دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 2 | فتاوی رضویہ جلد ۲

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۲

میں کہتا ہوں یہ کلام بہت خوب ہے ، اس میں انہوں نے بڑی وضاحت سے اپنے رسالہ کے مقاصد کو ظاہر کیا ہے ، اور زہرالروض نے جو ملقی اور ملاقی میں خلط مبحث کیا ہے عدمِ جواز میں ، اُس سے بھی چھٹکارا دلایا ہے صرف بیس ڈول والی حدیث کا معاملہ باقی ہے اور ان کے مذہب معتمد میں تحقیق یہ ہے کہ جب تك مستعمل پانی برابر یا غالب نہ ہو اس وقت تك پانی بالکل نہیں نکالا جائیگا کیونکہ طہور پاك نہیں ہوتا ہے۔ (ت)

فائدہ ۶ : دُر میں ہے کہ مطلق پانی آدھے سے زائد ہے تو کُل سے پاکی حاصل کرنا جائز ہے ورنہ نہیں ، اور یہ چیز ملقی اور ملاقی کو عام ہے تو چھوٹے حوضوں میں وضو جائز ہے جب تك مستعمل پانی کا برابر ہونا معلوم نہ ہو ، اس کی تحقیق بحر ، نہر اور منح میں موجود ہے ، میں کہتا ہوں شرنبلالی نے شرح وہبانیہ میں دونوں میں فرق کیا ہے وہ بغور دیکھا جائے اھ

اور “ ش “ نے ان کے قول حققہ فی البحر کے پاس ان کا استدلال ذکر کیا ہے کہ ان کا اطلاق مفید عموم ہے ، اور بدائع کے قول اور قارئ الہدایہ کے مذکورہ فتوٰی سے ، فرمایا بحر میں دوسری عبارات سے بھی استدلال کیا ہے مگر وہ ان کے حق میں مفید نہیں ، جیسا کہ غور کرنے پر ظاہر ہوتا ہے ، کیونکہ وہ عبارات ملقی سے متعلق ہیں اور جھگڑا ملاقی میں ہے ، جیسا کہ ہم نے

الممتار علی قولہ المفید للعموم مانصہ۔

اقول : نعم یفید علی فرض ان المستعمل فی الملاقی ھو السطح الملاصق من الماء بجسد المحدث لاغیر وھو اول النزاع وانا اقول لوکان کذلك لارتفع المستعمل من صفحۃ الدنیا لانك اذا صببت الماء علی یدك مثلا فانما یلاقی یدل سطح من الماء وسائر جرمہ منفصل عنہا کما ان التلاقی یکون بسطح من یدك وسائر جرمھا لم یمسہ الماء والجسم ابدا یکون اکبر من السطح فتکون الغلبۃ لغیر المستعمل فلا یصیر مستعملا ابدا واذا جعلت کلہ مستعملا لتلاقی سطحہ سطح الجسد فلا نعلم فرقا بین جرم وجرم فان اسلت اسالۃ ضعیفۃ صار الکل مستعملا وان صببت صبا شدیدا حتی کان ثخن الماء اضعاف الاول کان ایضا کلہ مستعملا فلا دلیل علی التفرقۃ بین ثخن وثخن مالم یبلغ حد الکثرۃ ، وقول البدائع بحث منہ ذکرہ فی سؤال وجواب لانقل عن الاصحاب بخلاف کلام الامام الدبوسی فانہ نقل صریح ومن النصوص الصرائح کذلك مسائل ادخال الید والرجل ودخول المحدث فی البئر المصرح بھا نقلا عن الائمۃ الثلثۃ فی المتون والشروح والفتاوی وحمل کلھا علی روایۃ ضعیفۃ مما لایعقل ولا یحتمل وعبارۃ الفتوٰی                                                                                                                      

واضح کیا ہے ، اپنی تعلیقات میں اس پر ہم نے روشنی ڈالی ہے ، اس لئے ہم نے اس پر اکتفاء کیا ، اور میں نے اپنی کتاب “ جدّ المحتار “ میں لکھا ہے ، یہ ان کے قول “ المفید للعموم “ کے تحت لکھا گیا ہے۔ میری عرض یہ ہے کہ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہاں فائدہ دیتا ہے اس مفروضہ پر کہ مستعمل ملاقی میں وہ سطحِ آب ہے جو مُحدِث کے جسم سے ملی ہوئی ہے ، اس کے علاوہ کچھ اور نہیں ہے اور وہ پہلا نزاع ہے ، اور میں کہتا ہوں اگر ایسا ہی ہوتا تو روئے زمین پر مستعمل پانی کا وجود ہی ناپید ہوجاتا کیونکہ مثلاً اگر آپ نے اپنے ہاتھ پر پانی بہایا تو آپ کا ہاتھ پانی کی سطح سے ملے گا اور اس کا باقی حصّہ اس سے الگ رہے گا ، جس طرح تلاقی آپ کے ہاتھ کی سطح سے ہوتی ہے اور اس کا باقی حصّہ پانی سے کبھی نہیں لگتا ہے اور جسم ہمیشہ سطح سے بڑا ہی ہوتا ہے ، تو غلبہ غیر مستعمل کو ہوگا تو وہ مستعمل کبھی نہ ہوگا ، اور جب آپ نے کل کو مستعمل قرار دیا کہ اس کی سطح جسم کی سطح سے مل رہی ہے تو ہم ایك جرم اور دوسرے جرم میں فرق نہیں پاتے ہیں ، تو اگر آہستہ سے بہایا جائے تو کُل مستعمل ہوجائے گا ، اور اگر سختی سے بہایا جائے اس طور پر کہ پانی کا حجم پہلے سے کئی گنا زائد ہو تو بھی کل مستعمل ہوجائے گا تو پانی کے ایك حجم اور دوسرے حجم کے فرق پر کوئی دلیل نہیں ، تاوقتیکہ وہ حدِ کثرت کو نہ پہنچ جائے ، اور بدائع کا قول تو محض ایك بحث ہے جس کو انہوں نے ایك سوال وجواب کے ضمن میں ذکر کیا ہے یہ اصحابِ امام ابی حنیفہ

صریحۃ فی ان الماء المستعمل یقع فیھا فیکون من الملقی دون الملاقی ولا تغتر بانھم لابدلھم ان یغترفوا منھا فیدخلوا ایدیھم قبل الغسل وذلك تلاق لان الاغتراف معفو عنہ بالاتفاق لاجل الحاجۃ اھ ماکتبت علیہ ، وقد علمت مما قدمناہ فی الفصول الثلثۃ ان الفحول الثلثۃ کلھم قد اغفلوا محل النزاع ولکن لاعجب فی الاغفال انما(۱)العجب من العلامۃ الشامی تنبہ لھذا وترك جل مافی البحر لکونہ فی الملقی ثم اورد عبارۃ الفتوی مع انھا کما علمت صریحۃ فی الملقی فکان یجب اسقاطھا ایضا وقد علمت مافی الاستدلال بالعموم من نوع مصادرۃ علی المطلوب فلیس بایدیھم شیئ اصلا سوی بحث البدائع الواقع مناضلا لمتواترات النصوص والروایات الظاھرۃ الصحیحۃ عن الائمۃ الثلثۃ مصادما لاجماعھم المنقول فی الکتب المعتمدۃ حتی البدائع والبحر فتثبت ولا تزل ثبتنا الله وایاك والمسلمین بالقول الثابت فی الحیٰوۃ الدنیا وفی الاٰخرۃ انہ ولی ذلك والقدیر علیہ ولا حول ولا قوۃ الا بالله العلی العظیم وصلی الله تعالٰی علی سیدنا ومولٰنا واٰلہ وصحبہ وابنہ وحزبہ اجمعین اٰمین!                                  

سے نقل نہیں ہے جبکہ امام دبّوسی نے نقل پیش کی ہے اسی طرح ہاتھ پیر داخل کرنے ، اور بے وضو کے کنویں میں داخل ہونے کے مسائل صراحۃً متون وشروح میں مذکور ہیں اور فتاوٰی میں بھی مذکور ہیں ، ان کو ہمارے ائمہ ثلٰثہ سے نقل کیا گیا ہے ، اب ان تمام چیزوں کو ایك ضعیف روایت پر محمول کرنا انتہائی غیر معقول بات ہے ، اور فتوٰی کی عبارت سے صراحۃً معلوم ہوتا ہے کہ مستعمل پانی اس میں گرتا ہے تو وہ ملقی سے ہوگا نہ کہ ملاقی سے ، تجھے یہ دھوکا نہ ہو کہ ان کیلئے یہ ضروری نہیں کہ وہ اس سے چُلّو کے ذریعہ پانی نکالیں تو وہ ہاتھ دھونے سے قبل داخل کرینگے اور اسی کو تلاقی کہتے ہیں ، کیونکہ اس طرح چُلّو سے پانی نکالنا بالاتفاق معاف ہے ، کیونکہ اس میں حاجۃ ہے اھ یہاں تك میرا حاشیہ ختم ہوا ، اور جو کچھ ہم نے فصول ثلٰثہ میں ذکر کیا ہے اس سے آپ کو معلوم ہوگیا ہوگا کہ تینوں جلیل القدر علماء اصل محلِ نزاع سے غافل رہے ، لیکن اس غفلت پر تعجب نہیں ، تعجب تو اس امر پر ہے کہ علامہ شامی اس پر متنبہ ہوگئے اور جو بحر میں تھا اس کو ترك کردیا کیونکہ اس کا تعلق ملقی سے تھا ، اور پھر بھی فتوٰی کی عبارت ذکر کی ، حالانکہ جیسا کہ آپ کو معلوم ہے وہ ملقی میں صریح ہے تو اس کا اسقاط بھی ضروری تھا اور آپ کو معلوم ہے کہ عموم سے استدلال میں ایك قسم کا مصادرہ علی المطلوب ہے تو اُن کے پاس بدائع کے بحث کے علاوہ کچھ نہیں ہے جبکہ یہ عبارت نصوصِ متواترہ اور روایاتِ ظاہرہ صحیحہ کے مخالف ہے اور ائمہ ثلٰثہ کا جو اجماع کتب معتمدہ حتی کہ بدائع اور بحر میں بھی منقول ہے اُس کے بھی خلاف ہے لہٰذا اس کو خوب ذہن نشین کرلینا چاہئے ، اللہ  تعالیٰ تم کو

فائدہ  :  ختم ھذا المبحث ش بقولہ قلت وفی ذلك(ای مامال الیہ العلامۃ والبحر)توسعۃ عظیمۃ ولا سیما فی زمن انقطاع المیاہ عن حیاض المساجد وغیرھا فی بلادنا ولکن الاحتیاط لایخفی [1]اھ

اقول : (۱)الاحتیاط العمل باقوی الدلیلین وقد علمت ان مامالا الیہ لادلیل علیہ(٢)والتوسعۃ قد تبیح المیل الی روایۃ لغیرھا رجحان علیھا درایۃ وھھنا لاروایۃ ولا درایۃ نعم ان تحققت الضرورۃ ففی العمل بقول امامی الھدی مالك والشافعی رضی الله تعالی عنہما مندوحۃ ان الماء المستعمل طاھر وطھور۔

فائدہ : قال ش فی المنحۃ علی قول البحر لامعنی للفرق بین المسألتین یرید الملقی والملاقی مانصہ قال بعض مشائخنا یدل علیہ ایضا روایۃ النجاسۃ فان النجس ینجس غیرہ سواء کان ملقی اوملاقیا فکذا علی روایۃ الطہارۃ واذا کان کذلك فلیکن التعویل علیہ سیما وقد اختارہ کثیرون وعامۃ من تأخر عن الشارح تابعہ علی

ہم کو تمام مسلمانوں کو دنیا وآخرت میں حق پر ثابت قدم رکھے وہ اس کا والی اور قادر ہے اس اللہ  علی وعظیم کے سوا کسی کو طاقت نہیں ہے اور صلوٰۃ ہمارے سردار ان کی آل اصحاب بیٹے جماعت تمام پر ہو ، آمین!(ت)

فائدہ ۷ : “ ش “ نے اس بحث کو ان الفاظ پر ختم کیا ہے “ میں کہتا ہوں اور اس میں(یعنی جس کی طرف علامہ اور بحر کا میلان ہے)بڑی وسعت ہے خاص طور پر اُس زمانہ میں جبکہ ہمارے بلاد کی مساجد وغیرہ سے حوضوں کا پانی ختم ہوتا جاتا ہے ، لیکن احتیاط مخفی نہیں “ اھ(ت)

میں کہتا ہوں احتیاط تو اس میں ہے کہ دو دلیلوں میں سے جو زیادہ قوی ہو اس پر عمل کیا جائے ، اور آپ کو معلوم ہے کہ جس طرف ان کا رجحان ہے اس پر کوئی دلیل نہیں ، اور گنجائش میں کبھی مرجوح روایت کو بھی درایۃً اختیار کرنا پڑتا ہے ، اور یہاں تو نہ روایت ہے اور نہ درایت ، ہاں اگر ضرورت پائی جاتی ہے تو بقول امام مالك اور امام شافعی عمل کی حد تك پائی جاتی ہے ، اور ان کے نزدیك یہ پانی طاہر وطہور ہے۔ (ت)

فائدہ ۸ : “ ش “ نے منحہ میں بحر کے قول پر فرمایا دونوں مسئلوں میں کوئی فرق نہیں ، یعنی ملقی اور ملاقی میں ، ان کی عبارت یہ ہے کہ ہمارے بعض مشائخ نے فرمایا اس پر نجاست کی روایت دلالت کرتی ہے کیونکہ نجس دوسرے کو بھی نجس کرتا ہے خواہ وہ ملقی ہو یا ملاقی ، اسی طرح طہارت کی روایت پر۔ اور جب صورتِ حال یہ ہے تو اسی پر اعتماد ہونا چاہئے بالخصوص ایسی صورت میں جبکہ بہت سے علماء نے اس کو

ذلك حتی صاحب النھر مع مافیہ من رفع الحرج العظیم علی المسلمین [2] اھ۔

 



[1]   ردالمحتار باب المیاہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۳۵

[2]           منحۃ الخالق علی البحر الرائق کتاب الطہارۃ  ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۷۴

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن