دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 2 | فتاوی رضویہ جلد ۲

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۲

تك محدود ہے جیسا کہ فقہاء نے فرمایا ، اور جو نظر میں نے ذکر کی ہے اس سے جواب ظاہر ہوگیا ، اور محقق نے اس کی طرف اشارہ کیا کیونکہ ابن ہمام نے فرمایا اس میں نظر ہے میرے نزدیك اس کی تقریر یہی ہے ، بہرصورت ان کیلئے اس میں کوئی حجۃ نہیں جو ملقی اور ملاقی میں برابری کے قائل ہیں ، بلکہ یہ اُن کے خلاف حجۃ ہے ، کیونکہ اس کا فحویٰ اس پر دلالت کرتا ہے کہ حکم تری پر مقصور ہے ، جو برتن میں باقیماندہ پانی ہے اس پر نہیں ہے کیونکہ مسح میں اسالۃ کی ضرورت نہیں ، تو انہوں نے بتایا کہ جہاں بہانا ہوتا ہے وہاں حکم برتن کے تمام پانی کو عام ہوتا ہے اور یہی مقصود ہے۔ (ت)

فائدہ ۱۰ : میں بتوفیق الہی کہتاہوں یہاں دولفظ ہیں الوضوء من الحوض اورالوضوء فی الحوض ۔ قاسم نے

بہ(۱)عبرالعلامۃقاسم تسامحا وفی الحوض وبہ عبر العلامۃ ابن الشحنۃ وسوی(۲)بینہما البحرفتارۃ یقول من کصدر مقالتہ واسم رسالتہ واخری فی کمطاوی عبارتہ وقد علمت ان الثانی یحتمل وجہین الوضوء خارجہ بحیث تقع الغسالۃ فیہ ولو بعد الجریان علی الارض والوضوء فیہ بغمس الاعضاء ذاك ملقی وھذا ملاقی واللفظ الاو یحتمل ثلٰثۃ وجوہ ھذین والوضوء خارجہ بالاغتراف منہ بحیث لاتصل الغسالۃ الیہ کالوضوء من بئرزمزم وھذا الثالث علی ثلثۃ وجوہ الاغتراف باناء بحیث لایصیب شیئ من یدہ الماء وبالید لعدم اناء اومع وجودہ فالاول جائز بالاجماع ولایتوھم تطرق خلل بہ الی الماء وکذا الثانی لمکان الضرورۃ الا اذا ادخل ازید من قدر الحاجۃ او قدرھا للاغتراف ثم نوی الغسل فیہ فان ھذین یعود ان الی صورۃ الغمس کالثالث ففی ھذہ عـــہ الاربع یصیر الماء کلہ مستعملا                                           

تسامح سے کام لیتے ہوئے من الحوض سے تعبیر کیااورابن الشحنہ نے الوضو فی الحوض سے تعبیر کیااوربحرنے ان دونوں کو برابر کیا ، کبھی تومن کہتے ہیں ، جیسا کہ انہوں نے اپنے مقالہ کی ابتداء اور رسالہ کے نام میں ، اور کبھی فی استعمال کیا جیسا کہ عبارات کے درمیان میں کیا۔ اور آپ جان چکے ہیں دوسرا دو وجہوں کا احتمال رکھتا ہے ، ایك تو وضو حوض کے باہر اس طرح کہ دھوون حوض میں گرے خواہ زمین پر بہہ کر جائے اور ایك یہ کہ وضوء اس طرح کیاجائے کہ حوض میں اعضاء ڈبوئے جائیں وہ ملقی ہے اور یہ ملاقی ہے اور پہلا لفظ تین وجوہ کا محتمل ہے ، دو تو یہی اور تیسری یہ کہ حوض کے باہر بیٹھ کر حوض سے چلو بھر پانی لیں اس طرح کہ دھوون حوض تك نہ پہنچے ، جیسے زمزم کے کنویں سے کیا جاتا ہے۔ اور اس تیسری وجہ میں بھی تین وجوہ ہیں ، ۱ایك تو یہ کہ برتن سے پانی لیں اس طرح کہ ہاتھ پانی کو نہ لگے ، ۲دوسرے یہ کہ ہاتھ سے لیں جبکہ برتن نہ ہو ، ۳تیسرے یہ کہ ہاتھ سے لیں لیکن برتن موجودہو توپہلا بالاجماع جائز ہے اور اس سے پانی میں خلل کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ہے اور دوسرا بھی جائز ہے کیونکہ ضرورت ہے ، ہاں اگر ضرورت سے زائد ہاتھ داخل کیا یا بقدرِ ضرورت ڈالاپھر اس میں غسل کا ارادہ کیا تو یہ دونوں صورتیں ڈبونے کی صورت

 

عـــہ ای ادخال الزائدعلی قدر حاجۃ الاغتراف ونیۃ الغسل فیہ والاغتراف بید محدثۃ مع وجود الاناء والوضوء فیہ بغمس الاعضاء اھ منہ غفرلہ ۔ (م)

یعنی چلّو کی مقدار سے زیادہ داخل کرنا اور پانی میں دھونے کی نیت کرنا اور برتن کے ہوتے ہوئے محدث ہاتھ کے ذریعے پانی نکالنااورپانی میں اعضاء ڈبو کر وضو کرنا اھ منہ غفرلہ(ت)

قلیلا کان اوکثیرامالم یکن کثیرا امااول الثانے اعنی الوضوءخارجہ مع وقوع الغسالۃفیہ فالصحیح المعتمدانہ لایفسدالماء مالم یساوہ اویغلب علیہ ھذہ احکام الصورالخمس وقد وضحت بحمدالله تعالٰی مثل الشمس ، وبہ ظھر ان العلامۃ عبدالبراصاب فی حکم الاربع الاول دون الخامس والعلامتان القاسم والبحر ومن تبعھم بالعکس ثم معہ فیما خالف الصحیح عدۃروایات واقوال مفصلۃ فے البدائع وغیرھا ان الماء المستعمل یفسد المطلق مطلقًا وان قل اواذااستبان مواقع القطراواذاسال سیلاناوالکل حاصل فی الوضوء فے الحوض الصغیر بالمعنی الاول بخلاف ھٰؤلاء الجلۃ فلیس بایدیھم الابحث وقع فے البدائع علی خلاف النصوص المتواترۃ واجماع ائمۃ المذھب رضی الله تعالٰی عنہم والحق ، ھوھذاالفرق ، الذی وفق المولی سبحنہ وتعالی عبدہ الذلیل ، بتحقیقہ الجلیل ، بحیث احاط ان شاء الله تعالٰی بکل کثیر وقلیل ، وبلغ الغایۃالقصوی فی التفریع والتاصیل ، فلہ الحمدعلی مااولی ، وافضل الصلوات العلی ، والتسلیمات الزاکیات المبارکات علی المولی ،  والہ وصحبہ ، وابنہ و حزبہ ، کمایحب ربنا و یرضی اٰمین والحمد لله  رب العٰلمین ، والله سبحنہ وتعالٰی وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔                   

میں شامل ہیں ، جیسی کہ تیسری ، توان چاروں صورتوں میں کل پانی مستعمل ہوجائیگا خواہ کم ہو یا زیادہ ، جب تك کہ کثیر نہ ہوجائے لیکن دوسرے کاپہلا یعنی حوض کے باہر وضو کرنا اس طرح کہ دھوون اس میں گرتا رہے تو صحیح اور معتمد یہ ہے کہ جب تك وہ پانی کے برابر نہ ہویااس پر غالب نہ ہو پانی کو فاسد نہ کرے گا ، یہ پانچوں صورتوں کے احکام ہیں اور میں نے بحمداللہ  سورج کی طرح واضح کردیا ہے ، اور اسی سے ظاہر ہوگیا کہ علّامہ عبدالبر نے پہلی چار صورتوں کے بیان میں کوئی غلطی نہیں کی مگر پانچویں میں غلطی کی اور علامہ قاسم اور بحر اور ان کے متبعین نے برعکس کیا پھر ان کے ساتھ ان صورتوں میں جن میں مخالفت کی ، متعدد روایات واقوال ہیں جن کی تفصیل بدائع وغیرہ میں ہے ، مثلاً یہ کہ مستعمل پانی مطلق پانی کو مطلقًا فاسد کردیتاہے خواہ کتناہی کم کیوں نہ ہو ، یا قطروں کے مقامات ظاہر ہوں یاجبکہ خوب بہے اور یہ سب چھوٹے حوض میں وضو کرنے سے حاصل ہے ، لیکن پہلے معنی کے اعتبار سے ، بخلاف ان جلیل القدر علماء کے کہ ان کے ہاتھ میں سوائے اُس بحث کے کچھ نہیں جو نصوص متواترہ ، اجماعِ ائمہ مذہب کے خلاف بدائع میں واقع ہے ، اور حق وہ فرق ہے جس کی اپنے ذلیل بندے کو مولیٰ سبحٰنہ نے توفیق دی تحقیق جلیل کی کہ اس نے کثیر وقلیل کااحاطہ کیااور انتہا کو پہنچااُس کی حمد سب سے اولیٰ ہے بہتر صلوٰۃ وسلام افضل مبارك مز کی آقا پر ان کے آل اصحاب اولاد جماعت پر جیسا کہ ہمارا رب پسند فرمائے آمین

والحمدلله  رب العالمین الی اٰخرہٖ۔

مسئلہ ۳۰ :                مرسلہ مولوی نذر امام صاحب مدرس سہسوانی                    ۲۹ ربیع الاول شریف ۱۳۱۵ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ کوئی شخص غسلِ جنابت کی حاجت میں غسل حوض میں کرے توحوض پلید ہوجائے گایا نہیں؟ زید کہتا ہے کہ حوض میں کوئی شخص متواتر گھُسے توپلید ہوجاتاہے بکر کہتا ہے آدمی پاك صاف گھُساتونہ پلید ہوتاہے نہ مکروہ ، ہاں نجاست سے رنگ بُومزہ بدل جائیگا تو پلیدہوجائیگا۔ بینوّا توجروا۔

الجواب :

حوض کتناہی چھوٹاپانی کتناہی کم ہو کسی پاك صاف آدمی کے جانے نہانے سے جس کے بدن پرکوئی نجاست حقیقیہ نہ لگی ہوہرگزناپاك نہیں ہوتااگرچہ اسے نہانے کی حاجت ہی ہواگرچہ وہ خاص ازالہ جنابت ہی کی نیت سے اُس میں گیاہو ہمارے ائمہ کے صحیح ومعتمد ومفتی بہ مذہب پر غسل بھی اُترجائے گا اورحوض بھی بدستور پاك رہے گا اور اگر آبِ حوض مائے کثیرکی مقدارپرہے جب توجنب کے نہانے سے مستعمل ہونادرکنارباجماعِ تمام ائمہ کرام کسی نجاست حقیقیہ کے گرنے سے بھی ہرگز ناپاك نہ ہوگاجب تك اس قدرکثرت سے نجاست نہ گرے کہ اس کے رنگ یا بُویامزہ کوبدل دے اسی پرفتوٰی ہے یا ایك قول پر اُس کانصف یااکثرنجاستِ مرئیہ پرہوکر گزرے بہتاپانی توباجماع قطعی تمام اُمتِ محمدیہ علی سیدہا افضل الصّلوٰۃ والتحیۃآبِ کثیرہے کہ بغیراُس تغیریامرورکے کسی طرح ناپاك نہیں ہوسکتا جیسے دہلی میں مسجد فتحپوری کا حوض جس میں جمنا سے لائی ہوئی نہر پڑی ہے اور(۱)ٹھہرے ہوئے پانی میں ہمارے علماء کے دو قول ہیں :

(۱)جس پرآدمی کا دل شہادت دے کہ ایك کنارے کی پڑی ہوئی نجاست کااثردوسرے کنارے تك نہ پہنچے گااُس کے حق میں وہی کثیرہے اور اثر نہ پہنچنے کامعیاریہ کہ ایك کنارے پر وضو کیا جائے تو دوسرے کنارے کاپانی فوراً تلے اوپر نہ ہونے لگے نری حرکت یادیر کے بعد پانی کے اُٹھنے بیٹھنے کااعتبار نہیں۔

(۲)جس کی مساحت سطح بالائی دہ دردہ یعنی اُس کے طول وعرض کامسطح سَوہاتھ ہو اورگہرا اتناکہ لَپ میں پانی لینے سے زمین نہ کھُلے وہ کثیرہے ہمارے ائمہ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمکااصل مذہب وہی قولِ اول ہے اورعام متون مذہب نے قولِ ثانی اختیار کیااوربکثرت مشائخ اعلام نے اُس پرفتوٰی دیابہرحال یہ قول بھی باقی تمام مذاہب کے اقوال سے زیادہ احتیاط رکھتا ہے ہاں اگرپانی مقدارکثیرسے کم ہے تو البتہ کتنی ہی ذرا سی نجاست اگرچہ خفیفہ کے

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن