30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
گرنے یاکسی ایسے شخص کے نہانے سے جس کے بدن پرکچھ بھی نجاست حقیقیہ لگی تھی ضروربالاتفاق ناپاك ہوجائیگااورہمارے جمیع ائمہ مذہب کے مذہب صحیح ومعتمدپرجبکہ اُس سے کوئی فرض طہارت ساقط ہو(مثلاًجنب نہائے یامحدث وضو کرے یابضرورت طہارت مثلاًچلّو میں پانی لینے کے سواصاحب حدث کے کسی بے دھوئے
عضوکاجسے دھوناضرور تھاکوئی جُزکسی طرح اگرچہ بلا قصد اُس سے دُھل جائے)یابہ نیت قربت استعمال میں لایاجائے(مثلاًباوضو آدمی وضوئے تازہ کی نیت سے اُس میں کسی عضوکو غوطہ دے کردھوئے)ساراپانی مستعمل ہوجائیگاکہ پاك توہے مگرغسل ووضو کے قابل نہ رہاجب حوض(۱)صغیرمیں یہ صورت واقع ہوتواس کے مطہرکرنے کیلئے دوباتوں میں سے ایك کرناچاہئے یاتومطہرپانی مستعمل پرغالب کردینایاحوض کو لبریزکرکے مطہرپانی سے بہادینااول کی صورت یہ ہے کہ حوض میں خود ہی اُس شخص کے نہاتے یابے دُھلاعضوبلا ضرورت ڈالتے وقت نصف حوض سے کم پانی تھا تواب مطہرپانی سے بھردیں کہ یہ مستعمل سے زیادہ ہوگیااوراگر اس وقت نصف یا زیادہ حوض میں پانی تھاتو پہلے اتناپانی نکال دیں کہ حوض کااکثرحصّہ خالی ہوجائے پھرمنہ تك بھردیں مثلاً ہموار حوض کہ زیروبالایکساں مساحت رکھتاہے دوگزگہراہے اوراس شخص کے نہاتے وقت اُس میں گز بھر پانی تھاتوپاؤگرہ پانی نکال دیں اورسترہ گرہ تھاتوسوا گرہ کھینچ دیں کہ بہرحال سواسولہ گرہ خالی اورپونے سولہ میں پانی رہے پھرنئے پانی سے لبالب بھردیں اوردوم کی شکل یہ کہ حوض میں اُس وقت پانی کتناہی ہو اُس میں سے کچھ نہ نکالیں اورنیا پانی اُس میں پہنچاتے جائیں یہاں تك کہ کناروں سے اُبل کربَہ جائے یہ دوسراطریقہ ناپاك حوض کے پاك کرنے میں بھی کفایت کرتاہے جبکہ ناپاك چیزنکالنے کے قابل نکال کرپانی سے اُبال کربہادیں ظاہرہے کہ اُس وقت حوض میں پانی نصف سے جتناکم ہوپہلا طریقہ آسان ترہوگادوگزگہرے حوض میں اُس وقت چارہی گرہ پانی تھا تو صرف چارگرہ پانی اور پہنچا کر چند ڈول زیادہ ڈال دیں کہ مستعمل سے مطہراکثرہوگیااوراس وقت پانی نصف سے جتنازائدہودوسرا طریقہ سہل ترہوگاکہ اُس میں نکالناکچھ نہ پڑے گااورکم حصہ خالی ہے جسے بھرکرابالناہوگااورجہاں(۲)دونوں صورتیں دشواری وحرج صریح رکھتی ہوں وہاں اگرقول بعض علماء پر عمل کرکے اُس میں سے بیس ہی ڈول نکال دیں توامیدہے کہ اِن شاء اللہ تعالٰی اسی قدرکافی ہو یُرِیْدُ اللّٰهُ بِكُمُ الْیُسْرَ وَ لَا یُرِیْدُ بِكُمُ الْعُسْرَ٘- (اللہ تعالٰی تم پرآسانی چاہتاہے تنگی نہیں چاہتا۔ ت)اورسب سے زیادہ صورت ضرورت یہ ہے کہ وہاں کنواں نہ ہومینہ سے حوض بھرتاہواورہوگیامستعمل اب اُس کے بہانے یامستعمل پر مطہربڑھانے کیلئے پانی کہاں سے لائیں لہٰذا اس صورت ثالثہ پرعمل ہوگا وبالله التوفیق۔
درمختار میں ہے :
لایجوز(ای رفع الحدث)بماء استعمل لاجل قربۃ اواسقاط فرض بان یدخل یدہ او رجلہ فی جب لغیر اغتراف ونحوہ اذاانفصل عن عضو وان لم یستقر علی المذھب وھوطاھرولومن جنب وھوالطاھر
جائزنہیں(یعنی رفع حدث)اُس پانی سے جوحدث دُورکرنے یاقربۃحاصل کرنے کیلئے استعمال میں لایا گیاہو مثلاًیہ کہ اپناہاتھ یاپیر کسی گڑھے میں داخل کردے اور اس کو مقصود چلّو بھر کرپانی لینا نہ ہو تو وہ عضو سے جُدا ہوتے ہی مستعمل ہوجائیگا خوا ہ ا س پر
لیس بطھورلحدث علی المعتمد محدث انغمس فے بئرولانجس علیہ الاصح انہ طاھروالماء مستعمل [1] اھ ملتقطا۔
نہ ٹھہرے ، مذہب یہی ہے اور یہ پاك ہی رہے گا خواہ ناپاك آدمی ہی کیوں نہ ہو اوروہ طاہرہے ، پاك کرنے والا نہیں ہے ، معتمدقول یہی ہے ، اگرکوئی بے وضو کسی کنویں میں غوطہ لگائے اوراس کے جسم پرکوئی نجاست نہ ہواصح یہ ہے کہ وہ پاك ہے اورپانی مستعمل ہے اھ ملتقطا۔ (ت)
ردالمحتارمیں ہے :
قولہ الاصح ھذا القول ذکرہ فی الھدایۃ روایۃ عن الامام قال الزیلعی والھندی وغیرھما تبعالصاحب الھدایۃھذہ الروایۃ اوفق الروایات وفی فتح القدیروشرح المجمع انھاالروایۃ المصححۃ قال فی البحرفعلم ان المذھب المختارفی ھذہ المسألۃ ان الرجل طاھروالماء طاھرغیرطھور[2] اھ مختصرا۔ اس کاقول الاصح ، اس قول کوہدایہ میں امام سے بطورروایت کے ذکرکیاہے ، زیلعی اورہندی وغیرہما نے صاحبِ ہدایہ کی متابعت میں کہاکہ یہ روایت اوفق الروایات ہے ، فتح القدیراورشرح المجمع میں ہے کہ تصحیح شدہ روایت یہی ہے ، بحرمیں ہے اس سے معلوم ہوا کہ مذہب مختار اس مسئلہ میں یہ ہے کہ آدمی پاك ہے ، پانی پاك ہے مگرپاك کرنے والانہیں اھ مختصرا۔ (ت)
درمختار میں ہے :
الغلبۃلوالمخالط مماثلاکمستعمل بالاجزاء فان المطلق اکثرمن النصف جازالتطہیر والالا[3]اھ ملتقطا۔
غلبہ اجزاء کے اعتبارسے ہوگا اگرملنے والا مماثل ہوجیسے مستعمل پس اگرمطلق اکثرہے نصف سے ، توتطہیر جائز ہے ورنہ نہیں اھ ملتقطا۔ (ت)
ردالمحتارمیں ہے :
ای وان لم یکن المطلق اکثربان کان اقل اومساویالایجوز[4] اھ۔
یعنی اگر مطلق زائدنہ ہومثلاًیہ کہ کم ہویامساوی توجائزنہیں اھ(ت)
درمختارمیں ہے :
یجوزبجاروقعت فیہ نجاسۃ ان لم یر اثرہ (وھوطعم اوریح اولون)ظاھرہ یعم الجیفۃ و رجحہ الکمال وقال تلمیذہ قاسم انہ المختار وقواہ فی النھرواقرہ المصنف وفی القہستانی عن المضمرات عن النصاب وعلیہ الفتوی وقیل ان جری علیہ نصفہ فاکثرلم یجز وھو احوط(وکذا)یجوز(براکد)کثیروقع فیہ نجس لم یراثرہ ولوفی موضع وقوع المرئیۃ بہ یفتی بحر(والمعتبر)فی مقدار الراکد (اکبررای) المبتلی بہ(فان غلب علی ظنہ عدم خلوص النجاسۃ الی الجانب الاخر جاز و الا لا)ھذا ظاھر الروایۃ وھوالاصح غایۃ وغیرھاوفی النھر ان اعتبار العشراضبط ولاسیمافی حق من لارأی لہ من العوام فلذاافتی بہ المتأخرون الاعلام[5] اھ مختصرا۔
وضوجائزہے اُس جاری پانی سے جس میں نجاست گری اوراس کااثریعنی مزہ ، بُویارنگ اس میں ظاہرنہ ہو ، بظاہریہ مردہ کو بھی عام ہے ، کمال نے اس کوترجیح دی ہے اوران کے شاگردقاسم نے کہاکہ یہی مختارہے ، اورنہرمیں اس کوتقویت دی اور مصنف نے اس کوبرقراررکھا ، اورقہستانی میں مضمرات سے نصاب سے منقول ہے کہ اسی پرفتوٰی ہے ، اورکہاگیاکہ اگر اس پرآدھایازائدجاری ہوتوجائزنہیں اوریہی احوط ہے(اور اسی طرح)جائزہے(ٹھہرے ہوئے)کثیرپانی سے جس میں نجاست گری ہو اوراس کااثرغیرمرئی ہوخواہ اُس جگہ سے ہوجہاں نجاست نظرآتی ہو ، اسی پرفتوٰی ہے بحر(اورمعتبر)ٹھہرے ہوئے پانی کی مقدارمیں(جس طرف رائے کا رجحان ہو)یعنی اس شخص کی رائے جواس معاملہ سے متعلق ہے ، (اگراس کویہ ظن غالب ہے کہ نجاست یہاں سے تجاوزکرکے دوسری طرف نہیں گئی ہے توجائزہے ، ورنہ نہیں)یہ ظاہر روایت ہے اوریہی صحیح ہے غایۃ وغیرہ میں۔ اورنہرمیں ہے کہ دس ہاتھ کااعتبارکرلینازیادہ مناسب ہے ، خاص طورپراُن عوام کے حق میں جن کی اس سلسلہ میں کوئی رائے نہیں ہوتی ہے ، اسی لئے متاخرین علما نے اسی پرفتوٰی دیا ہے اھ مختصرا۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع