دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 2 | فتاوی رضویہ جلد ۲

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۲

اقل لم یجز الوضوء فیہ ممتلئا فاذا نقص وبلغ الکثرۃ(۱)جاز  وبہ یلغزای ماء لایجوز الاغتسال فیہ مادام کثیرا واذا قل جاز(۳)وفرع الخانیۃ خندق طولہ مائۃ ذراع او اکثر فی عرض ذراعین قال عامۃ المشائخ لایجوز فیہ الوضوء ثم حکی عن بعضھم الجواز ان کان ماؤہ لوانبسط یصیر عشرا فی عشر [1] اھ۔  

قلت : (۲)وھو المختار درر عن عیون المذاھب والظھیریۃ وصححہ فی المحیط والاختیار وغیرھما واختار فی الفتح القول الاخر وصححہ تلمیذہ الشیخ قاسم لان مدار الکثرۃ علی عدم خلوص النجاسۃ الی الجانب ولا شك فی غلبۃ الخلوص من جھۃ العرض [2] اھ ش۔

اقول : (۱)ھذا غیر مسلم اذلو کان علیہ المدار لما جاز الوضوء فی الماء الکثیر من الجانب الذی فیہ النجاسۃ ولیس کذلك فعلم ان المدار ھو المقدار اعنی المساحۃ فلا حاجۃ الی العرض وقد قال المحقق نفسہ قالوا فی غیر المرئیۃ یتوضؤ من جانب الوقوع وفی المرئیۃ لا وعن                                           

کم ہے اور وہ بھرا ہوا ہو تو اس سے وضو بھی جائز ہے اور غسل بھی ، اور کم ہو تو جائز نہیں البتہ ا سے چُلّو بھر کر پانی لے کر وضو کرسکتا ہے۔

میں کہتا ہوں اس کے برعکس میں حکم برعکس ہے یعنی جب اس کا نچلا حصّہ دہ در دہ ہو اور اوپر والا کم ہو تو اس میں وضو جائز نہیں جبکہ بھرا ہوا ہو ، پس جب کم ہوجائے اور کثرت کو پہنچ جائے تو جائز ہے ، اسی لئے ایك فقہی پہیلی مشہور ہے “ وہ کون سا پانی ہے کہ جب کثیر ہو تو اُس سے غسل جائز نہیں اور جب کم ہو تو جائز ہے۔ خانیہ(۳)کی فرع ، ایك خندق ہے جس کی لمبائی سَو ہاتھ یا اُس سے زیادہ ہے اور چوڑائی دو ہاتھ ہے تو عام مشائخ فرماتے ہیں اُس سے وضو جائز نہیں ، اور بعض مشائخ سے جواز منقول ہے ، بشرطیکہ وہ حوض ایسا ہو کہ اگر اس کے پانی کو پھیلا دیا جائے تو وہ دَہ در دَہ ہوجائے اھ۔ میں کہتا ہوں یہی مختار ہے اس کو درر نے عیون المذاہب سے اور ظہیریہ سے نقل کیا اور محیط واختیار وغیرہما نے اس کی تصحیح کی ، اور فتح میں دوسرے قول کو اختیار کیا اور اس کی تصحیح ان کے شاگرد شیخ قاسم نے کی کیونکہ کثرت کا دارومدار نجاست کے دوسری جانب نہ پہنچنے پر ہے ، اور اس میں شك نہیں کہ خلوص کا غلبہ چوڑائی کی طرف سے ہے اھ ش۔

میں کہتا ہوں یہ مسلّمہ بات نہیں ہے کیونکہ اگر اسی پر مدار ہوتا تو کثیر پانی میں اس جانب سے وضو جائز نہیں ہوتا جس میں کہ نجاست ہے حالانکہ ایسا نہیں ہے تو معلوم ہوا کہ اصل چیز مقدار ہے یعنی پیمایش ، تو چوڑائی کی کوئی حاجت نہیں ، اور خود محقق نے فرمایا ہے “ مشائخ کا غیر مرئی نجاست میں

ابی یوسف انہ کالجاری لایتنجس الا بالتغیر وھو الذی ینبغی تصحیحہ لان الدلیل انما یقتضی عندالکثرۃ عدم التنجس الا بالتغیر من غیر فصل وھو ایضا الحکم المجمع علیہ علی ماقدمناہ من نقل شیخ الاسلام ویوافقہ مافی المبتغی ان ماء الحوض فی حکم ماء جار [3]اھ۔

 والعلامۃ نفسہ اطال فیہ الکلام فی رسالتہ تلك واحتج بالاحادیث والاٰثار وقال فی اٰخرہ فثبت ان ماء الغدر لایتنجس الا بالتغیر سواء کان الواقع فیہ مرئیا اوغیر مرئی فالجاری اولی [4] اھ۔  وقال قبلہ علی قول صاحب الاختیار ان کانت النجاسۃ مرئیۃ لایتوضؤ من موضع الوقوع۔ ۔ ۔  الخ مانصہ یقال لہ اذا کان الحکم ھذا فاین الاصل الذی ادعیتہ وھو ان الکثیر لاینجس وکیف خرج ھذا عن دلیل الاصل الذی اوردتہ وھو الحدیث[5] الخ وقال علی قول البدائع ان کانت مرئیۃ لایتوضؤ من الجانب الذی فیہ الجیفۃ مانصہ کلہ مخالف للاصل المذکور والحدیث [6] اھ۔                           

کہنا ہے کہ جہاں نجاست گری ہے وہاں سے وضو کرسکتا ہے اور مرئیہ میں نہیں ، اور ابویوسف سے مروی ہے کہ یہ جاری پانی کی طرح ہے جب تك تغیر نہ ہوگا نجس نہ ہوگا اسی کی تصحیح ہونی چاہئے ، کیونکہ دلیل کا تقاضا تو یہ ہے کہ کثرت کی صورت میں صرف اسی وقت ناپاك ہو جبکہ تغیر آجائے اور اس میں کوئی قید نہ ہو ، یہ بھی اجماعی حکم ہے ہم اس پر شیخ الاسلام کی نقل بیان کر آئے ہیں ، اور مبتغیٰ میں اس کے موافق ہے کہ حوض کا پانی جاری پانی کے حکم میں ہے اھ

اور علّامہ نے خود اپنے اس رسالہ میں اس پر طویل بحث کی ہے اور احادیث وآثار سے استدلال کیا ہے اور اس کے آخر میں فرمایا ہے کہ اس سے معلوم ہوا کہ تالابوں کا پانی تغیر سے ناپاك ہوتا ہے خواہ گرنے والی چیز مرئی ہو یا غیر مرئی ، تو جاری میں یہ حکم بطریق اولیٰ ہوگا اھ۔  اور اس سے قبل صاحبِ اختیار پر کلام کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر نجاست مرئیہ ہو تو گرنے کی جگہ سے وضو نہیں کرے گا۔ ۔ ۔ الخ ان کی عبارت اس طرح ہے “ اُس سے کہا جائے گا کہ جب حکم یہ ہے تو اس اصل کا کیا ہوا جو آپ نے بیان کی تھی کہ کثیر پانی ناپاك نہیں ہوتا اور یہ اُس دلیل اصل سے کیسے خارج ہوگیا جس کو آپ نے بیان کیا تھا اور وہ حدیث ہے۔ ۔ ۔ الخ اور بدائع کے قول پر فرمایا کہ اگر نجاست مرئیہ ہو تو جہاں مردار گرا ہے وہاں سے

ثم اقول : (۱)بل ادارۃ الامر علیہ یبطل اعتبار العرض فان المناط ح ان یکون بین النجاسۃ والماء یرید ان یأخذہ عشرۃ اذرع فاذا وقع النجس فی احد اطراف ذلك الخندق لم یخلص الی الطرف الاٰخر طولا وان خلص عرضا فیجوز الاخذ من الطول بعد عشرۃ اذرع وان لم یجز من العرض (۲)بل ھی تبطل اعتبار المساحۃ رأسا اذ المدار علی ھذا علی الفصل فلوان خندقا طولہ عشرۃ اذرع وعرضہ شبر وقع فی طرف منہ نجس جاز الوضوء من الطرف الاٰخر لوجود الفصل المانع للخلوص وھذا لایقول بہ احد منا(۳)ولو وقع النجس فی الوسط والغدیر عشر فی عشر بل عشرون فی العشرین الا اصبعا فی الجانبین تنجس کلہ لان الفصل فی کل جانب اقل من عشر وکذا(۴)اذا کان مائۃ فی مائۃ بل الفا فی الف عـــہ ووقع بفصل عشرفی الاطراف ثم کل عشرین فی الاوساط قطرۃ نجس وجب تنجس الکل من دون تغیر وصف ، مع کونہ عشرۃ اٰلاف

وضو نہیں کرے گا ، ان کی یہ تمام عبارت اصل مذکور اور حدیث کے مخالف ہے اھ

پھر میں کہتا ہوں کہ اس پر دارومدار کرنا عرض کے اعتبار کو باطل کردیتا ہے کیونکہ اس وقت علت حکم یہ ہے کہ اس کے اور نجاست کے درمیان دس ہاتھ کا فاصلہ ہو تو اگر اس خندق کے ایك کنارے میں نجاست گر گئی تو وہ لمبائی میں دوسرے کنارے تك نہیں آسکتی اگرچہ چوڑائی میں دوسری طرف پہنچ جائے ، تو لمبائی میں دس ہاتھ کے بُعد سے اس پانی کا استعمال جائز ہوگا اگرچہ چوڑائی سے جائز نہیں ، بلالکہ یہ مساحت کے اعتبار کو باطل کرتا ہے کیونکہ اس صورت میں دارومدار فصل پر ہے اب اگر کسی خندق کی لمبائی دس ہاتھ ہے مگر چوڑائی ایك بالشت ہے اور اس کے ایك کنارہ میں نجاست گر جائے تو دوسرے کنارے سے وضو جائز ہے کیونکہ خلوص کے لئے مانع موجود ہے ، اور ہم میں سے یہ قول کسی کا نہیں۔ اور اگر نجاست تالاب کے بیچوں بیچ گر گئی اور تالاب دہ در دہ بلکہ بست دربست ہے مگر دونوں طرف سے ایك ایك انگل کم ہے تو پورے کا پورا ناپاك ہوجائے گا ، کیونکہ فصل ہرجہت میں دس سے کم ہے ، اسی طرح اگر وہ سَو در سَو ہو بلالکہ ہزار در ہزار ہو ، اور نجاست دس ہاتھ

 

عـــہ فتکفی لتنجیس عشرۃ اٰلاف ذراع خمس وعشرون قطیرۃ کحبۃ الجاورس مثلا ولتنجیس ماء منبسط فی الف الف ذراع الفان وخمسمائۃ۔  اھ منہ غفرلہ۔ (م)

دس ہزار گز کو نجس کرنے کیلئے نجاست کے پچیس قطرے باجرہ کے دانہ برابر کافی ہیں اور ایك لاکھ گز میں پھیلنے والے پانی کو نجس کرنے کیلئے دو ہزار پانچ سو قطرے کافی ہیں اھ منہ غفرلہ(ت)

ذراع بل الف الف ، فالحق ان المدار ھو المقدار ،  والماء بعدہ کماء جار ، والله تعالی اعلم۔

 



[1]              قاضی خان  فصل فی الماء الراکد نولکشور لکھنؤ ۱ / ۴

[2]   ردالمحتار باب المیاہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۴۲

[3]   فتح القدیر باب الماء الذی یجوزبہ الوضوء مالایجوز نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۷۲

[4]   زہر الروض فی مسئلۃ الحوض

[5]   زہر الروض فی مسئلۃ الحوض

[6]   زہر الروض فی مسئلۃ الحوض

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن