دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 2 | فتاوی رضویہ جلد ۲

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۲

اقول :  ھذا التقریر(۱)وان لم یکن ظاھرا من سوق عبارۃ الاسرار بیانہ یتوقف علی ماذکر فی البدائع ثم البحر ان اخراج الماء من ان یکون مطھرا من غیر ضرورۃ حرام [1] اھ

 فیستفاد منہ ان اغتسال المحدث فی الماء القلیل حرام عند محمد ایضا فکأنّ الامام ابا یوسف یلزمہ بان المستعمل طاھر عندك والطاھر لایسلب الطھور طھوریتہ مادام الطھور غالبا کلبن یقع فیہ فلایصح لك تحریم الاغتسال فیہ الا

جو بدائع میں ابویوسف کی طرف محمد پر الزام ذکر کیا ہے اور محمد کا جواب ذکر کیا ہے جس سے تمام بات واضح ہوگئی انہوں نے پہلے تو ہمارے علماء کا مذہب مستعمل پانی کی بابت ذکر کیا اور امام محمد کا استدلال ذکر کیا پھر کہا کہ عام مشائخ امام محمد کے قول اور ان کی روایت جو امام ابو حنیفہ سے ہے کی تائید کرتے ہیں _____ پھر فرمایا دوسرے قول پر(یعنی اُس کی نجاست پر)اُس حدیث سے استدلال کیا گیا ہے جو مروی ہے ، پھر “ لایبولن احدکم “ والی حدیث سے استدلال کیا۔ پھر فرمایا جو حضرات یہ کہتے ہیں کہ مستعمل پانی طاہر وطہور ہے وہ اس سے غسل کو حرام قرار نہیں دیتے ہیں الی اخر ماتقدم عن الدبوسی۔ (ت)

 میں یہ کہتا ہوں کہ یہ تقریر اسرار کی عبارت کے سیاق سے ظاہر نہیں ہے ، اس کا بیان اُس پر موقوف ہے جو بدائع پھر بحر میں مذکور ہے کہ پانی کو مطہّر ہونے سے بلا ضرورت خارج کرنا حرام ہے اھ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بے وضو کا تھوڑے پانی میں غسل کرنا محمد کے نزدیك بھی حرام ہے ، گویا امام ابو یوسف بطور الزام اُن سے یہ کہتے ہیں کہ تمہارے نزدیك مستعمل پانی پاك ہے اور پاك پانی دوسرے پانی کی طہوریت کو سلب نہیں کرتا ہے جب تك کہ طہور غالب ہو ، جیسے کہ دودھ اس میں گر جائے ، تو آپ

ان تقول بقول وتحکم بنجاسۃ الغسالۃ فح یفسد الکل ویصح الحکم فاجاب محمد بان الکل لکونہ قلیلا شیئ واحد فصار الکل ملاقیا لبدن المحدث فصار الکل مستعملا حکما بخلاف اللبن فلیس فیہ الااختلاط طاھر بطھور ولیس سبب الاستعمال فلا یسلبہ الطھوریۃ مادام الماء غالبا علیہ۔

قلت :  وملك العلماء لم یجعلہ الزاما من ابی یوسف لمحمد بل دفع یرد علی استدلال ابی یوسف بالحدیث کما تقدم نقلہ فی صدر الفصل الاول ولکل وجہۃ ھو مولیھا وبالجملۃ اولہ علی کلا الوجھین تأیید لروایۃ ضعیفۃ وکفی باٰخرہ جوابا عنہ والاولی مافعل العبد الضعیف کما علمت ولله الحمد۔

فائدہ ۵ :  من کلام الشیخ ابن الشحنۃ فی الشرح علی مسألۃ محدث وقع فی بئر مانصہ والذی تحرر عندی انہ یختلف الحکم فیھا باختلاف اصول ائمتنا فیہ والتحقیق نزح الجمیع عند الامام علی القول بنجاسۃ الماء المستعمل وقیل اربعون عندہ وتحقیق مذھب محمد انہ یسلبہ الطھوریۃ وھو الصحیح عن الامام والثانی وعلیہ                                            

اُس میں غسل کو حرام نہیں کرسکتے ہیں ، صرف اس کی یہی صورت ہے کہ آپ میرے قول کو اختیار کرلیں ، اور دھوون کی نجاست کا قول کریں ، اس صورت میں کُل پانی فاسد ہوجائے گا اور حکم صحیح ہوگا ، محمد نے اس کا جواب یہ دیا کہ کل پانی بوجہ قلیل ہونے کے چونکہ شیئ واحد ہے تو کل بے وضو کے بدن سے متصل ہوا ، تو حکما کل مستعمل ہوگیا ، دُودھ میں یہ چیز نہیں اُس میں ایك طاہر کا طہور سے ملنا ہے اور یہ استعمال کا سبب نہیں ہے تو اُس کی طہوریت کو سلب نہ کریگا جب تك پانی اس پر غالب رہے۔ (ت)

میں کہتا ہوں ملك العلماء نے اس کو ابو یوسف کی طرف سے امام محمد پر بطور الزام ذکر نہیں کیا ہے ، بلالکہ ایك درمیانی اعتراض کا جواب ہے جو ابو یوسف کے حدیث سے استدلال پر پیدا ہوتا ہے جیسا کہ فصل اول کی ابتداء میں گزرا ، ہر شخص کا اپنا اپنا طرز استدلال ہوتا ہے ، خلاصہ یہ کہ اس کا اوّل دونوں صورتوں میں ایك ضعیف روایت کی تائید ہے اور اس کا آخر اس کا جواب شافی ہے ، اور بہتر وہ صورت ہے جو ناچیز نے اختیار کی ہے ، جیسا کہ آپ نے جان لیا ولله  الحمد۔ (ت)

فائدہ ۵ : یہ شیخ ابن الشحنہ کے کلام سے ماخوذ ہے جو اُنہوں نے اُس بے وضو کی بابت کیا ہے جو کنویں میں گر پڑا ہو ، فرماتے ہیں اس کا حکم ہمارے ائمہ کے اصول کے مختلف ہونے کی وجہ سے مختلف ہے اور تحقیق یہ ہے کہ امام صاحب کے نزدیك تمام کنویں کا پانی نکالا جائے گا کیونکہ ان کے نزدیك مستعمل پانی نجس ہے ، ایك قول یہ ہے کہ چالیس ڈول نکالے جائیں گے ، اور مذہب امام محمد کی تحقیق یہ ہے کہ وہ

الفتوی فینزح عشرون لیصیر طھورا وھذا علی القول بعدم اعتبار الضرورۃ امالو اعتبرت لایصیر مستعملا فی کل موضع تتحقق الضرورۃ فی الانغماس فی الماء اوادخال الید فیہ واعتبار الضرورۃ فی مثل ذلك مذکور فی الصغری وغیرھا ، فلا تغتر بما ذکرہ شیخنا العلاّمۃ زین الدین قاسم تغمدہ الله برحمتہ فی رسالتہ المسماۃ برفع الاشتباہ فانہ خالف فیھا صریح المنقول عن ائمتنا واستند الی کلام وقع فی البدائع علی سبیل البحث وتبعہ(یعنی القاسم)علی ذلك بعض من ینتحل مذھب الحنفیۃ ممن لارسوخ لہ فی فقھھم وکتب فیہ کتابۃ مشتملۃ علی خلط وخبط ومخالفۃ النصوص المنقولۃ عن محمد رحمہ الله تعالی وقد بینت ذلك فی مقدمۃ کتبتھا حققت فیھا المذھب فی ھذہ المسألۃ(ثم قال والحاصل ان ابازید الدبوسی الی اخر ماقدمنا عنہ اٰنفا ثم قال)وفی البدائع ایضا التصریح بان الطاھر اذا انغمس فی البئر للاغتسال صار مستعملا عند اصحابنا الثلثۃ رضی الله تعالی عنھم وصرح فی فتاوی قاضیخان بان ادخال الید فی الاناء للغسل یفسد الماء عند ائمتنا الثلثۃ وتکفل بایضاح ھذا وتحریرہ رسالتی زھر الروض[2]اھ

پانی سے طہوریت کو سلب کرلیتا ہے ، اور امام صاحب سے صحیح یہی ہے اور دُوسرے امام سے بھی ، اور اسی پر فتوٰی ہے تو اُس سے بیس ڈول نکالے جائیں گے تاکہ وہ طہور ہوجائے اور یہ عدم اعتبار ضرورت کے قول پر ہے ، اور اگر ضرورت کا اعتبار کیا جائے تو ہر اس جگہ جہاں پانی میں غوطہ لگانے کی یا ہاتھ ڈبونے کی ضرورت ہو وہاں پانی مستعمل نہ ہوگا اور ضرورت کا اعتبار اس کی مثل میں صغری وغیرہا میں مذکور ہے ، تو شیخ علّامہ زین الدین نے اپنے رسالہ رفع الاشتباہ میں جو کچھ فرمایا ہے اس سے مغالطہ نہ ہونا چاہئے کہ وہ ہمارے ائمہ کی صریح نقول کے مخالف ہے ، وہ محض اُس بحث کے سہارے پر ہے جو بدائع نے کی ہے اور ان کی(یعنی علامہ قاسم کی)پیروی محض بعض ناپختہ کار حنفی فقہاء نے کی ہے ، اور اسی پر ایك بے سروپا کتاب جو امام محمد سے منقول نصوص کے مخالف ہے لکھی ہے ، میں نے یہ تمام بحث ایك مقدمہ میں کی ہے ، اور اس میں مذہب کی تحقیق کی ہے(پھر فرمایا خلاصہ یہ کہ ابُو زید دبّوسی الیٰ اخر ماقدمنا عنہ اٰنفا پھر فرمایا)اور بدائع میں بھی یہ تصریح کی ہے کہ پاك انسان جب کُنویں میں غوطہ لگائے غسل کی نیت سے ، تو ہمارے اصحابِ ثلٰثہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمکے نزدیك پانی مستعمل ہوجائیگا ، اور فتاوٰی قاضیخان میں یہ تصریح موجود ہے کہ پانی میں بہ نیت غسل ہاتھ ڈالنا پانی کو فاسد کردیتا ہے ، ہمارے ائمہ ثلٰثہ کے نزدیک ، میں نے اس کی مکمل ایضاح وتحریر اپنے رسالہ زہرالروض میں کی ہے(ت)

اقول : ھو کلام طیب لخص فیہ مقاصد رسالتہ وخلصہ مما خلط بہ فی زھر الروض من تسویۃ الملقی والملاقی فی عدم الجواز الا(۱)حدیث نزح عشرین(۲)والتحقیق عندہ علی مذھبہ المعتمد لا نزح اصلا مالم یساو اویغلب لان الطہور لایطھر۔

فائدہ۶ : قال فی الدر ان المطلق اکثر من النصف جازالتطہیر بالکل والا لا وھذا یعم الملقی والملاقی ففی الفساقی یجوز التوضی مالم یعلم تساوی المستعمل علی ماحققہ فی البحر والنھر والمنح قلت لکن الشرنبلالی فی شرح الوھبانیۃ فرق بینہما فراجعہ متأملا [3] اھ۔

وذکر ش عند قولہ حققہ فی البحر استدلالہ علی ذلك باطلاقھم المفید للعموم وبقول البدائع وفتوٰی قارئ الھدایۃ المذکورۃ قال وقد استدل فی البحر بعبارات اخرلاتدل لہ کما یظھر للمتأمل لانھا فی الملقی والنزاع فی الملاقی کما اوضحناہ فیما علقناہ علیہ فلذا اقتصرنا علی ماذکرنا[4] اھ ورأیتنی کتبت فی جد                  

 



[1]               بحرالرائق کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۷۰

[2]      منحۃ الخالق علی البحر الرائق کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۷۲

[3]   درمختار باب المیاہ مجتبائی دہلی  ۱ / ۳۴

[4]   ردالمحتار  باب المیاہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۳۴

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن