30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اقول : ویظھر للعبد الضعیف انہ کان ینبغی ان یجعل ھذا ھو المقصود بظاھر الروایۃ ان الکثیر مالا یخلص بعضہ الی بعض واعبتروہ بالارتفاع والانخفاض بتحریك الوضوء من ساعتہ او الغسل اوالاغتراف اوالتکدر اوسرایۃ الصبغ والاول ھو الصحیح ویقرران المقصود بہ لیس الا تحصیل جامع بینہ وبین الجاری قال الامام ملك العلماء فی البدائع عن ابی حنیفۃ رضی الله تعالٰی عنہ فی جاھل بال فی الماء الجاری ورجل اسفل منہ یتوضؤ بہ قال لا بأس بہ وھذا لان الماء الجاری مما لایخلص بعضہ الی بعض فالماء الذی یتوضؤ بہ یحتمل انہ نجس ویحتمل انہ طاھر والماء طاھر فی الاصل فلا نحکم بنجاستہ بالشك [1] اھ۔
اقول : معناہ ان البول یستھلك فی الماء فیصیر کجزء منہ لکن لایطھر لنجاسۃ عینا فھذا ماء بعضہ نجس غیران الماء الجاری لایتأثر بقیتہ بھذا البعض وھذا معنی قولہ لایخلص
کہ فاصلہ سے اطراف میں واقع ہو اور پھر ہر بیس کے درمیان میں ایك نجس قطرہ ہو تو کل نجس ہوجائیگا خواہ وصف میں تغیر نہ ہوا ہو دس ہزار گز ہونے کے باوجود بلالکہ لاکھ گز ہونے کے باوجود حق یہ ہے کہ دارومدار مقدار پر ہے اور پانی اس کے بعد ماءِ جاری کی طرح ہے والله تعالٰی اعلم۔ میں کہتا ہوں اس عبدِ ضعیف پر یہ ظاہر ہوا کہ مناسب یہ تھا کہ اسی کو ظاہر الروایۃ کا مقصود بنایا جاتا یعنی کثیر وہ ہے کہ بعض بعض میں شامل نہ ہو اور اس میں انہوں نے پانی کے زیروبم کا لحاظ کیا ہے ، وضو ، غسل ، چُلّو سے پانی لینے ، گدلا ہونے یا رنگ کے سرایت کرنے سے معلوم ہوسکتا ہے ، اور اول ہی صحیح ہے ، اور یہ مقرر ہے کہ مقصود اس پانی اور جاری پانی میں کوئی جہت جامعہ تلاش کرنا ہے ، ملك العلماء نے بدائع میں ابو حنیفہ سے نقل کی ہے کہ اگر کوئی جاہل جاری پانی میں پیشاب کردے اور اس کے نچلے حصّے میں کوئی شخص وضو کر رہا ہو تو فرمایا کچھ مضائقہ نہیں ، اور اس کی وجہ یہ ہے کہ جاری پانی کے اجزا ایك دوسرے میں شامل نہیں ہوتے ہیں ، تو جس پانی سے وہ وضو کررہا ہے اس کے بارے میں احتمال ہے کہ پاك ہو اور احتمال ہے کہ ناپاك ہو ، اور پانی اصل کے اعتبار سے پاك ہے تو شك کی بنا پر اس پر ناپاکی کا حکم نہیں کیا جائے گا اھ۔
میں کہتا ہوں اس کے معنی یہ ہیں کہ پیشاب پانی میں گُم ہوجاتا ہے اور اس کے ایك جزء کی طرح ہوجاتا ہے لیکن وہ پاك نہیں کرتا ہے کہ اس کی ذات نجس ہے تو یہ ایسا پانی ہے جس کا بعض نجس ہے مگر جاری پانی
بعضہ الی بعض(۱)فاندفع مارد علیہ العلامۃ قاسم فی الرسالۃ بقولہ ھذا مما لایکاد یفھم ومن نظر تدافع امواج الانھار جزم بخلاف مقتضی ھذہ العبارات [2] اھ۔ وکانہ ظن ان المراد لایصل بعضہ الی بعض(۲)ولو ارید ھذا لم یکن فی تدافع الامواج مایدفعہ فان التموج حین یوصل الماء الاول مکان الثانی ینقل الثانی الی مکان الثالث فلا یثبت وصول الاول الی الثانی بل الی مکانہ الاول وبالجملۃ المقصود حصول ھذا المعنی الملحق ایاہ بالجاری فاذا حصل لحق وصار لایقبل النجاسۃ اصلا لاانہ یتنجس من موضع النجاسۃ الی حیث یخلص بعضہ الی بعض ویبقی الباقی علی طہارتہ حتی یجب ان یترك من موضع النجاسۃ قدر حوض صغیر کما ھی روایۃ الاملاء(۳)وذلك لان الماء یتنجس بالمتنجس تنجسہ بالنجس فان صار قدر مایخلص الیہ نجسا کیف یبقی مابعدہ طاھرا مع اتصالہ بہ والله تعالٰی اعلم ھذا۔
وذکر المسألۃ فی البدائع فجعل الجواز احکم وعدمہ احوط حیث قال اذا کان الماء الراکد لہ طول بلا عرض کالانھار التی فیھا میاہ راکدۃ لم یذکر فی ظاھر الروایۃ وعن ابی نصر محمد بن محمد بن سلام
کے بقیہ اجزاء اس سے متاثر نہیں ہوتے ہیں ، اور یہی مفہوم اس عبارت کا ہے کہ اس کا بعض حصہ دوسرے بعض کی طرف نہیں پہنچتا ہے ، تو وہ اعتراض جو علامہ قاسم نے اپنے رسالہ میں کیا وہ ختم ہوا ، اعتراض یہ ہے “ یہ ایك ناقابلِ فہم چیز ہے اور جو شخص بھی نہروں کی ٹکراتی ہوئی موجوں کا مشاہدہ کرے گا اس کو معلوم ہوجائیگا کہ ان عبارات میں جو لکھا ہے وہ غلط ہے “ اور غالباً انہوں نے اس کا مطلب یہ سمجھ لیا کہ پانی کا بعض حصّہ دوسرے بعض تك نہیں پہنچتا ہے ، اگر بات یہی ہوتی تو موجوں کے ٹکراؤ سے اس کی تردید نہ ہوئی ، کیونکہ موج جب پہلے کو دوسرے کی جگہ لے جائے گی تو دوسرے کو تیسرے کی جگہ لے جائے گی تو پہلا پانی دوسرے پانی کی جگہ تك نہیں پہنچے گا بلکہ اس کی پہلی جگہ تك پہنچے گا ، خلاصہ یہ کہ اس میں اس وصف کا حاصل ہونا ہے جو اس کو جاری پانی سے ملاتا ہے ، اگر یہ وصف پایا جائیگا تو وہ جاری پانی کے حکم میں ہوگا اور نجاست کو بالکل قبول نہ کریگا ، یہ نہیں کہ نجاست کی جگہ سے وہ ناپاك ہوجائیگا ، اور جہاں تك اس کے اجزاء جائیں گے اور باقی اپنی اصلی طہارت پر باقی رہے گا یہاں تك کہ نجاست کی جگہ سے چھوٹے حوض کی مقدار میں جگہ چھوڑ دی جائے جیسا کہ یہ املاء کی روایت ہے کیونکہ پانی ناپاك چیز سے ایسا ہی ناپاك ہوجاتا ہے جیسا کہ خود نجس چیز سے ، تو اگر اتنی مقدار جو اس کی طرف
ان کان طول الماء مما لایخلص بعضہ الی بعض یجوز التوضؤ بہ وعن ابی سلیمٰن الجوز جانی لاوعلی قولہ لووقعت فیہ نجاسۃ ان کان فی احد الطرفین ینجس مقدار عشرۃ اذرع وان کان فی وسطہ ینجس من کل جانب مقدار عشرۃ اذرع فما ذھب الیہ ابو نصر اقرب الی الحکم لان اعتبار العرض یوجب التنجیس واعتبار الطول لایوجب فلا ینجس بالشك وماقالہ ابوسلیمن اقرب الی الاحتیاط لان اعتبار الطول ان کان لایوجب التنجیس فاعتبار العرض یوجب فیحکم بالنجاسۃ احتیاطا [3] اھ۔
اقول : (۱)فی کلا التعلیلین نظر بل الطول یوجب الطہارۃ والعرض لایوجب تنجیسہ لان المدار اذا کان علی الخلوص وعدمہ فعدمہ من جھۃ الطول ظاھر ووجودہ من جھۃ العرض زائل لان بقلۃ العرض یحصل الخلوص فی العرض وکیف یسری منہ الی الطول مع وجود الفصل المانع للخلوص و
آرہی ہے نجس ہوجائے تو اس کے بعد جو بچا ہے وہ طاہر کیسے رہے گا حالانکہ وہ بھی اس کے ساتھ متصل ہے والله تعالٰی اعلم۔ بدائع میں مسئلہ کا ذکر کیا اور جواز کو مضبوط اور عدمِ جواز کو احوط قرار دیا ، فرمایا جب پانی ٹھہرا ہوا ہو اس میں طول ہو مگر عرض نہ ہو جیسا کہ نہروں میں ٹھہرا ہوا پانی۔ ظاہر روایت میں اس کا ذکر نہیں ہے ، اور ابو نصر محمد بن محمد بن سلام سے مروی ہے کہ اگر پانی کی لمبائی ایسی ہے کہ پانی کا بعض دوسرے بعض تك نہ پہنچتا ہو تو اس سے وضو جائز ہے ، ابو سلیمان الجوز جانی سے ہے کہ نہیں ، اور ان کے قول پر اگر اس میں نجاست پڑ جائے تو اگر کسی ایك کنارے پر ہو تو دس ہاتھ کی تعداد پر ناپاك ہوجائے گا ، اور اگر درمیان میں ہو تو ہر جانب سے دس ہاتھ ناپاك ہوجائے گا تو ابو نصر کا قول اقرب الی الحکم ہے کیونکہ چوڑائی کا اعتبار ناپاك کرتا ہے اور لمبائی کا اعتبار نجاست لازم نہیں کرتا ، تو شك سے ناپاك نہ ہوگا ، اور جو ابو سلیمان نے کہا وہ اقرب الی الاحتیاط ہے کیونکہ لمبائی کا اعتبار اگر نجس کرنے کو واجب نہیں کرتا تو چوڑائی کا اعتبار واجب کرتا ہے تو نجاست کا حکم احتیاطاً لگایا جائے گا اھ ۔
میں کہتا ہوں دونوں تعلیلوں پر اعتراض ہے بلالکہ لمبائی طہارت کو واجب کرتی ہے اور چوڑائی اس کی ناپاکی کو واجب نہیں کرتی کیونکہ دارومدار خلوص کے ہونے نہ ہونے پر ہے تو اس کا عدم لمبائی کے اعتبار سے ظاہر ہے اور اس کا وجود چوڑائی کے اعتبار سے زائل ہے ، کیونکہ چوڑائی کی قلت سے خلوص حاصل ہوگا چوڑائی میں تو اس سے لمبائی کی طرف کیسے چلے گا حالانکہ
ان شئت فشاھدہ بما جعلوہ معیار الخلوص وعدمہ فانك اذا توضأت فیہ یتحرك فی عرضہ لاجمیع طولہ وکذا الصبغ والتکدیر واجاب فی البحر بان ھذا وان کان الاوجہ الا انھم وسعوا الامر علی الناس وقالوا بالضم ای ضم الطول الی العرض کما اشار الیہ فی التجنیس بقولہ تیسیرا علی المسلمین [4] اھ واقرہ ش۔
اقول : (۱)لیس باوجہ فضلا عن ان یکون الاوجہ وانما الا وجہ الجواز کما علمت وبالله التوفیق ھذا ثم ذکر فی زھرالروض(۴)فرع الخانیۃ حوض کبیر فیہ مشرعۃ ان کان الماء متصلا بالالواح بمنزلۃ التابوت لایجوز فیہ الوضوء واتصال ماء المشرعۃ بالماء الخارج منھا لاینفع(۵)کحوض(۶)کبیر انشعب منہ حوض صغیر فتوضأ فی الصغیر لایجوز وان کان ماء الصغیر متصلا بماء الکبیر وکذا لایعتبر اتصال ماء المشرعۃ بما تحتہا من الماء ان کانت الالواح مشدودۃ [5] اھ۔
اقول : انما مبناہ فیما یظھر ماتقدم فی فرعہا الثالث من اشتراط العرض والا فلاشك
[1] بدائع الصنائع المقدار الذی یصیر المحل نجسا سعید کمپنی کراچی ۱ / ۷۳
[2] رسالہ لعلامہ قاسم
[3] بدائع الصنائع فصل اما بیان المقدار الذی یصیر بہ المحل نجسا ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۷۳
[4] بحرالرائق کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۷۷
[5] فتاوٰی خانیۃ المعروف قاضی خان فصل فی الماء الراکد نولکشور لکھنؤ ۱ / ۴
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع