30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
چھٹی فرع جو چھوٹے حوض سے متعلق ہے جس میں ایك طرف سے پانی داخل ہو کر دوسری طرف سے نکل جاتا ہو کیونکہ ان میں سے ہر ایك میں اس امر کا احتمال ہے کہ اس میں وضو کرنا دوسرے معنی کے اعتبار سے ہو ، یعنی اعضاء کو ڈبو کر ، اور تم جان چکے ہو کہ یہی معنی ظرفیت کے زیادہ قریب ہیں۔ اور خانیہ میں فرمایا کہ ایك بڑا حوض ہے جس میں نجاست گر گئی اب اگر نجاست مرئیہ ہے تو اس سے نہ وضو جائز ہے نہ غسل ، اُس جگہ سے جہاں نجاست گری ہے بلکہ وہ نجاست گرنے کی جگہ سے ایك چھوٹے حوض کے فاصلہ کی مقدار میں دُور ہو جائے ، اور اگر وہ نجاست غیر مرئیہ ہے تو ہمارے مشائخ اور بلخ کے مشائخ نے فرمایا جہاں نجاست گری ہے وہاں سے بھی وضو کرنا جائز ہے اھتو ظاہر ہے کہ یہاں دوسرے معنی مراد ہیں کیونکہ یہ تو ہو نہیں سکتا کہ آدمی حوضِ کے باہر اس طرح وضو کرے کہ اس کا دھوون حوض میں خاص اس جگہ کرے جہاں نجاست گری تھی ، اور پھر اس صورت میں مرئیہ اور غیر مرئیہ کے درمیان فرق کی کوئی وجہ نہیں ، اور یہ جیسا کہ آپ دیکھ رہے ہیں چھٹی فرع کو شامل ہے ، کیونکہ جب اس میں جانے والا پانی ٹھہرا نہیں ، تویہ جاری پانی کے حکم میں ہوگیا اور جاری پانی اعضاء کے ڈبونے سے متاثر نہیں ہوتا ہے ،
عـــہ وحمل الوضوء والاغتسال علی الاغتراف وفی علی من بعید یاباہ الذوق السلیم اھ منہ م)
اور وضو اور غسل کو چُلّو سے لینے پر محمول کرنا اور “ فی “ کو “ من “ کے معنی میں کرنا بعید ہے ، ذوقِ سلیم اس سے انکار کرتا ہے اھ(ت)
المذکور فی الخانیۃ لزیادۃ لفظ المستعمل ولولم یزدہ لرجع الی ماذکرنا انہ اذالم یستقر الماء فیہ کان جاریا وکذا تعلیل الحصیری وقد(۱)علمتم ماافادہ شیخکم المحقق علی الاطلاق فی فرع فی الخانیۃ انہ بناء علی کون المستعمل نجسا وکذا کثیر من اشباہ ھذا فاما علی المختار من روایۃ انہ طاھر غیر طھور فلا فلتحفظ لیفرع علیھا ولا یفتی بمثل ھذہ الفروع [1] اھ فاذا کان ھذا فی الفروع فما بالك بالتعلیلات۔
وانااقول : احالۃ الخانیۃ علی استقرار المستعمل یحتمل البناء علی احد ضعیفین نجاسۃ المستعمل اوخروج الماء عن الطھوریۃ بوقوع المستعمل وان قل وھو المتعین فی کلام الحصیری وکلاھما خلاف الصحیح المعتمد بتصریح اجلۃ الاکابر حتی الشیخ نفسہ فی ھذہ الرسالۃ نفسھا کما سیأتی ان شاء الله تعالی فھھنا افسد الشیخ علینا مااردنا حمل کلامہ علیہ من ان المراد الوضوء بالغمس اما الفروع
اور اگر وہ ٹھہر کر تھوڑی دیر میں خارج ہوتا ہے تو وہ ٹھہرا ہوا ہے ، تو حوض کے چھوٹا ہونے کی صورت میں اس کو مضر ہوگا ، تو فروع میں سے کوئی بھی ان کے دعویٰ کے حق میں مفید نہیں ہے ہاں یہ فروع ہمارے دعویٰ میں صریح ہیں کہ کل ملاقی مستعمل ہوجائے گا اور جو شیخ کی مراد ہے اس کی طرف خانیہ کی چھٹی فرع کی تعلیل میں اشارہ ہے کیونکہ انہوں نے مستعمل کے لفظ کا اضافہ کیا ہے اور اگر وہ یہ لفظ نہ بڑھاتے تو اس کا مفہوم بھی وہی نکلتا کہ جب پانی اس میں ٹھہرا نہیں تو جاری ہے اور یہی حال حصیری کی تعلیل کا ہے ، اور آپ جان چکے ہیں ، خانیہ کی فرع میں جو تمہارے شیخ محقق علی الاطلاق نے فرمایا ہے وہ مستعمل پانی کے نجس ہونے پر مبنی ہے اور اسی طرح اس کے بہت سے نظائر کا حال ہے اور اگر مختار روایت لی جائے جس میں اس پانی کو طاہر غیر طہور قرار دیا گیا ہے تو ایسا نہ ہوگا ، اس کو یاد رکھا جائے اور اسی پر تفریعات کی جائیں اور ان جیسی فروع پر فتوٰی نہ دیا جائے اھ جب فرع کا یہ حال ہے تو تعلیلات کا کیا حال ہوگا!
میں کہتا ہوں خانیہ کا مستعمل پانی کے استقرار پر محوّل کرنا دو میں سے کسی ایك ضعیف چیز پر مبنی ہے یا تو مستعمل پانی کی نجاست یا پانی کا طہوریت سے خارج ہونا مستعمل پانی کے مل جانے کی وجہ سے خواہ وہ کتنا ہی کم ہو ، اور حصیری کے کلام میں بھی یہی متعین ہے ، اور اکابر کی تصحیح کے مطابق یہ دونوں صحیح معتمد کے خلاف ہیں ، یہاں تك کہ شیخ نے خود بھی اسی رسالہ میں اس کی تصریح کی ہے جیسا کہ عنقریب آئے گا اِن شاء الله تعالیٰ ، اس طرح ہم نے شیخ کے کلام کا جو حل تلاش کیا تھا
فلیس الاولی بناء ان نعمد الی کلمات الائمۃ فنحملھا علی محمل ضعیف غیر مقبول مع صحۃ الصحیح وبالله التوفیق۔
ثم عقد رحمہ الله تعالی فصلا فی تعریف الماء المستعل وما یصیر بہ مستعملا ومالا وذکر فیہ ماقدمنا عن القدوری عن الجرجانی وعن مبسوط شمس الائمۃ السرخسی من ان سقوط حکم الاستعمال عند محمد فی من دخل البئر للدلولاجل الضرورۃ وکذا ادخال الجنب یدہ فی الاناء(ای للاغتراف عند عدم مایغترف بہ کما قدمنا)وطالب الدلو رجلہ فی البئر ولو ادخل رجلہ فی الاناء اورأسہ صار مستعملا لعدم الحاجۃ قال فیالیت شعری ماجواب التمسك بھذہ المسألۃ(ای مسألۃ من دخل البئر للدلو لم یستعمل عند محمد)عن کلام ھؤلاء الائمۃ الاساطین ثم ذکر ماقدمنا عن الفوائد الظھیریۃ عن شیخ الاسلام خواھر زادہ عن محمد قال وھذا نقل صریح عن الامام الثالث نقل مثل خواھر زادہ ثم ذکر کلام الکافی المقدم وانہ حکی کلام القدوری ولم یتعقبہ قال فظھرلك بھذا ان ادخال الید فی الحوض الصغیر بقصد التوضی فیہ سالب عن الماء وصف الطھوریۃ لارتفاع الحدث والتقرب بادخال الید ونزعھا باتفاق علمائنا الاربعۃ
وہ بھی درست نہ ہوسکا ، یعنی یہ کہ وضو سے مراد اعضاء کا ڈبونا ہے ، اور جہاں تك فروع کاتعلق ہے تو ہم ایسا نہیں کرسکتے کہ ائمہ کے کلمات کو ضعیف محمل پر محمول کریں حالانکہ صحیح بھی موجود ہو ، وبالله التوفیق۔
پھر انہوں نے مستعمل پانی کی تعریف میں ایك فصل قائم کی ، اس میں یہ بتایا کہ کب پانی مستعمل ہوتا ہے اور کب نہیں ، اور انہوں نے اس سلسلہ میں قدوری ، جرجانی اور شمس الائمہ سرخسی کی مبسوط سے عبارات نقل کیں ، اور بتایا کہ محمد کے نزدیك جو شخص کُنویں سے ڈول نکالنے کیلئے داخل ہو اس سے پانی کا مستعمل نہ ہونا ضرورت کی وجہ سے ہے ، اور اسی طرح جُنب شخص کا چھوٹا برتن نہ ہونے کی صورت میں ٹب میں ہاتھ کو داخل کرنے کا معاملہ ہے ، اسی طرح کوئی شخص ڈول نکالنے کیلئے کنویں میں اپنا پیر ڈالے تو اس کا حکم وہی ہے ، اگر یہ شخص اپنا پیر برتن ڈال دے یا سر ڈال دے تو پانی مستعمل ہوجائے گا کہ حاجت منعدم ہے ، فرمایا معلوم نہیں جو اس مسئلہ سے استدلال کرتے ہیں ان کا جواب کیا ہوگا(یعنی یہ مسئلہ کہ محمد کے نزدیك کنویں سے ڈول نکالنے سے پانی مستعمل نہ ہوگا)ان ائمہ کے کلام کا! پھر انہوں نے وہ ذکر کیا جو ہم فوائد ظہیریہ سے شیخ الاسلام خواہر زادہ سے محمد سے روایت کو نقل کیا ، فرمایا یہ صریح نقل ہے تیسرے امام سے اس کو خواہر زادہ جیسے شخص نے نقل کیا ، پھر کافی کا گزشتہ کلام نقل کیا اور قدوری کا کلام نقل کیا مگر اس کا تعاقب نہ کیا ، فرمایا اس سے ظاہر ہوا کہ
(یرید الائمۃ الثلثۃ وزفر)رضی الله عنھم واذا تجرد عن القصد المذکور فھو غیر مؤثر فی قول مردود ثبوتہ عن محمد ردہ ھؤلاء الاساطین الذین لایلتفت الی قول غیرھم فی المذھب ، ثم اید رد ثبوتہ(۱)عن محمد عـــہ بقول الامام قاضی خان فی شرح الجامع الصغیر لانص فیہ عن اصحابنا قال وذکر المتأخرون فیھا خلافا ثم حکی ان من علمائنا من قال ان الماء یصیر مستعملا عند محمد برفع الحدث ایضا لانتقال الاثام الی الماء وانما لم یصر ماء البئر مستعملا فی مسألۃ الجنب عند محمد لمکان الضرورۃ ثم قال ولعمری انی لاعجب ممن یقول فی مسألتنا ھذہ ان مستندہ فی افتائہ یجوز التوضی فی ھذا الحوض مسألۃ البئر والحال انہ لاجامع بینھما لان تلك فی من تجرد عن النیۃ وھذہ فیمن یتوضأ ماھذا الا عجیب والله الموفق ثم اورد کلام شیخہ فی الفتح الذی ذکرنا فی النمرۃ الاولی الی قولہ کذا فی الخلاصۃ [2]۔
وضو کرنے والے کا چھوٹے حوض میں ہاتھ کو داخل کرنا بہ نیت وضو پانی سے طہوریت کے وصف کو سلب کردے گا کیونکہ ہاتھ کے ڈال کر نکالنے سے ہمارے ائمہ اربعہ(ائمہ ثلثہ وزفر)کے اتفاق سے پانی کا وصف طہوریت ختم ہوجائے گا ، حدث کے ختم ہوجانے اور تقرب کے حاصل کرنے کی وجہ سے ، اور جب قصد مذکور نہ ہو تو وہ غیر مؤثر ہے ایك قول کے مطابق جس کا ثبوت محمد سے نہیں ہے اس کو ائمہ مذ ہب نے رد کیا ہے جن کا قول فیصل ہے ، پھر اس کو محمد کا قول نہ ہونے پر شرح جامع صغیر میں قاضی خان کے قول سے مؤید کیا ہے کہ اس میں ہمارے اصحاب کی کوئی نص نہیں ، فرمایا کہ متاخرین نے اس میں ہمارے اصحاب کی کوئی نص نہیں ، فرمایا کہ متاخرین نے اس میں اختلاف کا ذکر کیا ہے ، پھر یہ حکایت کی کہ ہمارے علماء میں سے بعض نے فرمایا ہے کہ محمد کے نزدیك حدث کے مرتفع ہونے سے بھی پانی مستعمل ہوجاتا ہے ، کیونکہ پانی کی طرف گناہ منتقل ہوتے ہیں ، اور کنویں کے مسئلہ میں جنب کے داخل ہونے سے پانی کا مستعمل نہ ہونا محمد کے نزدیك ضرورت کی وجہ سے ہے ، پھر فرمایا مجھے بے انتہا تعجب ہے اس مسئلہ میں کہ انہوں نے اپنے فتوٰی کی سند کنویں کے مسئلہ کو بنایا ہے اور یہ فتوٰی دیا ہے کہ اس حوض میں وضو جائز ہے حالانکہ دونوں
عـــہ وقع فی صدر الرسالۃ عند ذکر الکتب عد العنایۃ سھوا مرتین فلیکن ھذا متم الاربعین بل الذی یاتی عن خزانۃ المفتین اھ منہ غفرلہ)
شروع ر سالہ میں جہاں کتابوں کا ذکر ہے عنایہ کا شمار سہواً دو۲ دفعہ کیا ہے۔ پس چاہئے یہ چالیس کا تتمہ ہو بلالکہ وہ جو خزانۃ المفتین سے آرہا ہے اھ(ت)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع