30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
فرمایا ہاں ، میں نے کہا اسی طرح اگر کنویں میں استنجا کیا؟ فرمایا ہاں ، میں نے پوچھا اور کنویں کی بابت کیا فرماتے ہیں؟ فرمایا کنویں کا سارا پانی نکالنا چاہئے ، الا ّیہ کہ نکالتے نکالتے تھك جائیں ، میں نے پوچھا کیا اُس شخص کیلئے یہ وضو کافی ہوگا؟ فرمایا نہیں ، اس پر وہ خاموش ہوگئے اور اپنے شیوخ میں سے کسی کی طرف اس کو منسوب نہ کیا ، اور متفق علیہ مسائل میں ان کا یہی طریقہ تھا جیسا کہ کتاب کے شروع میں ذکر کیا اھ(ت)
میں کہتا ہوں فرع اخیر ملاقی میں ہے اور وہ بلاشبہ صحیح ہے اور یہ تمسك کے قابل اور واضح تصریح ہے اور پہلی فرع ملقی میں ہے ، اور سوائے اس کے چارہ کار نہیں کہ دو میں سے ایك ضعیف پر بِنا کرنا چاہئے ، اور اصل سے مراد وہ مبسوط نہیں جو چھ ظاہر کتب میں سے ایك ہے بلکہ کتب نادرہ سے ہے ، تو جو اس میں مذکور ہے وہ ہمارے ائمہ کے صحیح مختار مفتی بہ سے کیسے معارض ہوسکتا ہے وباللہ التوفیق ، پھر فرمایا ، عصام الدین نے شرح ہدایہ میں ، جنب کے کنویں میں غوطہ لگانے کا مسئلہ ذکر کرنے کے بعد فرمایا یہ اس پر مبنی ہے کہ پانی کے تمام اجزاء جو ایك جگہ ہیں وہ حکم استعمال میں بمنزلہ شیئ واحد کے ہیں ، کیونکہ وہ عرفاً تمام ہی کی طرف منسوب ہوتا ہے بلالکہ لغت میں بھی ایسا ہے ، کیونکہ اہلِ عرف اور اہلِ لغت یہ لفظ سن کر یہ نہیں سمجھتے ہیں کہ کچھ پانی تو مستعمل ہے اور کچھ اس میں ملا ہوا ہے ، یہی وجہ ہے کہ جن حضرات کے نزدیك مستعمل پانی طاہر غیر طہور ہے جب کسی دوسرے
طہور اذا وقع فی ماء اٰخر لایفسدہ حتی یغلب علیہ بھذا قطع فی الاسرار جعلہ فی التحفۃ اصح ولو صب ماء کثیر علی العضو یصیر الکل مستعملا عندھم مع ان الملاقی للبشرۃ مغلوب بناء علی ان الکل واحد فی حکم الاستعمال وقد اشیر الی ھذا المعنی فی الاسرار [1]
اقول : ھذا لعمری من الحسن بمکان ، تنشط بہ الاٰذان ، وتبتھج بہ النفوس ، ولا عطر بعد عروس ، وقد وفقنی المولی ، سبحٰنہ وتعالٰی ، لمعناہ فیما مضی ، واتقنت بیانہ ، وشیدت ارکانہ ، وبہ ظھر الفرق بین الملاقی والملقی ، بحیث لایعتری وھم ولاشك یبقی ، (۱)والعجب من الشیخ مشی علی التسویۃ بینھما محتجابا لتعلیلین ثم نقضہ بنقل تصحیح الصحیح ، عن التحفۃ والتوشیح ، ثم بعد اسطر عاد الیہ وجعل فرعی النزح والانتضاح اصرح صریح ، ثم نقضہ بنقل الاصل الاصیل ، عن ذخیرۃ الامام الجلیل ، ثم لم یلبث ان عاد الیہ بنقل فرع الاصل ، ثم نقضہ بنقل کلام العصام متصلا بہ من غیر فصل ، وبہ ختم وانما العبرۃ للخواتیم ، ختم الله تعالی لنا علی الدین القویم ، والصراط
پانی میں گر جائے تو اس کو اس وقت تك فاسد نہ کرے گا جب تك اس پر غالب نہ ہوجائے۔ اسرار میں اس پر قطعی حکم لگایا اور تحفہ میں اس کو اصح قرار دیا ہے اور اگر کسی عضو پر بہت سا پانی ڈالا تو ان کے نزدیك سارا پانی مستعمل ہوجائے گا ، حالانکہ جو پانی جلد سے متصل ہے وہ مغلوب ہے کیونکہ حکمِ استعمال میں سب ایك ہی ہے اور اسی معنی کی طرف اسرار میں اشارہ کیا ہے۔
میں کہتا ہوں یہ بحث ذہنوں کو جِلا بخشنے والی ہے ، اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے اس کی تقریر کی ہے ، اس سے ملقی اور ملاقی کے درمیان فرق ظاہر ہوگیا اور شك باقی نہ رہا ، اور شیخ پر تعجب ہے کہ انہوں نے ان دونوں کو ایك قرار دیا ہے اور دو تعلیلوں سے استدلال کیا ہے پھر ایك صحیح کی تصحیح نقل کرکے اس پر نقض وارد کیا ، یہ تحفہ اور توشیح کی نقول ہیں ، پھر چند سطور کے بعد اس بحث کا اعادہ کیا اور نزح اور انتضاح کی دونوں فروع کو بہت صریح قرار دیا ، پھر اس پر ذخیرہ سے نقض وارد کیا ، پھر اصل کی فرع کو نقل کیا ، پھر اس پر عصام کی نقل سے نقض وارد کیا اور اس پر کلام کو ختم کیا ....... اللہ تعالیٰ ہمارا خاتمہ دینِ قویم صراطِ مستقیم اور تمام حسنات
المستقیم ، وبکل حسنی ، وعلی نبینا الکریم والہ الکرام الصّلاۃ الزھرا والسلام الاسنی ، والحمدلله رب العٰلمین۔
الفصل الرابع فی فوائد شتی و تحقیق حکم الوضوء فی الحوض الصغیر
الحمدلله فرغنا عن الرسائل الثلاث بل الکتب الخمسۃ ھذہ والبحر والبدائع واتینا علی جمیع مافیھا والاٰن نذکر مابقی من الفوائد تکمیلا للعوائد وبالله التوفیق۔
فائدہ(۱) : قال المحقق علی المقدسی رحمہ الله تعالیٰ فی شرح نظم الکنز ردا علی البحر مانصہ واما تاویل الکلام بان المراد بصیر ورتہ مستعملا صیرورۃ مالاقی اعضائہ منہ مستعملا فھذا بعید جدا اذلا یحتاج الی التنصیص علی ذلك اصلا[2] اھ نقلہ فی منحۃ الخالق من الماء المستعمل واقرہ قلت قدمنا ثمانیۃ ردود علیہ وھذا تاسع(۱) وازیدك عاشرا فاقول : اذا انغمس احد فی الماء ثم خرج ینقسم الماء الی خمسۃ اقسام قسم یبقی فی الحوض ولا ینفصل عن الماء بانفصال البدن والثانی یخرج مع البدن وینحدر عنہ بلامکث والثالث یمکث ویذھب بالتقاطر والرابع بلل یذھب
پر کرے ، اور ہمارے نبی کریم ان کی آل مکرم پر صلاۃ وسلام نازل فرمائے آمین والحمدلله رب العالمین۔
چوتھی فصل میں مختلف فوائد اور چھوٹے اور حوض سے وضو کا حکم
الحمدلله کہ ہم تینوں رسائل بلکہ ان پانچوں کتب اور بحر وبدائع سے فارغ ہوگئے ، اور ان میں جو کچھ تھا وہ بیان کردیا اور اب باقیماندہ فوائد تکمیل بحث کیلئے ذکر کرتے ہیں۔
فائدہ ۱ : محقق علی المقدسی نے کنز کی نظم کی شرح میں بحر پر رد کرتے ہوتے فرمایا ، ان کی عبارت یہ ہے اور کلام کی یہ تاویل کرنا کہ پانی کے مستعمل ہونے سے مراد یہ ہے کہ جو پانی اس کے اعضاء سے ملا ہے وہ مستعمل ہوجائے گا ، تو یہ بہت بعید ہے کہ یہ اس پر تنصیص کا قطعاً محتاج نہیں ، اس کو منحۃ الخالق میں نقل کیا ہے مستعمل پانی کی بحث میں ، اور اس کو برقرار رکھا ہے۔
میں کہتا ہوں ہم نے اس پر آٹھ رد کئے ہیں اور یہ نواں ہے اور اب دسویں کا اضافہ کرتے ہیں ، اور وہ یہ ہے کہ جو شخص پانی میں غوطہ لگائے اور پھر نکلے ، تو پانی کی اس صورت میں پانچ قسمیں ہیں ، ایك تو وہ جو حوض ہی میں رہتا ہے اور بدن سے جُدا ہونے کی وجہ سے پانی سے جُدا نہیں ہوتا ہے ، اور دُوسرا بدن کے ساتھ نکلتا ہے اور بلا ٹھہرے
بالنشف والخامس نداوۃ تبقی بعد النشف ایضا ولا تذھب الا بالجفاف بعمل الشمس و الھواء ولا شك انھا ایضا اجزاء مائیۃ ولا تداخل فی الاجسام بل لا تلاصق فی الاجزاء کما تقدم فکان کل قسم فوق الاخر منفصلا عنہ وکان تحت الکل ذاك الندی فھو الذی لاقی البدن وھو لایقبل الانفصال ولا استعمال الابہ فلا استعمال تلك عشرۃ کاملۃ ۔
فان قلت : الامر کما وصفتم ولکنا نعدی الحکم الی ماعدا الاول لتعلقہ بالبدن ولذا انتقل بانتقالہ اقول اولا لانسلم انہ لتعلقہ بہ والا لکان لہ استمساك علیہ کالمتقاطر بل اندفع بدفعہ وانحدر بطبعہ الا تری ان المنغمس ان اندفع بعنف قوی صحبہ ماء کثیر او برفق فقلیل وان استدرج فی الخروج بحیث لایتحرك الماء حتی الامکان لم یکد یخرج معہ الا مایزول بالتقاطر مع ان اللقاء کان واحدا فعلم انہ لحرکۃ الدفع یختلف باختلافھا۔
فان قلت : اذن لاریب فی تعلق المتقاطر فنحکم علیہ بالاستعمال وھو لاشك قابل الانفصال فیصح التاویل ولا ینتفی الاستعمال ۔
اس سے نیچے آتا ہے ، اور تیسرا ٹھہرتا ہے اور ٹپك کر ختم ہوجاتا ہے ، اور چوتھا وہ تری ہے جو کپڑے کے ذریعے جذب کرنے کے بعد ختم ہوجاتی ہے۔ پانچواں وہ تری جو کپڑے کے ذریعے جذب کرنے کے بعد بھی باقی رہتی ہے اور آفتاب یا ہوا سے خشك ہوجانے کے بعد ہی ختم ہوتی ہے اور بلاشبہ یہ بھی پانی کے اجزاء ہیں اور یہ اجسام میں تداخل نہیں بلالکہ “ تلاصق فی الاجزاء “ بھی نہیں جیسا کہ گزرا ، تو ہر قسم دوسری سے اوپر ہوئی اس سے جدا ہوئی اور ہر ایك کے نیچے وہ تری ہوتی ہے تو یہ وہ ہے جو بدن سے ملاقی ہے اور یہ انفصال کو قبول نہیں کرتا ہے اور استعمال بلا انفصال نہیں ہوتا ہے ، تو مستعمل نہ ہوا ، تو یہ دس مکمل ہوگئے۔ اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ یہ درست ہے لیکن ہم حکم اوّل کے علاوہ دوسروں پر لگاتے ہیں کیونکہ اس کا تعلق بدن سے ہے اور اسی لئے اس کے منتقل ہونے سے وہ منتقل ہوجاتا ہے۔ میں کہتا ہوں اولاً ہم یہ تسلیم نہیں کرتے کہ یہ اس کے تعلق کی وجہ سے ہے ورنہ وہ اس پر رکتا ، جیسا کہ ٹپکنے والا ، بلالکہ اس کے دفع کرنے سے مندفع ہوگیا اور بالطبع منحدر ہوگیا مثلاً پانی میں غوطہ کھانیوالا اگر قوت سے نکلے تو اس کے ساتھ بہت پانی آئے گا اور اگر آہستگی سے ہو تو کم پانی آئیگا اور اگر اتنا آہستہ نکلے کہ حتی الامکان پانی میں حرکت نہ پیدا ہو تو اس کے ساتھ صرف اتنا پانی آئیگا جو ٹپك کر زائل ہوجائے حالانکہ ملاقاۃ ایك ہی ہے ، تو معلوم ہوا کہ دفع کی حرکت میں اس سے اختلاف ہوتا ہے۔ اگر یہ اعتراض ہو کہ اس صورت میں ٹپکنے والے کے تعلق میں کوئی شك نہیں تو ہم اس پر مستعمل ہونے کا حکم لگائیں گے اور بلاشبہ وقابلِ انفصال ہے تو تاویل
اقول : شأن ما انحدر بلامکث عند الخروج بعد الانغماس شأن مامر وانحدر فورا من غسالۃ الوضوء والغسل فلا یستعمل الا مابقی بعدہ متساقطا بالتقاطر وھو خلاف الاجماع۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع