30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
قلت : وھذا ھو ثانی التصحیحین الموعود بیانھما(۱)فاعترف الشیخ بالحق ، وذھب تسویۃ الملقی بالملاقی وزھق ، ثم نقل فرع الخانیۃ ومثلہ عن شرح القدوری لمختصر الکرخی فی نزح عشرین دلوا اذا القی الوضوء فی البئر قال فھذا اصرح شیئ فی اتفاق الائمۃ الثلثۃ علٰی تاثیر الماء المستعمل فی الماء الطھور وان کان اقل منہ وذکر عن شرح الجامع الصغیر لقاضی خان انتضاح الغسالۃ فی الاناء اذا قل لایفسد الماء وتکلموا فی القلیل عن محمد ماکان مثل رؤس الابر قلیل وعن الکرخی ان کان یستبین مواقع القطر فی الماء فھو کثیر وان کان لایستبین کالطل فقلیل قال وھذا رحمك الله اصرح مما تقدم وقد حکی ھذا فی الفوائد الظہیریۃ وعلیہ مشی القدوری وحکی عن ابی سلیمن انہ سئل عن ماء الجنابۃ اذا وقع وقوعا یستبین وتری عین القطرات ظاھرۃ قال انہ لیس بشیئ [1] وفی فتاوی قاضیخان خلاف ھذا وفی خزانۃ المفتین جنب اغتسل
بے وضو اپنا ایك ناخن ہی کیوں نہ ڈالے۔ پھر خاتمہ اس امر کے بیان میں ہے کہ طاہرپانی طہور پانی سے جب ملے گا تو اعتبار غلبہ کو ہوگا ، اور اس کی تصحیح توشیح اور تحفہ سے نقل کی اور اسی سے نقل کیا کہ یہ مذہب مختار ہے۔
میں کہتا ہوں یہ دوسری تصحیح ہے جن دو کا ہم نے وعدہ کیا تھا ، تو شیخ نے حق کا اعتراف کرلیا ، اور ملقی اور ملاقی کی برابری ختم ہوئی ، پھر خانیہ کی فرع نقل کی اور اسی قسم کی شرح قدوری مختصر کرخی کی فرع نقل کی۔ یہ بیس ڈول کھینچنے سے متعلق ہے یہ اس صورت میں ہے جبکہ وضو کا پانی کنویں میں ڈالا ہو ، فرمایا پاك پانی میں مستعمل پانی کے اثر انداز ہونے کی ائمہ ثلثہ کے نزدیك یہ واضح مثال ہے ، اگرچہ وہ اُس پانی سے کم ہو ، اور قاضی خان کی شرح جامع صغیر سے یہ نقل کیا کہ اگر دھوون کے کچھ قطرات برتن میں گر جائیں اور کم ہوں تو پانی کو فاسد نہ کریں گے ، اور قلیل میں کلام کیا ہے ، اس میں محمد سے منقول ہے کہ جو سوئی کے ناکوں کے برابر ہو وہ قلیل ہے اور کرخی سے یہ منقول ہے کہ پانی کے قطرے اگر پانی میں ظاہر ہوں تو یہ کثیر ہے اور اگر ظاہر نہ ہوں جیسے شبنم کے قطرے ہوتے ہیں تو یہ قلیل ہے فرمایا یہ گزشتہ مثال سے بھی زائد صریح ہے ، یہ فوائد ظہیریہ میں مذکور ہے ، اسی پر قدوری چلے ہیں ، اور ابو سلیمان سے کسی نے جنابت کے پانی کی بابت دریافت کیا کہ اگر اس کے قطرے پانی میں پڑ جائیں اور واضح نظر آئیں ، فرمایا اس میں کوئی حرج نہیں ، فتاوٰی قاضیخان
فانتضح من غسلہ فی انائہ لم یفسد الماء اما اذا کان یسیل فیہ سیلانا افسدہ [2] قال والتحقیق ھنا ان المسألۃ مبنیۃ علی اصل ذکرہ ائمتنا فی کتاب الایمان ونقلوہ الی الرضاع قال فی الذخیرۃ حلف لایشرب لبنا فصب الماء فی اللبن فالاصل فی ھذہ المسألۃ واجناسھا ان الحالف اذا عقد یمینہ علی مائع فاختلط بمائع اخر خلاف جنسہ ان کانت الغلبۃ للمحلوف علیہ [3] (وسقط بقیۃ الکلام من نسختی زھر الروض)
اقول : (۱)سبحٰن الله یذکر الشیخ رحمہ الله تعالٰی فی اول الکلام ان الصحیح والمذھب المختار ھو اعتبار الغلبۃ وقد نص فی شرحہ للوھبانیۃ انہ الصحیح عن ائمتنا الثلثۃ رضی الله تعالیٰ عنہم وان علیہ الفتوی ثم یعود یحتج بفرعی النزح و الانتضاح ویقول ذاك اصرح شیئ فی اتفاق الائمۃ الثلثۃ وھذا اصرح منہ وای مساغ بقی لھما بعدما تبین الحق الصحیح المذہب المختار المفتی بہ المطبق علیہ من ائمتنا الثلثۃ رضی الله تعالی عنھم وما فتح(۲)بابہ من بیان المبنی وھو فرع الحلف فھو اصرح شیئ فی ان
میں اس کے برعکس ہےاور خزانۃ المفتین میں ہے کہ ایك ناپاك آدمی نے غسل کیا اور اس کے چھینٹے برتن میں گرے تو پانی فاسد نہ ہوگا اور اگر اس میں بہنے لگا تو پانی فاسد ہوجائے گا ، فرمایا دراصل یہ مسئلہ ایك اور اصل پر مبنی ہے جس کو ہمارے ائمہ ثلٰثہ نے کتاب الایمان میں ذکر کیا ہے اور اس کو رضاع کے بیان میں نقل کیا ، ذخیرہ میں فرمایا کہ کسی شخص نے حلف اٹھایا کہ وہ دودھ نہیں پئے گا تو اس نے پانی دُودھ میں ملایا ، تو اس مسئلہ میں اور اس کے نظائر میں اصل یہ ہے کہ حلف اٹھانے والے نے جب کسی سیال چیز پر حلف اٹھایا اور وہ کسی اور مائع سے مل گیا جو اس کی جنس سے نہ ہو تو اگر محلوف علیہ غالب ہے(اور باقی کلام میرے زہرالروض کے نسخہ سے ساقط ہے)(ت)
میں کہتا ہوں سبحان اللہ شیخ کلام کی ابتداء میں ذکر کرتے ہیں کہ صحیح اور مذہب مختار غلبہ کا اعتبار ہی ہے اور شرح وہبانیہ میں اس پر نص ہے کہ ہمارے ائمہ ثلٰثہ سے یہی صحیح ہے ، اور اسی پر فتوٰی ہے پھر انہوں نے نزح اور انتضاح کی دونوں فرعوں پر کلام کیا ، اور فرمایا کہ یہ ائمہ ثلثۃ کے اتفاق میں صریح چیز ہے اور یہ اس سے زائد صریح ہے اور مذہب حق وصحیح ، اور مذہب مختار مفتی بہ اور ائمہ ثلثہ(حنفی مذہب کے)کا متفق علیہ مذہب معلوم ہوجانے کے بعد اُن دونوں کیلئے کیا وجہ جواز رہ گئی ہے! اور بیان مبنی کا جو دروازہ کھولا ہے اور وہ حلف کی فرع ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ
المدار علی الغلبۃ فان کان اقرہ فی اٰخر کلامہ الذاھب من نسختی فھو کرعلی مااحتج بہ بالنقض والا فاعجب واعجب وسیمکث الشیخ غیر بعید ویعود الی الحق کما سیأتی بتوفیقہ تعالی فلولا انہ اورد ھذا الکلام واحتج بھذین الفرعین ھنا وذینك التعلیلین ثمہ لکان کل کلامہ صحیحا سدیدا ولکن الله یفعل مایرید۔ ثمّ کتب تتمۃ قال فیھا ان من ادل الدلیل علی انہ لایجوز التوضی فی ھذا الحوض عند واحد من علمائنا رحمھم الله تعالٰی مافی کتاب الاصل لمحمد رضی الله تعالٰی عنہ روایۃ الامام ابی سلیمن الجوزجانی رحمۃ الله تعالٰی علیہ عنہ فی باب الوضوء والغسل قلت ارأیت جنبا اغتسل فانتضح من غسلہ شیئ فی انائہ ھل یفسد علیہ الماء قال لا قلت لم قال لان ھذا مالا یستطاع الا متناع منہ قلت ارأیت ان افاض الماء علی رأسہ اوجسدہ اوغسل فرجہ فجعل ذلك الماء کلہ یقطر فی الاناء قال ھذا یفسد الماء ولا یجزئہ ان یتوضأ و لا یغتسل بہ[4] قال وقال فی باب البئر وما ینجسھا قلت ارأیت رجلا طاھرا وقع فی بئر فاغتسل فیھا قال افسد ماء البئر کلہ قلت وکذلك لو توضأ فیھا قال نعم قلت
دارومدار غلبہ کو ہے ، اگرا نہو ں نے اس کو برقرار رکھا ہے اپنے اس کلام میں جو میرے نسخہ سے ساقط ہے تو یہ اسی طرف رجوع ہے جس پر نقض سے استدلال کیا ہے ، ورنہ بہت ہی تعجب خیز بات ہے ، اور عنقریب آجائے گا کہ شیخ نے حق کی طرف رجوع کیا بتوفیق تعالیٰ ، اگر وہ یہ کلام یہاں نہ لاتے اور ان دو فرعوں سے استدلال نہ کرتے اور وہاں دو تعلیلیں بیان نہ کرتے تو کل کلام صحیح ہوتا ، لیکن اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ پھر انہوں نے ایك تتمہ لکھا اور فرمایا کہ پھر اس پر سب سے بڑی دلیل اس پر کہ ہمارے کسی امام کے نزدیك اس حوض سے وضو جائز نہیں۔ امام محمد کی اصل میں وار دشدہ روایت ہے جو اما ابو سلیمان الجوزجانی کی روایت ہے اور باب الوضوء وباب الغسل میں مذکور ہے ، روایت یہ ہے کہ میں نے کہا اگر ایك جنب نے غسل کیا اور اس کے چھینٹے ایك برتن میں گرے تو کیا پانی خراب ہوگیا ، فرمایا نہیں ، میں نے کہا کیوں؟ فرمایا یہ ایسی چیز ہے جس سے بچنا محال ہے ، میں نے پوچھا اگر جنُب نے اپنے سر یا جسم پر پانی ڈالا یا اپنی شرمگاہ دھوئی اور یہ پانی برتن میں جمع ہوتا رہا فرمایا اس سے پانی فاسد ہوجائیگا ، نہ اس سے وضو جائز ہوگا نہ غسل ، فرمایا انہوں نے کنویں اور اس کی نجاستوں کے باب میں فرمایا ، میں نے پُوچھا اگر ایك پاك شخص کنویں کے پانی میں گر گیا اور اس میں غسل کیا ، فرمایا کل پانی خراب ہوجائیگا ، میں کہتا ہوں یہی حکم کنویں میں وضو کا ہے؟
کذلك لو استنجی فیہا قال نعم قلت فما حال البئر قال علیھم ان ینزحوا ماء البئر کلہ الا ان یغلبھم الماء قلت ارأیت الرجل ھل یجزئہ وضوئہ ذلك قال لا [5] وسکت علیہ ولم یعزہ لاحد من شیخیہ وھذا شأنہ فی المتفق علیہ کما صرح بہ اول الکتاب [6] اھ
اقول : الفرع الاخیر فی الملاقی وھو لاشك صحیح ، والتمسك بہ نجیح ، وھو اصرح تصریح ، اما الاول(۱)ففی الملقی ولا محید من ابتنائہ علی احد ضعفین ولیس الاصل ھذا کتاب المبسوط احد الکتب الستۃ الظاھرۃ بل من الکتب النادرۃ فکیف یعارض بہ مذھب ائمتنا جمیعا الصحیح المختار المفتی بہ وبالله التوفیق ثم قال رحمہ الله تعالٰی ونقل عصام الدین فی شرح الھدایۃ بعد الکلام علی مسألۃ انغماس الجنب فی البئر ھذا مبنی علی ان اجزاء ماء الذی فی محل واحد بمنزلۃ شیئ واحد فی حکم الاستعمال لانہ ینسب الی الجمیع عرفا بل لغۃ ایضا اذ لا تذھب افھام اھل العرف واللغۃ الی ان المستعمل بعض ھذا الماء والباقی ممتزج بہ الا تری ان الماء المستعمل عند من یجعلہ طاھرا غیر
[1] رسالہ ابن الشحنۃ
[2] بحرالرائق کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۷۱
[3] رسالہ ابن شحنۃ
[4] کتاب الاصل المعروف بہ المبسوط امام محمد باب الوضوء والغسل من الجنابۃ ادارۃ القرآن کراچی ۱ / ۲۴
[5] کتاب الاصل المعروف بہ المبسوط امام محمد رجل طاہر وقع فی البئر ادارۃ القرآن کراچی ۱ / ۸۳
[6] رسالہ ابن شحنۃ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع