30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
وسادسا : (۲)حیث حکموا بسقوط الاستعمال فی ادخال الکف والانغماس
قربۃ کی ادائیگی کے باعث ہوتا ہے اور یہ اسی وقت ہوگا جبکہ وہ مُحدِث یا متقرب کے بدن سے لگے نہ کہ اُس چیز کو لگے جو بدن کو لگی ہے ، اور جو چیز مُلَاقیِ میں موجود ہے وہ اوّل ہے اور مُلْقیٰ میں دوسری چیز ہے یہ رسالہ میں ہے ، اور بحر کی مطلق پانی کی بحث میں ہے ، اور بحر نے مسئلہ جحط میں حلیہ کے اس قول پر تفریع کی ہے “ الماء المستعمل ھو الذی لاقی الرجل “ (مستعمل پانی وہ ہے جو آدمی کے جسم سے متصل ہو)تفریع کے لفظ یہ ہیں ، تو اس بنا پر ان کا قول(یعنی جو شخص کنویں میں نہانے کو اُترا)پانی مستعمل ہوگیا ، اس کا مفہوم یہ ہے کہ بدن کو لگنے والا پانی مستعمل ہوگیا ، یہ نہیں کہ کنویں کا سارا پانی مستعمل ہوجائے ، اھ ہم نے اس پر مکمل بحث علامہ قاسم کے کلام پر گفتگو کرتے ہوئے اکیسویں نمبر کے تحت کردی ہے اور اس سے قبل انیسویں نمبر میں تین دلائل بیان کیے ہیں تو یہ چار ہوئے۔
خامسا : میں کہتا ہوں اگر یہ بات درست ہوتی تو آپ ان کثیر ظاہر روایات کو ایک ضعیف روایت پر محمول نہ کرتے بلالکہ صرف اتنا کہتے کہ ہاں وہ پانی مستعمل ہوگیا ہے ، لیکن جو پانی بدن اور ہاتھوں کو لگا ہے وہ تھوڑا سا ہے اور مغلوب ہے تو نقصان دہ نہ ہوگا۔ سادساً مشائخ نے سقوط استعمال کا حکم لگایا ہے ہاتھ ڈالنے اور غوطہ کھا نے کی صورت میں ،
اطبقوا سلفا وخلفا وانتم معھم علی تعلیلہ بالضرورۃ کما قدمنا عن الفتح والخلاصۃ والتبیین والبزازیۃ والکافی والخانیۃ والغنیۃ والحلیۃ والنھر والقدوری والجرجانی والبرھان والصغری والفوائد الظھیریۃ والشمس الائمۃ الحلوانی وعن بحرکم وعنکم عن شمس الائمۃ السرخسی وشارح الھدایۃ الخبازی والمحقق حیث اطلق والزیلعی وابی الحسن وابی عبدالله رحمہم الله تعالٰی وقدمناہ عن الخلاصۃ عن نص محرر المذھب محمد فی کتاب الاصل وعن الفتح عن کتاب الحسن عن صاحب المذھب الامام الاعظم رضی الله تعالٰی عنہم ولو کان لایستعمل الاما لصق بالبدن فای حرج یلحق وای ضرورۃ تمس فان الماء مع ثبوت الاستعمال یبقی طاھرا مطھر اکما کان۔
وسابعا : (۱)قدمنا عن الامام شمس الائمۃ الکردری ان ادخال المحدث یدہ فی الماء لالضرورۃ یفسدہ [1]وعنکم عن المبتغی انہ یفسد الماء [2]وعنکم عن المبسوط عن نص محمد فی الاصل اغتسل الطاھر فی البئر افسدہ [3]وعن مجمع الانھر فسد عندالکل [4]وعن
سلف سے خلف تک اسی پر چلے آرہے ہیں اور آپ بھی اُن کے ہمنوا ہیں اور اس کیلئے علت ضرورت بتائی ہے جیسا کہ ہم فتح ، خلاصہ ، تبیین ، بزازیہ ، کافی ، خانیہ ، غنیہ ، حلیہ ، نہر ، قدوری ، جرجانی ، برہان ، صغری ، فوائد ظہیریہ ، شمس الائمہ حلوانی ، بحر اور آپ کی سند سے شمس الائمہ سرخسی سے ، شارح ہدایہ خبازی ، محقق(انہوں نے اطلاق سے کام لیا)ابو الحسن وابو عبداللہ سے روایت کر آئے ہیں اور اس کو ہم نے خلاصہ سے محرر المذہب امام محمد کا قول ان کی اصل سے نقل کیا ہے اور فتح سے حسن کی کتاب سے صاحب المذہب امام اعظم سے نقل کیا ہے ، اگر صرف اتنا ہی مستعمل ہوتا ہے جو بدن سے لگا ہوتو کیا حرج لاحق ہوتا ہے؟ اور کونسی ضرورت درپیش ہوتی ہے؟ کیونکہ پانی باوجود ثبوت استعمال کے طاہر مطہر ہی رہے گا جیسا کہ پہلے تھا۔
سابعاً ہم امام شمس الائمہ کردری سے نقل کر آئے ہیں کہ محدث کا اپنے ہاتھ کو پانی میں بلا ضرورت ڈالنا پانی کو فاسد کردیتا ہے اور تم سے مبتغیٰ سے روایت کی ہے کہ وہ پانی کو فاسد کردیتا ہے ، اور تم سے مبسوط سے ، محمد کی اصل میں نص سے روایت کی ہے کہ اگر پاک آدمی کُنویں میں غسل کرے تو اس کو فاسد
الھندیۃ عن النھایۃ یفسد بالاتفاق [5] ولفظ العنایۃ فسد الماء عند الکل [6] وعنکم عن الدرایۃ والعنایۃ وغیرھما یفسد عندالکل [7] فھذ اصریح نص محمد فی الروایۃ الظاھرۃ وصرائح لقول الاجماع فی الکتب المعتمدۃ منھا بحرکم علی ان الماء کلہ یصیر مستعملا حتی لایبقی صالحا لان یتوضأ بہ اذلیس الفساد الاخروج الشیئ عما یصلح لہ ولوکان یجوزبہ الوضوء فایش فسد وکیف فسد۔
وثامنا : (۱)قدمنا عن الفتح عن کتاب الحسن عن صاحب المذھب الامام رضی الله تعالٰی عنہ التصریح بابین لفظ لایقبل تاویلا ولا یرضی تحویلا وھو قولہ رضی الله تعالٰی عنہ لم یجز الوضوء منہ فثبت قطعا ان لامساغ لھذا التاویل وانہ مضاد لصریح نص امام المذھب وجلی نص محمد فی ظاھر الروایۃ بل ومصادم لاجماع ائمۃ المذھب المنقول فی المعتمدات کبحرکم فالحق الناصع ھو المذھب المنصوص علیہ من ائمۃ المذھب فی الکتب الظاھرۃ المطبق علیہ فی الروایات المتواترۃ
کردے گا ، اور مجمع الانہر میں ہے کہ سب کے نزدیک فاسد ہوگیا ، اور ہندیہ سے نہایہ سے منقول ہے کہ بالاتفاق فاسد ہوجائے گا ، اور عنایہ کے الفاظ یہ ہیں کہ سب کے نزدیک پانی فاسد ہوگیا اور تم سے درایہ وعنایہ وغیرہما سے روایت کی ہے سب کے نزدیک فاسد ہوگیا تو یہ ظاہر روایت میں محمد کی صریح نص ہے ، اور اجماع کی صریح نقول کتب معتمدہ میں موجود ہیں ، بحر میں ہے علاوہ ازیں تمام پانی مستعمل ہوجاتا ہے حتیّٰ کہ اس سے وضو بھی نہیں کیا جاسکتا ہے کیونکہ فساد کے معنی ہی یہ ہیں کہ جو چیز جس کام کی صلاحیت رکھتی تھی اب اس کے لائق نہ رہی اور اگر اس سے وضو جائز رہے تو پھر اس میں فساد کیوں اور کیسے ہوا؟(ت)
ثامناً : ہم نے فتح کے حوالہ سے حسن کی کتاب سے صاحب مذہب امام اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکا قول نقل کیا ہے ، اور یہ اتنا واضح اور صریح قول ہے کہ کسی قسم کی تاویل کو قبول نہیں کرتا ہے ، اور وہ یہ ہے کہ اس سے وضوء جائز نہیں ، تو قطعی طور پر ثابت ہوگیا کہ اس تاویل کی کوئی گنجائش نہیں اور یہ امام مذہب کے نص صریح کے مخالف ہے اور امام محمد کے واضح نص کے بھی خلاف ہے بلکہ کتب معتمدہ میں ائمہ مذہب کا جو اجماع منقول ہے اس کے بھی مخالف ہے ، مثلاً آپ ہی کی بحر میں حکایت اجماع موجود ہے تو حق وہی ہے جو ظاہر روایت کی کتب میں ائمہ مذہب سے
اعنی ثبوت الاستعمال لجمیع الماء القلیل قلیلا کان اوکثیرا بدخول جزء من بدن محدث فیہ لم یروما یخالفہ ولم یرفی کلام احدما ینازعہ الالفظۃ وقعت فی کلام البدائع فی تعلیل وجدل مع وفاقہ فی المروی وما قدر بحث مع نصوص صاحب المذھب وتصریح محررہ فی کتاب ظاھر الروایۃ بل مع اجماع ائمۃ المذھب لا جرم ان بقیت تلک الکلمۃ لم یعرج علیھا احد فیما نعلم الی عصر الامام المحقق علی الاطلاق حتی اتی تلمیذاہ العلامتان القاسم والحلبی فاثراھا ، واٰثراھا واثاراھا ، وجعلھا العلامۃ قاسم نصا مرویا ، وحکما مرضیا ، رد بہ نصوص المذھب المشہورۃ ، والفروع المتواترۃ فی الکتب المنشورۃ ، الی روایۃ ضعیفۃ مھجورۃ ، ولم یات علیھا بروایۃ منقولۃ ماثورۃ ، ولا درایۃ مقبولۃ منصورۃ ، فالمذھب ھو المتبع ، والحق احق ان یتبع ، والله المستعان ، وعلیہ التکلان ، وصلی الله تعالٰی علی سید الانس والجان ، واٰلہ وصحبہ وابنہ وحزبہ ماتعاقب الملوان ، وبارک وسلم ابدا اٰمین ، والحمدلله رب العٰلمین۔
الفصل الثالث فی کلام العلّامۃ ابن الشحنۃ
رسالتہ رحمہ الله تعالٰی اکثر من نصف کراسۃ سلک فیھا مسلکا یخالف ماسلکہ شیخہ العلامۃ
[1] الہندیۃ بالمعنی فصل فیما لایجوزبہ الوضوء نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۲۲
[2] الہندیۃ بالمعنی فصل فیما لایجوزبہ الوضوء نورانی کتب خانہ پشاور۱ / ۲۳
[3] بحر الرائق کتاب الطھارت سعید کمپنی کراچی ۱ / ۹۶
[4] مجمع الانہر فصل فی الماء بیروت ۱ / ۳۱
[5] ہندیۃ الفصل الثانی من المیاہ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۳۳
[6] عنایۃ مع فتح القدیر ماء الذی یجوزبہ الوضوء نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۷۹
[7] حاشیۃ الہدایۃ ماء الذی یجوزبہ الوضوء المکتبۃ العربیہ کراچی ۱ / ۲۳
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع