30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
فی الھدایۃ وغیرھاان الغدیرالعظیم مالایتحرك احد طرفیہ بتحرك الطرف الاٰخروفی
ہدایہ وغیرہ میں ہے کہ بڑاتالاب وہ ہے کہ جس کے ایك کنارہ کی حرکت سے دوسرے کنارے کوحرکت
المعراج انہ ظاھر المذھب وفی الزیلعی ظاھر المذھب وقول المتقدمین حتی قال فی البدائع والمحیط اتفقت الروایۃ عن اصحابناالمتقدمین انہ یعتبر بالتحریك وھو ان یرتفع وینخفض من ساعتہ لابعدالمکث ولایعتبراصل الحرکۃ والمعتبرحرکۃالوضوء ھو الاصح محیط وحاوی القدسی ولایخفی علیك ان اعتبارالخلوص بغلبۃ الظن بلاتقدیرشیئ مخالف فی الظاھرلاعتبارہ بالتحریك لان غلبۃ الظن امرباطنی یختلف وتحریك الطرف الاخر حسی مشاھد لایختلف مع ان کلامنھمامنقول عن ائمتناالثلثۃفی ظاھرالروایۃولم ارمن تکلم علی ذلك ویظھرلی التوفیق بان المراد غلبۃ الظن بانہ لوحرك لوصل الی الجانب الاٰخراذالم یوجد التحریك بالفعل فلیتأمل[1] اھ ملخصا۔
اقول : ھذاالذی ابداہ من التوفیق حسن بالقول حقیق فان من وجدفی البریۃماء فی احد جانبیہ نجاسۃفھل یؤمران یتوضأفی الطرف الاخرکی یجرب علی نفسہ انہ یتحرك ام لافان وجدہ یتحرك فلیجتنب وای شیئ یجتنب وقد
نہ ہو ، اورمعراج میں ہے کہ ظاہرمذہب یہی ہے۔ اور زیلعی میں ہے کہ یہی ظاہرمذہب ہے اورمتقدمین کا قول ہے ، یہاں تك کہ بدائع اورمحیط میں ہے کہ ہمارے اصحابِ متقدمین کی روایت اس پرمتفق ہے کہ اعتبارہلانے کاہے اس کے ساتھ ہی پانی اوپرنیچے ہونے لگے نہ کہ دیر بعد ، اورعام حرکت کااعتبارنہیں ، اور معتبروضوکی حرکت ہے ، یہی اصح ہے ، محیط اورحاوی قدسی۔ اورتجھ پریہ بات مخفی نہ ہونی چاہئے کہ غالب ظن کا اعتباربلا تقدیرشیئ یہ ظاہرمیں حرکت کے اعتبارکے مخالف ہے کیونکہ غلبہ ظن ایك باطنی امرہے جس میں اختلاف ہوتا ہے ، اوردوسرے کنارہ کوحرکت دیناایك حسی امر ہے جس کامشاہدہ ہوتا ہے اوراس میں کوئی اختلاف نہیں ہوتاپھریہ دونوں چیزیں ہمارے ائمہ ثلٰثہ سے ظاہرروایت میں منقول ہیں ، اورمیں نے نہیں دیکھاکہ کسی نے اس پرکلام کیاہو ، اس میں تطبیق کی شکل میرے نزدیك یہ ہوسکتی ہے کہ جب بالفعل تالاب کوحرکت نہ دی جائے تواس امرکاغلبہ ظن ہوناچاہیے کہ اگرحرکت دی جاتی تودوسرے کنارے پر حرکت پیدا ہوتی فلیتأمل اھ ملخصا۔ (ت)
میں کہتاہوں تطبیق کی جوشکل انہوں نے پیش کی ہے نہایت مستحسن ہے کیونکہ اگرکوئی شخص جنگل میں پانی کا تالاب پائے جس کے ایك کنارہ پرنجاست ہوتواب کیایہ معقول بات ہوگی کہ اسے حکم دیاجائے ، جاؤ اس کے دوسرے کنارے سے وضوکرکے تجربہ کروکہ آیااس طرح دوسرے کنارے پرحرکت ہوتی ہے
تلوث فاذن لیس المراد الاان یغلب علی ظنہ انہ ان توضأ تحرك فمافی القول الاول بیان للمقصود وماھنابیان لمعرفہ فان خلوص النجاسۃامرباطنی لایوقف علیہ و وصول الحرك یعرفہ فمایظن فیہ ھذاھو المظنون فیہ ذاك ومالافلا ثم(۱)المنقول فی البئراذاانغمس فیھا محدث ولوجنبانزح عشرین دلواففی ردالمحتارعن الوھبانیۃ
مذھب محمداھ یسلبہ الطھوریۃوھوالصحیح عند الشیخین فینزح منہ عشرون لیصیر طھورا[2] اھ قال والمرادبالمحدث مایشمل الجنب ،
ثم(۲)وقع بینھم النزاع فی ان الصھریج وھوعلی مانقل الشافعیۃعن القاموس الحوض الکبیرھل ھوکالبئرفیکفی فیہ نزح البعض حیث یکفی ام کالزیرفیجب اخراج الکل وغسل السطوح للتطھیر بالاول افتی بعض معاصری العلامۃ
عمربن نجیم صاحب النھرمتمسکاباطلاقھم البئرمن دون تقییدبالمعین و ردہ فی النھر تبعا للبحربمافی البدائع والکافی وغیرھمامن ان الفأرۃ لو وقعت فی الحب یھراق الماء کلہ قال ووجہہ ان الاکتفاء بنزح البعض فی الاٰبارعلی خلاف القیاس بالاٰثارفلایلحق بھاغیرھاثم قال وھذاالردانما
یا نہیں؟اب اگرحرکت محسوس کرے تووضونہ کرے اوراب بچ کیسے سکتا ہے جبکہ اس کے اعضاء اس گندے پانی میں ملوّث ہوچکے ہیں ، لہٰذاغلبہ ظن سے مرادیہی ہے کہ اگروہ وضوکرے تودوسرے حصہ پرحرکت ہوگی ، توپہلے قول میں مقصودکابیان ہے اوریہ معرفت کابیان ہے کیونکہ نجاست کادوسری جانب پہنچناایك باطنی امرہے اس پراطلاع نہیں ہوتی ہے ، اورحرکت کے پہنچنے سے معلوم ہوتاہے جہاں اِس کاگمان ہے وہاں اُس کابھی ہے اس کانہیں تواُس کابھی نہیں ، پھرکنویں کے بارے میں یہ منقول ہے کہ اگربے وضویا جنب کنویں میں غوطہ لگائے تواُس سے بیس ڈول پانی نکالاجائیگا۔ ردالمحتارمیں وہبانیہ سے منقول ہے کہ محمدکامذہب یہ ہے کہ طہوریت سلب ہوجائیگی ، اورشیخین کے نزدیك یہی صحیح ہے ، تواس سے بیس ڈول نکالے جائیں گے تاکہ وہ طہورہوجائے اھ فرمایااورمحدث میں جُنب بھی شامل ہے ، پھرفقہاء میں یہ اختلاف واقع ہوا کہ جو صہریج___ شافعیہ نے قاموس سے نقل کیاکہ اس سے مرادبڑاحوض ہے ، ایك قول یہ ہے کہ وہ کنویں کی طرح ہے تواس کاکچھ پانی نکالناکافی ہوگایازیر(سوتا)کی طرح ہے اورکل پانی نکالنا ہو گا او ر اس کی سطحوں کو بھی دھوناپڑے گا ، پہلے قول کے مطابق علامہ عمربن نجیم صاحبِ نہرکے بعض معاصرین نے فتوٰی دیا اورفقہاکے اس اطلاق سے استدلال کیاکہ انہوں نے کنویں میں سوتے والے اور
یتم بناء علی ان الصھریج لیس من مسمی البئرفی شیئ[3] اھ قال الشامی ای فاذاادعی دخولہ فی مسمی البئرلایکون مخالفاللاٰثارویؤیدہ ماقدمناہ من ان البئرمشتقۃ من بأرت ای حضرت والصھریج حفرۃفی الارض لاتصل الیدالی مائھابخلاف العین والحب والحوض والیہ مال العلامۃالمقدسی فقال مااستدل بہ فی البحرلایخفی بعدہ واین الحب من الصھریج لاسیما الذی یسع الوفاء من الدلاء[4] اھ لکنہ خلاف مافی النتف ونصہ اماالبئرفھی التی لھا موادمن اسفلھااھ ای لھامیاہ تمد وتنبع من اسفلھاولایخفی انہ علی ھذاالتعریف یخرج الصھریج والحب والابارالتی تملاءمن المطراومن الانھار[5] اھ مافی ردالمحتار باختصار۔
اقول : (۲)وکون البئرمن البأریقتضی ان کل بئر محفورۃلاان کل محفوربیرولاتنس ماحکوہ فی القارورۃ والجرجیروفی الدر
بغیرسوتے والے میں فرق نہ کیا ، اس کو نہر میں بحرکی متابعت میں ردکیا ، کیونکہ بدائع اورکافی وغیرہ میں ہے کہ گڑھے میں چُوہیاگرجائے توکل پانی نکالا جائیگا اور اس کی وجہ یہ ہے کہ کنویں سے کچھ پانی کانکالنا خلافِ قیاس ہے اورآثارکی وجہ سے ہے توکنویں کے علاوہ کسی اورچیزمیں یہ خلاف قیاس نہ چلے گا ، پھر فرمایایہ رداس بناء پرہے کہ صہریج پربئرکااطلاق نہیں ہوتااھ۔ شامی نے کہاجب یہ دعوٰی کیاجائے کہ اس پر بھی بئرکااطلاق ہوتاہے توآثارکے مخالف نہ ہوگااوراس کی تائیداس سے ہوتی ہے کہ بئربأرتُ سے مشتق ہے یعنی “ حفرتُ “ (میں نے کھودا)صہریج اس گڑھے کوکہتے ہیں جس کے پانی تك ہاتھ نہ پہنچتا ہو ، عین ، حب ، حوض اس کے برعکس ہے اوراسی طرف علامہ مقدسی مائل ہوئے ہیں ، اورفرمایاجس سے بحر نے استدلال کیا سے اُس کابُعدمخفی نہ رہے اورحب اورصہریج میں بڑا فرق ہے خاص طورپروہ جس میں وفاڈول کی گنجائش ہواھ مگریہ نتف کے خلاف ہے اوراس کی عبارت یہ ہے اورکنواں وہ ہے جس کے نیچے سے سوتے ہوں اھ یعنی نیچے سے پانی نکلتارہتاہو ، اورمخفی نہ رہے کہ صہریج ، حب اورکنویں جو بارش سے بھرجاتے ہیں یانہروں سے وہ اس تعریف سے خارج ہیں اھ ردالمحتارمختصراً(ت)
میں کہتا ہوں بئر کا بأرٌ سے مشتق ہونااس امرکامقتضی ہے کہ ہربئرکھودا ہوا ہو یہ نہیں کہ ہرکھوداہوا بئرہو اور تم اس کو نہ بھُلاناجوانہوں نے قارورہ اورجرجیرکے بارے میں حکایت کیا ہے
المختارعن حواشی العلامۃ الغزی صاحب التنویرعلی الکنز عن القنیۃ ان حکم الرکیۃ کالبئروعن الفوائدان الحب المطموراکثرہ فی الارض کالبئرقال فے الدروعلیہ فالصھریج والزیرالکبیرینزح منہ کالبئر فاغتنم ھذاالتحریر[6] اھ
قال الشامی الرکیۃ فی العرف بئریجتمع ماؤھامن المطرفھی بمعنی الصھریج قال وھذا مسلم فی الصھریج(۱)دون الزیر لخروجہ عن مسمی البئروکون اکثرہ مطمورای مدفونا فی الارض لایدخلہ فیہ لاعرفاولالغۃ ومافی الفوائدمعارض باطلاق مامرعن البدائع والکافی وغیرھماوفرق ظاھربینہ وبین الصھریج کماقدمناعن المقدسی [7] اھ مختصرا۔
[1] ردالمحتار باب المیاہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۴۱
[2] ردالمحتار فصل فی البئر مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۵۷
[3] ردالمحتار فصل فی البئر مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۵۹
[4] ردالمحتار فصل فی البئر مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۵۹
[5] ردالمحتار فصل فی البئر مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۵۹
[6] درمختار ، فصل فی البئر ، مجتبائی دہلی ۱ / ۳۹)
[7] رد المحتار ، فصل فی البئر ، مصطفی البابی ۱ / ۱۵۹)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع