30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
الفتوی وفی شرح الزاھدی وھو المختار وذھب بعضھم الی الثانی قال قاضی خان ھو الصحیح لان ذراع المساحۃ بالممسوحات الیق ، وفی فتاوی الولوالجی الحوض الکبیر لما کان مقدرا بعشرۃ اذرع فی عشرۃ اذرع فالمعتبر ذراع الکرباس دون المساحۃ وھی سبع مشتات ای سبع قبضات لیس فوق کل مشت اصبع قائمۃ لان ذراع المساحۃ سبع مشتات فوق کل مشت اصبع قائمۃ فالاول الیق للتوسع انتھی والمراد بالاصبع القائمۃ ارتفاع الابھام کما فی غایۃ البیان فظھران ذراع الکرباس اقصر من ذراع المساحۃ فبسبب ذلك وقع الترفیۃ للناس بالتقدیر بھا ونقلوا عن المحیط انہ یعتبر فی کل زمان ومکان ذراعھم وعلیہ مشی فی الکافی [1] اھ وفی الشرح الکبیر لابراھیم الحلبی المعتبر فی الذراع ذراع الکرباس وھو سبع قبضات فقط وھو اختیار الامام اسحٰق بن ابی بکر الولوالجی فی فتاوٰہ لانہ اقصر فیکون ایسرواختار قاضیخان فی فتاوٰہ ذراع المساحۃ وھو سبع قبضات باصبع قائمۃ فی القبضۃ الاخیرۃ وقیل فی کل قبضۃ قال قاضی خان لانہ یعنی الغدیر المقدرمن الممسوحات فکان ذراع المساحۃ
ممسوحات کے زائد لائق ہے ، اور فتاوٰی ولوالجی میں ہے کہ بڑا حوض جو دہ در دہ ہوتا ہے اور اس میں معتبر کرباس کا ذراع ہے نہ کہ مساحۃ کا اور وہ سات مشت ہے ، جس میں ہر مشت پر ایك انگلی کا اضافہ نہ ہو ، کیونکہ مساحۃکا گز سات مشت ہے جس میں ہر ایك مشت پر ایك کھڑی انگلی کا اضافہ ہو ، تو پہلا آسانی سے زیادہ مطابقت رکھتا ہے انتہی ، اور کھڑی انگلی سے مراد انگوٹھے کی بلندی ہے ، جیساکہ غایۃ البیان میں ہے تو معلوم ہواکہ ذراع کرباس ذراع مساحت سے چھوٹاہے تو اسی سبب سے تقدیر ذراع میں لوگوں کیلئے آسانی ہوئی اور محیط سے نقل کیا ہے کہ ہر زمانہ اور ہر جگہ کا الگ گز معتبرہوگا ، اورکافی نے بھی یہی کہا ہے اھ اورابراہیم حلبی کی شرح کبیر میں ہے کہ معتبر ذراع کرباس ہے جو سات مشت ہوتا ہے فقط ، اوراسی کو امام اسحٰق بن ابی بکر الوالجی نے اپنے فتاوٰی میں پسند کیا ہے ، کیونکہ وہ چھوٹا ہوتا ہے تو اسی میں آسانی رہے گی اورقاضی خان نے اپنے فتاوٰی میں ذراع مساحۃ کو مختار کہاہے اور وہ سات مشت مع ایك کھڑی انگلی کے آخری مشت میں ہے اور بعض نے کہا کہ ہر مشت میں قاضی خان نے فرمایا یعنی تالاب جس کا اندازہ لگایا گیا ہے وہ ممسوحات سے ہے ، تو اس میں ذراع مساحۃ سے اندازہ لگانا زائد مناسب ہوگا ، اور محیط میں ہے اصح یہ ہے کہ ہر زمانہ اور ہر جگہ میں وہیں کا ذراع معتبر ہوگا ،
فیہ الیق ، وفی المحیط والاصح ان یعتبرفی کل زمان ومکان ذراعھم وتبعہ صاحب الکافی کصاحب النھر الفائق وغیرہ وھذا عجیب وبعید جدا الٰی اٰخر [2] ماقال وفی البحر الرائق للعلامۃ زین بن نجیم المصری اختلف المشائخ فی الذراع علی ثلثۃ اقوال ففی التجنیس المختار ذراع الکرباس واختلف فیہ ففی کثیر من الکتب انہ ست قبضات لیس فوق کل قبضۃ اصبع قائمۃ فھی اربع وعشرون اصبعا بعدد حروف لاالہ الاالله محمد رسول الله والمراد بالاصبع القائمۃ ارتفاع الابہام کما فی غایۃ البیان وفی فتاوی الولوالجی ان ذراع الکرباس سبع قبضات لیس فوق کل قبضۃ اصبع قائمۃ وفی فتاوٰی قاضی خان وغیرہ الاصح ذراع المساحۃ وھو سبع قبضات فوق کل قبضۃ اصبع قائمۃ وفی المحیط والکافی الاصح انہ یعتبر فی کل زمان ومکان ذراعھم من غیر تعرض للمساحۃ والکرباس [3] وفی الفتاوی الھندیۃ المعتبر ذراع الکرباس کذا فی الظھیریۃ وعلیہ الفتوی کذا فی الھدایۃ وھی ذراع العامۃ ست قبضات اربع وعشرون اصبعا
صاحب کافی اورصاحبِ نہرالفائق وغیرہ نے اس کی متابعت کی اور یہ بہت عجیب ہے اور نہایت بعیدہے ،
اور علامہ زین بن نجیم المصری کی بحرالرائق میں ہے کہ مشائخ کے ذراع کی بابت تین اقوال ہیں ، تجنیس میں ہے کہ ذراع کرباس مختارہے ، اوراس میں اختلاف ہے ، کئی کتب میں ہے کہ یہ ایسی چھ مشت کے برابر ہے جن میں ہر مشت پر ایك کھڑی انگلی زائد نہ ہو تو گویا یہ چوبیس انگشت کے برابر ہے لاالٰہ الا الله محمد رسول الله کے حروف کی تعدادکے مطابق اور کھڑی انگلی سے مراد انگوٹھے کی بلندی ہے جیساکہ غایۃ البیان میں ہے اور فتاوٰی ولوالجی میں ہے کہ ذراع کرباس سات مشت بلاکھڑی انگلی کے اضافہ کے ، اورفتاوٰی قاضی خان وغیرہ میں ہے اصح یہ ہے کہ مساحۃ کا گز سات مشت مع ایك کھڑی انگلی کے ، اورمحیط اورکافی میں ہے کہ اصح یہ ہے کہ ہر زمان ومکان میں ان کا اپنا گز معتبر ہوگا ، اس میں مساحۃ اور کرباس کا کچھ ذکر نہیں ، اور فتاوٰی ہندیہ میں ہے معتبر ذراع کرباس ہے ، یہی ظہیریہ میں ہے اسی پر فتوٰی ہے ، ہدایہ میں یہی ہے اور یہ عام گز ہے جو چھ مشت یعنی چوبیس انگشت کا ہوتا ہے یہی تبیین میں ہے ، فاضل قہستانی کی جامع الرموز میں ہے کہ ذراع میں اختلاف ہے ، تو محیط میں ہے اصح یہ ہے کہ ہر زمان ومکان کا اپنا اپنا گز معتبر ہوگا ،
کذا فی التبیین [4] اھ وفی جامع الرموز للفاضل القہستانی اختلف فی الذراع ففی المحیط الاصح ذراع کل مکان وزمان وفی فتاوی قاضی خان الصحیح ذراع المساحۃ وھی سبع قبضات واصبع قائمۃ فی کل مرۃ کما فی الولوالجی اوالمرۃ السابعۃ کما فی الکرمانی اواصبع موضوعۃ فی کل مرۃ کما فی سیرالمضمرات وفی النھایۃ الصحیح ذراع الکرباس وھی سبع قبضات کل قبضۃ اربع اصابع وھو المختار کما فی الکبری [5] وفی الدرالمختار للفاضل علاء الدین الحصکفی فی القہستانی والمختار ذراع الکرباس وھو سبع قبضات فقط [6]وفی حاشیتہ للعلامۃ السید احمد الطحطاوی واما ذراع المساحۃ فسبع قبضات فوق کل قبضۃ اصبع قائمۃ [7] وفی ردالمحتار للفاضل السید محمد امین الشامی قولہ والمختار ذراع الکرباس وفی الھدایۃ ان علیہ الفتوی واختارہ فی الدرر والظہیریۃ والخلاصۃ والخزانۃ وفی المحیط والکافی انہ یعتبر فی کل زمان ومکان ذراعھم قال فی النھر وھو الانسب قلت لکن ردہ فی شرح المنیۃ
فتاوی قاضی خان میں ہے صحیح ذراع مساحۃ جو سات مشت کہ ہر مشت پر ایك انگلی کھڑی ہو جیساکہ ولوالجی میں ہے یاساتویں مشت پر کھڑی انگلی ہو جیساکہ کرمانی میں ہے یا ایك لیٹی ہوئی انگل ہر مرتبہ جیساکہ سیر المضمرات میں ہے اور نہایہ میں ہے صحیح ذراع کرباس ہے اور وہ سات مشت ہے ، ہر مشت چار انگل ہے اور یہی مختار ہے جیساکہ کبری میں ہے ، اور فاضل علاء الدین حصکفی نے درمختار میں بیان فرمایا اور قہستانی میں ہے کہ پسندیدہ ذراع کرباس ہے اور وہ صرف سات مشت ہے ، اور اس کے حاشیہ میں علامہ سید احمد طحطاوی نے فرمایا ذراع مساحۃ سات مشت ہے ہر مشت پر ایك کھڑی انگشت ، اور سید محمد امین شامی نے ردالمحتار میں فرمایا ان کا قول والمختار ذراع الکرباس ، اورہدایہ میں اسی پر فتوٰی ہے اور درر ، ظہیریہ ، خلاصہ ، خزانہ میں اسی کو اختیار کیا ہے محیط اور کافی میں فرمایا کہ ہر زمان ومکان میں لوگوں کے گز کا اعتبار ہوگا ، نہر میں ہے کہ یہی انسب ہے۔ میں کہتا ہوں اس کو شرح منیہ میں رد کیا ہے کہ مقصود اس تقدیر سے غلبہ ظن ہے اس امر کا کہ نجاست دوسری طرف نہیں گئی ہے ، اوریہ چیز ایسی ہے کہ اس میں زمان ومکان کے اختلاف سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے ، ان کا قول کہ وہ سات مشت ہے ، یہ ولوالجیہ میں ہے ، اور
بان المقصودمن ھذاالتقدیر غلبۃ الظن بعدم خلوص النجاسۃوذلك لایختلف باختلاف الازمنۃ والامکنۃ قولہ وھو سبع قبضات ھذا مافی الولوالجیۃ وفی البحران فی کثیر من الکتب انہ ست قبضات [8] الخ اھ والمراد بالقبضۃ اربع اصابع مضمومۃ نوح اقول وھو قریب من ذراع الید لانہ ست قبضات وشیئ وذلك شبران [9] انتھی ملخصا وفی مراقی الفلاح للفاضل الشرنبلالی عشر فی عشر بذراع العامۃ [10] انتھی مختصرا وفی حاشیتہ للفاضل الطحطاوی نقل صاحب الدر ان المفتی بہ ذراع المساحۃ وانہ اکبر من ذراعنا الیوم فالعشر فی العشر بذراعنا الیوم ثمان فی ثمان [11] اھ
[1] حلیہ
[2] غنیۃ المستملی فصل فی احکام الحیاض سہیل اکیڈمی لاہور ۱ / ۹۸۹
[3] بحرالرائق کتاب الطہارت ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۷۶
[4] ہندیۃ فصل فی الماء الراکد نورانی پشاور ۱ / ۱۸
[5] جامع الرموز بیان المیاہ گنبد ایران ۱ / ۴۸۹
[6] درمختار باب المیاہ مجتبائی دہلی ۱ / ۳۶
[7] طحطاوی علی الدر باب المیاہ بیروت ۱ / ۱۰۸
[8] ردالمحتار باب المیاہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۴۴
[9] ردالمحتار باب المیاہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۴۴
[10] مراقی الفلاح کتاب الطہارۃ الامیریہ مصر ص۱۶
[11] حاشیۃ الطحطاوی مع مراقی الفلاح کتاب الطہارۃ الامیریہ مصر ص۱۶
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع