دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 2 | فتاوی رضویہ جلد ۲

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۲

وثانیا :  شتان ما التعلق والتلاصق فالتعلق یشمل الدثار والتلاصق یختص بالشعار وھو الفرق بینہما فان قلت ھما ثوبان فیعد احدھما حاجزا للاٰخر عن التلاق ، بخلاف الماء فانہ شیئ واحد فلا یحجز بعضہ بعضا بل الکل ملاق ، اقول ذلك ماکنا نبغ فالماء کلہ واحد عندالانغماس ، فالکل ملاق بلاوسواس ،

فائدہ ٢ :  قال العلامۃ الشیخ حسن الشرنبلالی فی شرحہ علی الوھبانیۃ ردا علی البحر مانصہ وما ذکر من ان الاستعمال بالجزء الذی یلاقی جسدہ دون باقی الماء فیصیر ذلك الجزء مستہلکا فی کثیر فھو مردود لسریان الاستعمال فی الجمیع حکما ولیس کالغالب بصب القلیل من الماء فیہ[1] اھ

اقول : (۱)لفظ السریان وقع غیر موقعہ فانہ یوھم ان المستعمل اولا مالاقی ثم یسری الحکم الی بقیۃ اجزاء الماء بالتجاور وھو          

صحیح ہوگی اور استعمال منتفی نہ ہوگا۔

میں کہتا ہوں غوطہ سے نکلنے کے فوراً بعد جو پانی بدن سے بہتا ہو اگرتا ہے اس کا حال اس پانی جیسا ہے جو وضو اور غسل کے فوراً بعد بہتا ہوا گرتا ہے تو مستعمل وہی ہوگا جو اس کے بعد قطرات کی صورت میں ٹپکتا رہے اور یہ اجماع کے خلاف ہے۔ دوسرا ، تعلق اور تلاصق میں بہت فرق ہے ، تعلق اَستر کو شامل ہے اور تلاصق اوپر والے حصہ کے ساتھ مختص ہے ، اور یہی دونوں میں فرق ہے ، اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ یہ تو دو کپڑے ہیں تو ان میں سے ایك دوسرے کی ملاقات کیلئے رکاوٹ ہے ، اور پانی تو شے واحد ہے ، اس کا ایك حصہ دوسرے حصّہ کیلئے رکاوٹ نہیں بن سکتا ہے وہ تو سارے کا سارا ایك دوسرے سے ملا ہوا ہے ، میں کہتا ہوں یہ تو ہمارے حسبِ منشأ ہے ، جب انسان پانی میں غوطہ لگائے گا تو پانی شیئ واحد ہوگا اور بغیر رکاوٹ آپس میں ملے گا۔

فائدہ ۲ : علامہ شرنبلالی نے شرح وہبانیہ میں فرمایا بحر پر رد کرتے ہوئے ، نص یہ ہے ، اور یہ جو ذکر کیا ہے کہ استعمال اس جزء سے ہے جو بدن سے ملاہوا ہو نہ کہ باقی پانی سے ، تو وہ جزئئ کثیر اجزا میں مل کر ختم ہوجائیگا ، تو یہ مردود ہے کیونکہ حکماً تو استعمال تمام پانی میں سرایت کریگا ، اور یہ اس غالب پانی کی طرح نہیں جس میں تھوڑا سا پانی مل گیا ہو اھ۔

میں کہتا ہوںسریان “ کا لفظ بے موقع استعمال ہوا ہے اس سے یہ وہم پیدا ہوتا ہے کہ مستعمل اوّلا تو وہ ہے جو بدن سے ملاقی ہے پھر حکم بقیہ اجزاء کی

مردود صریحا بما تقدم ان العبرۃ للغلبۃ ولو سری لسری بالملقی کما توھم العلامۃ عبدالبر فیبطل الفرق ویعود الکلام علے مقصود بالنقض وھذا ھوالذی حمل البحر علی قصر الاستعمال علی مالاقی بل نقول انہ اذا انغمس فیہ وھو قلیل فقد استعمل کلہ معا لان جمیعہ شیئ واحد فلا قصر ولا سریان ولقد احسن العلامۃ الشامی رحمہ الله تعالیٰ اذقررہ بقولہ فی المنحۃ یعنی انہ لما انغمس اوادخل یدہ مثلا صار مستعملا لجمیع ذلك الماء حکما لان المستعمل حقیقۃ ھو مالاقے جسدہ بخلاف مااذا صب المستعمل فیہ فان المستعمل حقیقۃ وحکما ھو ذلك الملقی فلا وجہ للحکم علی الملقی فیہ بالاستعمال مالم یساوہ اویغلب علیہ اذلم یدخل فیہ جسدہ حتی یحکم علیہ بالاستعمال حکما ، یدل علیہ مافی الاسرار للدبوسی وقولھم فی مسألۃ البئر جحط لوانغمس بقصد الاغتسال للصلاۃ صار الماء مستعملا اتفاقا [2] اھ فھذا ھو التحقیق والله تعالی ولی التوفیق۔

فائدہ ۳ : سبق العلامۃ ابا الاخلاص      

طرف جائے گا کیونکہ یہ ایك دوسرے کے قریب ہیں ، اور یہ صریحا مردود ہے ، جیسا کہ گزرا کہ اعتبار غلبہ کو ہے اور اگر سرایت کرے گا تو ملقی میں کرے گا ، جیسا کہ علامہ عبدالبر کو وہم ہوا ہے تو فرق باطل ہوجائے گا اور کلام مقصود بالنقض کی طرف لوٹے گا ، اور یہی چیز ہے جس نے بحر کو اس پر مجبور کیا وہ استعمال کا حکم صرف اس پر لگائیں جو ملاقی ہو ، بلالکہ ہم کہتے ہیں جب کوئی شخص پانی میں غوطہ لگائے اور پانی کم ہو تو سب یك دم مستعمل ہوجائیگا کیونکہ وہ سارے کا سارا شیئ واحد ہے ، تو نہ قصر اور نہ سرایت ہے ، علّامہ شامی نے اس کو برقرار ر کھ کر اچھا کیا ، وہ منحہ میں فرماتے ہیں یعنی جب اس نے غوطہ لگایا یا مثلاً اس نے اپنا ہاتھ ڈبویا تو سارا پانی مستعمل ہوگیا حکما ، کیونکہ حقیقۃً مستعمل تو صرف وہی ہے جو بدن سے متصل ہو ، اور اگر مستعمل اس میں ڈالا گیا تو دوسرا حکم ہے ، کیونکہ حقیقۃً وحکماً مستعمل یہی ملقی ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ ملقی فیہ پر استعمال کا حکم لگایا جائے تا وقتیکہ وہ اس کے برابر نہ ہو یااس پر غالب نہ ہو کیونکہ اس کا جسم تو اس میں داخل نہیں ہوا کہ اس پر حکما استعمال کا حکم لگایا جائے ، اس پر دبوسی کی اسرار دلالت کرتی ہے اور ان کا مسئلۃ البئر جحط میں یہ کہنا کہ اگر کسی شخص نے کنویں میں اس نیت سے غوطہ لگایا کہ نماز کیلئے غسل کرے گا تو پانی اتفاقاً مستعمل ہوجائے گا اھ تو تحقیق یہی ہے اور اللہ  تعالیٰ توفیق دینے والا ہے۔

فائدہ ۳ : علامہ نے ابو الاخلاص سے پہلے فرق کو

فی تعبیر الفرق ھکذا بعض معاصری العلامۃ زین فاوردہ وردہ وھذا نصہ فی البحر اذا عرفت ھذا ظھر لك ضعف من یقول فی عصرنا ان الماء المستعمل اذا صب علی الماء المطلق وکان المطلق غالباً یجوز الوضوء بالکل واذا توضأ فی فسقیۃ صار الکل مستعملا اذلا معنی للفرق بین المسألتین وما قد یتوھم فی الفرق من ان فی الوضوء یشیع الاستعمال فی الجمیع بخلافہ فی الصب مدفوع بان الشیوع والاختلاط فی الصورتین سواء بل لقائل ان یقول القاء الغسالۃ من خارج اقوی تاثیرا من غیرہ لتعین المستعمل فیہ بالمعاینۃ والتشخیص وتشخص الانفصال [3] اھ وھذا الکلام ارتضاہ السیدان ط وش حتی قال ط بعد ذکرکلام الشرنبلالی ھذا التوھم قدذکرہ فی البحر واعرض[4] عنہ اھ۔ اماالمدقق العلائی فاستدرك علی ا لبحر بکلام الشرنبلالی فقال فراجعہ متاملا [5] اھ

اقول :  لقول القائل یشیع(۱)فی الجمیع ثلثۃ محامل وذلك لان الشیوع الامتزاج         

بیان کیا ، اسی طرح علّامہ زین کے بعض معاصرین نے فرق بیان کیا ، اور اس کو رد کیا ، اور یہ بحر میں ان کی عبارت ہے ، جب تم نے یہ جان لیا تو ہمارے بعض معاصرین کے اس قول کا ضعف ظاہر ہوگیا کہ مستعمل پانی جب مطلق پانی میں ڈالا جائے اور مطلق غالب ہو تو سارے پانی سے وضو جائز ہے اور جب چھوٹے حوض میں وضو کیا تو کل مستعمل ہوگیا ، کیونکہ دونوں مسئلوں میں فرق کی کوئی وجہ نہیں ، اور یہ فرق جو بیان کیا جاتا ہے کہ وضوء کی صورت میں استعمال تمام پانی میں عام ہوجاتا ہے اور ڈالنے میں یہ صورت نہیں ہوتی ، اس لئے ناقابلِ لحاظ ہے کہ شیوع اور اختلاط دونوں صورتوں میں برابر ہے ، بلکہ کہا جاسکتا ہے کہ دھوون کا باہر سے ڈالنا زیادہ مؤثر ہے ، کیونکہ اس میں مستعمل دیکھنے اور علیحدہ پہچان کرنے سے متعین ہوجاتا ہے اھاور اس کلام کو سیدان 'ط' اور 'ش' نے پسند کیا یہاں تك کہ 'ط' نے شرنبلالی کا کلام ذکر کرنے کے بعد فرمایا ، اس وہم کو بحر میں ذکر کیا اور اس سے اعراض کیا اھ اور مدقق علائی نے بحر پر شرنبلالی کے کلام سے استدراك کیا اور فرمایا پورے غور سے اس کی طرف مراجعت کریں اھ۔

مَیں کہتا ہوںیشیع فی الجمیع “ والے قول میں تین تاویلات ہوسکتی ہیں کیونکہ شیوع(۱)امتزاج بلا امتیاز ہو

 



[1]        منحۃ الخالق علی البحر الرائق کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۷۲

[2]            منحۃ الخالق علی البحر الرائق کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۷۲

[3]   بحرالرائق کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۷۴

[4]             طحطاوی علی الدر باب المیاہ  بیروت ۱ / ۱۰۴

[5]               الدرالمختار علی حاشیۃ الطحطاوی باب المیاہ بیروت ۱ / ۱۰۴

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن