوضوء بہ کذا فی المحیط[2] اھ وفی جامع الرموز عن المجتبی لوکان فیہ
اگر کسی نے نرکل کے جھنڈ میں یاگھنی کھیتی کی زمین میں وضو کیا تواگراس کا رقبہ دَہ در دَہ ہو توجائز ہے تو نرکل کانرکل سے متصل ہوناپانی کے پانی سے متصل ہونے میں مانع نہیں ہے ، ایسا ہی خلاصہ میں ہے ، اور اگر پانی پر جمی ہوئی برف ٹکڑے ٹکڑے ہوگئی ہو ، تو اگر اتنی زائد ہو کہ پانی کو حرکت دینے سے متحرك نہ ہو تو وضو اس سے جائز نہیں ، کذا فی المحیط اھ اور جامع الرموز میں مجتبیٰ سے ہے اگر اس پانی میں
قطع خشب اوجمد یتحرك بتحریك الماء جاز فیہ الوضوء اھ افھم ان لولم یتحرك لم یجوز [3] والله تعالٰی اعلم۔
لکڑی یابرف کے ٹکڑے ہوں اوروہ پانی کو حرکت دینے سے متحرك ہوتے ہوں تو اُس سے وضو جائز ہے ، اس کامطلب یہ ہے کہ اگر متحرك نہ ہو تو وضو جائز نہیں والله تعالٰی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۳۴ : از شہر مدرسہ اہلسنّت مسئولہ مولوی محمد طاہر صاحب رضوی متعلم مدرسہ اہلسنت ۹رجب المرجب ۱۳۳۰ھ۔
سوال اول : حوض دہ در دہ میں اگر کوئی شخص تھوك یارینٹھ ڈالے یاپاؤں اُس کے اندر ڈال کر دھوئے یا وضو اس طرح کرے کہ تمام غسالہ اس میں گرتا جائے تو آیاان سب صورتوں میں وہ حوض پاك رہے گا یا نہیں ، برتقدیر ثانی اگر کوئی نجس سمجھے تواس کاکیا حکم ہے؟
الجواب :
ان سب صورتوں میں وہ حوض پاك ہے اور اسے نجس سمجھناجہالت اوراگر کوئی شخص مسئلہ بتانے کے بعد بھی اصرار کرے توسخت گنہگارہوامگر حوض میں تھوکنے یاناك صاف کرنے سے احتراز لازم ہے کہ یہ افعال باعث نفرت ہیں اوربلاوجہ شرعی نفرت دلاناجائز نہیں قال صلی الله تعالی علیہ وسلم بشر وا ولا تنفروا [4] والله تعالٰی اعلم
حضور پاك نے فرمایا : اچھی خبر سناؤ نفرت نہ پھیلاؤ۔ والله تعالٰی اعلم(ت)
سوال۳۵(۲) : ایك تالاب دہ در دہ میں تمام محلہ کے چوبچوں پاخانوں نالیوں وغیرہ کانجس پانی آکر جمع ہوتاہے بلالکہ بھنگی اُس میں میلے کی ڈھلیان بھی ایام برسات میں ڈالاکرتے ہیں اوربعض اوقات لوگ اس کے کنارے پاخانہ پیشاب بھی پھرتے ہیں کہ اُس میں بہہ کرجاتاہے توآیا ایسے تالاب میں کپڑے نجس دھونے سے پاك ہوں گے یا نہیں اور اُس تالاب کو حکم پاکی کا دیا جائے گا یانہیں بینوا توجروا۔
الجواب :
اگر ان نجاستوں کے گرنے سے پہلے اُس میں دہ در دہ پانی تھااُس کے بعد گریں اوراُن کے گرنے سے اُس کارنگ یامزہ یا بُو متغیر نہ ہوااور کپڑا دھونے میں عین نجاست کپڑے پر نہ لگ آئی تو کپڑاپاك ہوگیا ورنہ نہیں والله تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۳۶ : از شہر محلّہ بہاری پور مسئولہ نواب مولوی سلطان احمد خان صاحب ۲۸ ذیقعدہ ۱۳۳۰ھ
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرعِ متین اس مسئلہ میں کہ مریض کو دواءً ایسے پانی سے وضو یا استنجا کرنا جس میں کوئی دوسری شے جوش دی گئی ہو جس سے پانی کا نام پانی نہ رہے جائز ہے یا نہیں یعنی اس سے طہارت حاصل ہوگی بوجہ اس ضرورت کے یا ضرورت پر لحاظ نہ ہوگا بینوا توجروا۔
الجواب :
استنجاء(۱)تو یقینا جائز ہے کہ اُس میں مائے مطلق بلالکہ پانی ہی شرط نہیں ہرطاہر قالع مزیل سے ہوجاتا ہے مگر وضو جائز نہ ہوگا(اُن چیزوں سے)
لکمال الامتزاج بالطبخ کالمرق ولزوال اسم الماء کالنبیذ۔
جو پکانے سے ایك جان ہوجائیں جیسے شوربا یا اس کو پانی نہ کہا جائے جیسے نبیذ۔ (ت)
وضو میں لحاظ ضرورت کی کیاحاجت اگر مائے مطلق سے وضو مضر ہو تمیم کرلے والله تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۳۷ : ازموضع سرنیان مسئولہ امیر علی صاحب قادری ۱۱ جمادی الاولی ۱۳۳۱ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید دریافت کرتا ہے کہ میرے موضع میں چند تالاب ہیں اُن تالابوں کے پانی سے غسل اور وضو ، پینا ، کپڑے دھوناکیسا ہے کیونکہ اکثر مویشی ہنودومسلمان ہر ایك نہاتے ہیں استنجابڑا ہر ایك قوم وہاں پاك کرتی ہے اور کبھی چمار بھنگی بھی نہاتے ہیں اور اتفاقیہ سؤر پانی پی جائے یا نہائے کبھی یہ تالاب مقید رہتے ہیں اور کبھی اُن کے اندر ہو کر ندی سے نہر جاری ہوجاتی ہے اُس کی تشریح یوں ہے :

کسی وقت میں اس سے زیادہ بھی پانی ہوجاتاہے اور کبھی کچھ کم اوراگر ندی سے پانی آجائے اور راستہ میں نہر میں
کچھ غلیظ ہو توکیا حکم ہے اور بستی کے قریب چنداورتالاب ہیں اوران کاپانی رنگ بدلے ہوئے رہتاہے اکثر ہنود تك اُس پانی سے نفرت کرتے ہیں برسات میں بھی صاف طور پر نہیں ہوتاہے لمبائی چوڑائی گہرائی بھی بہت مگرپانی صاف نہیں ہے دیگر شہر سے نالہ کاپانی ندی میں آکر گرتاہے اور ندی کاپانی کچھ تھوڑا مخلوط ہوتاہے دیکھنے میں اکثر
پیشاب کی صورت معلوم ہوتاہے ایسے پانی سے اکثر لوگ نہاتے اور دھوبی کپڑے دھوتے ہیں اکثر وضو کرتے ہیں تو اس پانی کیلئے کیا حکم ہے بینوا توجروا۔
الجواب
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع