دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 2 | فتاوی رضویہ جلد ۲

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۲

اقول :   عندی الاظھر ھو الثانی(میرے نزدیك اظہر ثانی ہے۔ ت)مگر اس کی بنا اُن کے اُس خیال پر ہے کہ پانی کا جو حصّہ بدن سے ملااُتنا ہی مستعمل ہوتا ہے تو ایك آدمی کے نہانے سے سارا پانی کیونکر مستعمل ہوسکتا ہے ہاں بہت سے نہائیں تو یہ شُبہ جاتاہے کہ پانی کے جتنے حصّے ان سب کے بدن سے ملے وہ باقی پانی کے برابر یااُس سے زائد ہوجائیں تو سب مستعمل ہوجائیگا مگر وہ خیال صحیح نہیں مذہب معتمد وصحیح یہی ہے جو پانی آب کثیر کی حد کو نہ پہنچاہو وہ ایك آدمی کا نہاناکیا ناخن کا ایك کنارہ بے ضرورت ڈوب جانے سے سب مستعمل ہوجاتا ہے وقد نقلوا علیہ الاجماع فی غیر ماکتاب والله تعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔

مسئلہ ۳۱ :                                                              مرسلہ ڈاکٹر محمد واعظ الحق صاحب سعد اللہ  پوری ڈاکخانہ خسرو پور ضلع پٹنہ          ۲ربیع الآخر ۱۳۲۲ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین اس مسئلہ میں کہ بارش کا پانی اگر کسی خندق میں جمع ہوجائے اور وہ خندق دس گز سے لمباچوڑازیادہ ہو مگر بستی کے قریب ہو اور اس میں بستی کاپانی جاتا ہو اس میں غسل کرنا اور وضو بنانا جائز ہے یا نہیں؟

الجواب :

جس خندق کی مساحت دہ در دہ ہے یعنی طول وعرض کے ضرب دیے سے سو ہاتھ حاصل ہوں مثلاً دس ۱۰ ہاتھ طول ہو دس۱۰ ہاتھ عرض یا بیس۲۰ ہاتھ طول ، پانچ۵ہاتھ عرض یاپچاس۵۰ ہاتھ طول ، دو۲ ہاتھ عرض اور ان سب صورتوں میں اس کا گہراؤ اتنا ہو لپ میں پانی لینے سے زمین نہ کھل جائے تو اب اس میں دو صورتیں ہیں اگرپہلے اُس میں بارش کا پانی بھر گیااُس کے بعد گھروں کاپانی پاك ناپاك ہر طرح کا خواہ صرف ناپاك ہی آکر ملا تو جب تك خاص نجاست کے سبب اُس کے رنگ یا بُو یا مزے میں تغیر نہ آئے پانی پاك رہے گا اور اُس سے وضو وغسل جائز اور اگر پہلے بستی کا پانی اس میں آکر مستقر ہوگیا تو اوّلا یہ نظر کرنا ہے کہ وہ پانی ناپاك بھی تھایا نہیں اگرناپاك نہ تھا جب تو ظاہر ہے مثلاًپانی برسااور مکانوں کے ہر گونہ پانیوں کو اپنے ساتھ بہاکر اس خندق میں لایا اور اُس کے رنگ ، مزے ، بُو ، کسی میں نجاست کے باعث تغیر نہ آیاتو وہ ناپاك بھی اس کے ساتھ بَہ کر پاك ہوگئے لان الماء الجاری یطھر بعضہ بعضا(کیونکہ جاری پانی بعض ناپاك پانی کو پاك کردیتا ہے۔ ت)یا پہلے سے ناپاك پانی خندق میں تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اوراب کوئی پاك پانی ایسا بہتا آیا کہ بہاؤ ٹھہرنے سے پہلے وہ دہ در دہ ہوگیا یہ بھی صورت طہارت کی ہے کہ جب تك بہ رہا تھا قابلِ نجاست نہ تھا اور ٹھہرا تو اُس وقت کہ دہ در دہ ہو کر حکم جاری میں ہوچکا تھا لہٰذا کوئی وقت اُس نے وصف نجاست قبول کرنے کانہ پایا اور اگر پانی ناپاك تھا خواہ یوں کہ نجاست نے بہتے پانی کا کوئی وصف مذکور بدل دیا یا یہ کہ پہلے خالص ناپاك پانی خندق میں پہنچ لیااُس کے بعد بارش وغیرہ کا پانی تھوڑا تھوڑا اس میں آتا گیا جتنا ملا ناپاك ہوتا گیا یا پہلے سے پاك پانی خندق میں دہ در دہ سے کم جگہ میں تھا اُس پر خالص ناپاك پانی واردہوا تو اس میں پھر دو صورتیں ہیں اگر بارش تھوڑی سی ہوئی کہ وہ پانی اُس ناپاك میں مل کر رہ گیا تو وہ بھی ناپاك ہوگیاا ور اگر بارش زور سے ہوئی کہ بکثرت پانی بہتا آیا جس نے اس خندق کو بھر کر ابال دیاکہ پانی کناروں سے چھلك گیا تو اب سب پاك ہے واللہ  تعالٰی اعلم۔

مسئلہعـــہ۳۲ :

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ حوض دہ در دہ میں گز شرعی کی مقدار کیا ہے بینوا توجروا۔

الجواب :

علماء رحہم اللہ  تعالٰی کو دربارہ مساحت حوض کبیر کہ دہ در دہ قرار پایا ہے تعیین گز میں تین قول پراختلاف ہے

قول اول :  معتبر ذراع کرباس ہے اور اسی کو ذراع عامہ کہتے ہیں یعنی کپڑوں کا گز۔ اسی قول کی طرف اکثر کا رجحان رائے اور اسی کو درر وظہیریہ و خلاصہ وخزانہ ومراقی الفلاح وعالمگیریہ وغیرہا میں اختیار کیا اور شرح زاہدی وتجنیس اور فتاوی کبری پھر قہستانی پھر درمختار میں اُسے مختار اور نہایہ میں صحیح اور ہدایہ میں مفتی بہ اور ولوالجیہ میں الیق واوسع کہا ۔ پھرخود(۱)ذراع کرباس کی تقدیر میں اختلاف واقع ہوا امام ولوالجی نے سات۷ مشت قرار دیا ہر مشت چار۴ انگل مضموم تو اٹھائیس ۲۸ انگل کا گز ہوا ہمارے یہاں کی نوگرہ۹سے زائد اور دس۱۰ گرہ سے کم یعنی ۹-9 1۱ / ۳3 گرہ۔ اس قول پر نہایہ پھر جامع الرموز پھر درمختار اور باتباع والوالجی فاضل ابرہیم حلبی نے شرح منیہ میں اقتصارکیامگر جمہور علماء کے نزدیك ذراع کرباس چھ۶ مشت کا ہے ہر مشت چار۴ انگل مضموم اور اسی طرف رجحان روئے علّامہ محقق علی الاطلاق کمال الدین محمد بن الہمام کا ہے اور یہی عالمگیریہ میں تبیین اور بحرالرائق میں کتب کثیرہ سے منقول پس قول راجح میں یہ گز چوبیس۲۴ انگل کا ہوا کہ ایك ہاتھ ہے تو ہمارے یہاں کا آدھ گز ٹھہرا۔

قول دوم : اعتبار ذراع مساحت کا ہے امام علامہ فقیہ النفس اہل الافتاء والترجیح امام فخرالدین قاضی خان اوز جندی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  تعالٰی نے خانیہ میں اسی قول کی تصحیح اور قولِ اول کا رد کیا طحطاوی حاشیہ مراقی الفلاح میں اس پر بھی حکایتِ فتوٰی واقع ہوئی اور بیشك من حیث الدلیل اسے قوت ہے۔ اس گز(۱)کی تقدیر میں اقوال مختلفہ وارد ہوئے مضمرات میں سات مشت ، ہر مشت کے ساتھ ایك انگل قرار دیا کہ مجموع پینتیس انگل ہمارے

عـــہ : یہ فتوٰی فتاوائے قدیمہ کے بقایا سے ہے جو مصنّف نے اپنے صغر سن لکھے تھے ۱۲ گز سے 11۱۱- ۲2 / ۳3  گرہ ہواعلامہ کرمانی نے سات مشت چھ مشت معمولی اور ساتویں میں انگوٹھا پھیلا ہوا کہ یہ بھی تخمیناً گیارہ گرہ کے قریب ہوا مگر یہ دونوں قول شاذ ہیں قول جمہور کہ عامہ کتب میں مصرح سات مشت ہے ہر مشت نرانگشت کشادہ یعنی ساڑھے تین فٹ کہ اس گز سے کچھ اوپر ساڑھے اٹھارہ گرہ ہوا یعنی 18۱۸- ۲2 / ۳3 گرہ۔

قول سوم :  ہر شہر ودیار وہر عہد و زمانہ میں گزرائج کا اعتبار ہے محیط میں اسی کو اصح اور نہر میں انسب کہا اور کافی میں بھی یہی اختیار کیا مگر علمائے متاخرین اس قول کو رد کرتے اور من حیث الدلیل نہایت ضعیف بتاتے ہیں اور نظر فقہی میں معلوم بھی ایسا ہی ہوتا ہے ،

وھذہ نصوص العلماء فی الھدایۃ للامام برھان الدین المرغینانی قدس سرہ الربانی بعضھم قدر وابا لمساحۃ عشرافی عشربذراع الکرباس توسعۃ للامرعلی الناس وعلیہ الفتوی[1]   وفی فتح القدیرللامام المحقق علی الاطلاق قولہ بذراع الکرباس ھوست قبضات لیس فوق کل قبضۃ اصبع قائمۃ وھل المعتبر ذراع المساحۃ اوذراع الکرباس اوفی کل زمان ومکان [2]  حسب عاداتھم اقوال ، وفی الخانیۃ للامام فخرالدین رحمہ الله تعالٰی یعتبر فیہ ذراع المساحۃ لاذراع الکرباس ھو الصحیح لان ذراع المساحۃ بالممسوحات الیق [3]  وفی شرح المنیۃ للعلامۃ ابن امیر الحاج ھل المعتبر ذراع الکرباس اوذراع المساحۃ ذھب بعضھم الی الاول فی الھدایۃ وعلیہ                            

اور یہ علماء کے نصوص ہیں ، برہان الدین مرغینانی کے ہدایہ میں مذکور ہے بعض نے تو پیمائش دَہ در دَہ کرباس کے ذراع سے کی ہے تاکہ لوگوں کیلئے فراخی ہو ، اوراسی پر فتوٰی ہے ،

فتح القدیرمیں ہے “ بذراع الکرباس “ یہ چھ مشت کاہوتا ہے ، ہر مشت پر انگلی زائد نہ کی جائے ، اب رہا یہ سوال کہ معتبر ذراع مساحۃ ہے یا ذراع کرباس ہے یا ہرزمانہ ومقام میں ان کی عادت کے مطابق ہے اس میں مختلف اقوال ہیں ،

امام فخرالدین نے خانیہ میں ذراع مساحت کااعتبار کیاکرباس کانہیں یہی صحیح ہے اس لئے کہ مساحۃ کا ذراع ممسوحات کے زیادہ لائق ہے۔ علامہ ابن امیر الحاج کی شرح منیہ میں ہے کہ آیا ذراع کرباس کا اعتبار ہے یا ذراع مساحۃ کا؟کچھ لوگ پہلے قول کی طرف گئے ہیں جیسا کہ ہدایہ میں ہے اور اسی پر فتوٰی ہے ، اور شرح زاہدی میں ہے یہی مختار ہے ، اور بعض نے دوسرے قول کو لیا ہے قاضیخان نے کہا کہ یہی صحیح ہے کیونکہ مساحۃ کا گز

 



[1]   ہدایہ فصل فے البئر مطبع عربیہ کراچی ۱ / ۲۰

[2]   فتح القدیر  فصل فے البئر نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۷۰

[3]              فتاوٰی خانیۃ المعروف قاضی خان فصل فے الماء الراکد نولکشور لکھنؤ ۱ / ۴

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن