دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 2 | فتاوی رضویہ جلد ۲

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۲

اقول :  فیہ سھوبوجوہ وذلك ان عبارۃ الدر بتمامھا ھکذا فی القھستانی والمختار ذراع الکرباس وھو سبع قبضات فقط فیکون ثمانیافی ثمان بذراع زماننا ثمان قبضات وثلاث اصابع علی القول المفتی بہ بالعشر [1] اھ فاولا(۱)                                            

بحر میں ہے کہ بہت کتب میں چھ مشت ہے الخ اھ اور مشت سے مراد چار بندھی ہوئی انگلیاں ہیں ، نوح۔ میں کہتا ہوں یہ ہاتھ کے گز سے قریب ہے کیونکہ وہ چھ مشت اور تھوڑا زائد ہوتا ہے اور وہ دو بالشت ہوتا ہے انتہی ملخصا ، اورشرنبلالی کی مراقی الفلاح میں ہے کہ عام لوگوں کے گز سے دَہ در دَہ ہو ، انتہی مختصرا۔ اور فاضل طحطاوی کے حاشیہ میں ہے نیز صاحبِ در نے نقل کیا کہ مفتی بہ پیمائش والا گز ہے اور وہ ہمارے موجودہ گز سے بڑا ہے گویا آج کے اعتبار سے دَہ در دَہ آٹھ در آٹھ ہوا اھ۔ (ت)

میں کہتا ہوں اس میں کئی وجوہ سے سہو ہے کیونکہ در کی پوری عبارت اس طرح ہے ایسا ہی قہستانی میں ہے اور مختار کرباس کا گز ہے اور وہ صرف سات مشت ہوتا ہے تو ہمارے زمانہ کے گز کے اعتبار سے آٹھ ضربِ آٹھ ، آٹھ مشت اور تین انگل ہوگا دس کے مفتی بہ قول پر اھ اوّلاً انہوں نے صراحت

صریح نصہ اختیار ذراع الکرباس دون المساحۃ وثانیا : (۱)لیس فیہ ذکرالافتاء علی شیئ من تقادیر الذراع انما فیہ ان المفتی بہ ماعلیہ المتاخرون من تقدیرالکثر بعشر فی(۲)عشر وقد قال السید نفسہ فی حواشی الدر قولہ علی المفتی بہ ای الذی افتی بہ المتأخرون وقد علمت اصل المذھب [2] اھ وثالثا من ابین(۳)سھوقولہ رحمہ الله تعالٰی انہ اکبر من ذراعنا وکیف تکون سبع قبضات اکبرمن ثمان(۴)واذکان عشر فی عشر بذاك ثمانیا فی ثمان بھذا فکل احد یعرف ان ھذا اکبر لاذاك ولا(۵)وجود لہ فی الدر ولا فی اصلہ القھستانی فلو قال رحمہ الله تعالی نقل الدران المختار ذراع الکرباس وانہ اصغر الخ لاصاب ثم حساب الدر تبعا لاصلہ ان عشرا فی عشر کثمان فی ثمان بینہ السید ط بان العشرۃ فی سبعۃ بسبعین والثمانیۃ فی مثلہا باربعۃ وستین قبضۃ والثمانیۃ فی ثلثۃ عـــہ اصابع باربع وعشرین اصبعاو ھی ست قبضات فتمت سبعین قبضۃ [3] اھ                                          

کی ہے کہ ذراع کرباس لیا جائے گا نہ کہ ذراعِ مساحت۔ ثانیاً اس میں ذراع کی مقدار کی بابت کسی مفتی بہ قول کا ذکر نہیں ہے اس میں صرف اتنا ہے کہ مفتی بہ قول متأخرین کا قول ہے ، اور وہ یہ ہے کہ کثیر دہ در دہ کو کہتے ہیں ، اور سید نے خود حواشی در میں فرمایا ان کا قول علی المفتی بہ ، یعنی متأخرین کے مفتی بہ قول کے مطابق ، اور اصل مذہب تو آپ کو معلوم ہو ہی چکا ہے۔

ثالثاً : سب سے بڑا سہو اس میں یہ ہوا ہے کہ انہوں نے اس کے بارے میں کہا ہے کہ ہمارے زمانہ کے گز سے بڑا گز ہے ، اور سات مشت آٹھ مشت سے کیسے بڑا ہوسکتا ہے؟ اور جب دہ در دہ برابر ہے اس آٹھ در آٹھ کے ، تو ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ یہ بڑا ہے نہ کہ وہ ، اور در میں یہ نہیں پایا جاتا ہے ، اور نہ اس کی اصل قہستانی میں ، اگر وہ یہ فرما دیتے کہ دُر نے یہ نقل کیا ہے کہ مختار کرباس کا گز ہے اور وہ چھوٹا ہوتا ہے الخ تو درست بات ہوتی ، پھر در کا حساب اس کی اصل کی متابعت میں یہ ہے کہ وہ دہ در دہ ایسا ہے جیسا کہ آٹھ در آٹھ ، اس کو سید ط نے یوں بیان کیا کہ دس ضرب سات ستّر ہوتے ہیں اور آٹھ ضرب آٹھ چونسٹھ ہوتے ہیں(یعنی اتنی مشت)اور آٹھ انگلیوں کو تین سے ضرب دیا جائے تو چوبیس انگلیاں ہوتی ہیں اور یہ چھ مشت ہوتی ہیں اس طرح ستر مشت

 

عـــہ کذا فی ط والاصوب ثلث بالتذکیر اھ منہ(م)

طحطاوی میں اسی طرح ہے اور ثلث بتذکیر ذکر کرنا زیادہ مناسب ہے۔ (ت)

اقول  : وھوحساب حق صحیح لاغبارعلیہ اخذ فیہ عشرا فی عشر بذراع ھو سبع قبضات وثمانیا فی ثمان بذراع ھو ثمان قبضات وثلث اصابع وبین مساواۃ ضلع لضلع فانہ علی کل سبعون قبضۃ کما بین او مائتان وثمانون اصبعا لان الاول ثمان وعشرون اصبعاوالثانی خمس وثلثون واذا ضربت الاول فی عشرۃ والثانی فی ثمانیۃ اتحد الحاصل وھو ٢٨٠ ومساواۃ الضلع للضلع یوجب بالضرورۃ مساواۃ المربع للمربع لکن السید ش رحمہ الله تعالٰی رد علی الدر بقولہ کانہ نقل ذلك عن القھستانی ولم یمتحنہ وصوابہ فیکون عشرا فی ثمان وبیان ذلك ان القبضۃ اربع اصابع واذا کان ذراع زمانھم ثمان قبضات وثلاث اصابع یکون خمسا وثلاثین اصبعاً واذا ضربت العشر فی ثمان بذلك الذراع تبلغ ثمانین فاضربھا فی خمس وثلاثین تبلغ الفین وثمان مائۃ اصبع وھی مقدار عشر فی عشر بذراع الکرباس المقدر بسبع قبضات لان الذراع حینئذ ثمانیۃ عـــہ وعشرون اصبعا والعشر فی عشر بمائۃ فاذا ضربت ثمانیۃ وعشرین فی مائۃ                                         

پوری ہوئیں۔ (ت)

میں کہتا ہوں ، بلاشبہ یہ حساب صحیح ہے ، اس میں دہ دردہ کو اختیار کیا گیا ہے ، ایك ذراع کے لحاظ سے جو سات مشت ہو ، اورآٹھ درآٹھ کو ایسے ذراع کے ساتھ جو آٹھ مشت تین انگلی ہو ، اور ایك ضلع کادوسرے ضلع کے مساوی ہونابیان کیا کیونکہ یہ ہر قول پر ستّر مشت ہوگاجیسا کہ بیان کیا ، یادو سو اسی۲۸۰انگشت کیونکہ پہلااٹھائیس انگشت ہے اور دوسرا پینتیس انگشت اور جب پہلے کو دس میں اور دوسرے کو آٹھ میں ضرب دیا جائے تو دونوں کا حاصل ایك ہی ہوگا یعنی دو سو اسی ، اورایك ضلع کی مساواۃ دوسرے ضلع سے ایك مربع کی مساواۃ دوسرے مربع سے بالبداہۃ ثابت کرتی ہے لیکن سید “ ش “ نے در پر اپنے اس قول سے رد کیا ، غالباًانہوں نے یہ قہستانی سے نقل کیاہے اور اس کو بغور دیکھا نہیں ، صحیح یہ ہے کہ “ یہ ہوجائیگا دس ضرب آٹھ ، اوراس کی تشریح یہ ہے کہ ایك مشت چار انگشت ہوتی ہے ، اور ان کے زمانہ کاذراع آٹھ مشت تین انگشت تھا ، اس طرح پینتیس انگشت ہوئیں اور جب دس کو آٹھ میں اس ذراع کے حساب سے ضرب دی جائے تو حاصل اسّی ہوتا ہے ، پھر اس کو پینتیس سے ضرب دی جائے تو حاصل دو ہزار آٹھ سو انگشت ہوگا ، اوریہی مقدار دہ در دہ کی ہے کرباس کے گز سے ،

 

عـــہ  کذا فی ش والا صوب ثمان بالتذکیر اھ منہ(م)

شامی میں اسی طرح ہے اور بہتر تذکیر کے ساتھ ثمانٌ ہے۔ (ت)

تبلغ ذلك المقدار واما علی ماقالہ الشارح فلا تبلغ ذلك لانك اذا ضربت ثمانیا فی ثمان تبلغ اربعاً وستین فاذا ضربتھا فی خمس وثلاثین تبلغ الفین ومائتین واربعین اصبعا وذلك ثمانون ذراعا بذراع الکرباس والمطلوب مائۃ فالصواب ماقلناہ فافھم[4] اھ اشار بقولہ فافھم الی الرد علی ط کدابہ المذکور فی صدرکتا بہ۔

اقول :  وھو کلہ زلۃ نظر منہ رحمہ الله تعالٰی اصاب فی حرفین الاول ان ذراع زمانھم خمس وثلثون اصبعاوالاٰخر ان ذراع الکرباس المقدربسبع قبضات ثمان وعشرون وماسوی ذلك کلہ سہوصریح فاولاماکان(۱)عشرافی ثمان بذراعھم لایکون الفین وثما ن مائۃ بل ثمانیۃ وتسعین الف اصبع بتقدیم التاء لان ٣٥ فی ١٠ ثلثمائۃ وخمسون وفی ٨ مائتان وثمانون و۳۵۰ *۲۸۰ =۹۸۰۰۰

وثانیا : (۲)ماکان عشرا فی عشر بذراع الکرباس المذکور لایکون ایضا۲۸۰۰بل ثمانیۃ و سبعین الف اصبع بتقدیم السین و اربعمائۃ لان                                 

 



[1]   درمختار باب المیاہ مجتبائی دہلی ۱ / ۳۶

[2]            طحطاوی علی الدرالمختار باب المیاہ بیروت ۱ / ۱۰۸

[3]   طحطاوی علی الدرالمختار باب المیاہ بیروت ۱ / ۱۰۸

[4]   ردالمحتار  باب المیاہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۴۴

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن