30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
عــہ ای الحسیۃ العرفیۃ اھ منہ غفرلہ(م)
یعنی حقیقۃ حسی عرفی۔ (ت)
کل البعد۔ وثانیا : ھو منصوص علیہ فی الروایۃ الظاھرۃ وما روایۃ التنجیس الانادرۃ روی ھذہ الحسن ونص علی ذلک محمد فی الاصل وثالثا : تظافرت علیہ التصحیحات کما قدمنا عن البحر عن الخبازی عن القدوری عن الجرجانی وعن الحلیۃ عن ابی الحسین عن ابی عبدالله وعن خزانۃ المفتین ومتن الملتقی وعن البحرانہ المذھب المختار فکیف یبتنی علی روایۃ متروکۃ ، ورابعا : توافرت فیہ نقول الاتفاق علیہ وانہ مذھب اصحابنا جمیعا کما سبق عن النھایۃ والعنایۃ والھندیۃ ومجمع الانھر والدر المختار وغیرھا وعن البحر عن البدائع وعنہ عن العنایۃ والدرایۃ وغیرھا وعن الحلیۃ وعن البحر عن الخبازی کلاھما عن ابی الحسین عن الجرجانی وعن شیخکم المحقق انہ قولنا جمیعا فکیف یجوز رجعہ الی روایۃ متروکۃ ، وخامسا : اکثروا من عزوہ لمحمد کمامر عن الفوائد الظھیریۃ عن شیخ الاسلام خواھر زادہ وابی بکر الرازی وشمس الائمۃ السرخسی وعن الزیلعی وشیخکم المحقق حیث اطلق وعن البحر عن الاسبیجابی والولوالجی وحیث حکم محمد بسقوط حکم الاستعمال عللوہ با لضرورۃ کما سلف عن البحروالنھر والفتح و التبیین والکافی والبرھان
تو ان سب کو روایت نجاست کی طرف لوٹانا سخت بعید ہے۔
اور ثانیاً یہ ظاہر روایت میں نص ہے اور تنجیس کی روایت نادرہ ہے ، اس کو حسن نے روایت کیا ، اصل میں محمد نے اس پر نص کی۔ اور ثالثاً اس پر پے درپے تصحیحات موجود ہیں جیسا کہ ہم نے بحر ، خبازی ، قدوری ، جرجانی ، حلیہ ، ابی الحسین ، ابی عبداللہ ، خزانۃ المفتین ، اور متن ملتقی کے حوالوں سے نقل کیا ، اور بحر سے نقل کیا کہ یہی مذہب مختار ہے تو پھر یہ متروک روایت پر کس طرح مبنی ہوسکتا ہے۔
اور رابعاً متفقہ نقول کثرت سے ہیں یہی ہمارے تمام اصحاب کا مذہب ہے جیسا کہ گزرا نہایہ ، عنایہ ، ہندیہ ، مجمع الانہر ، درمختار وغیرہ سے اور بحر نے بدائع ، عنایہ ودرایہ اور حلیہ سے اور بحر وخبازی دونوں نے ابو الحسن ، جرجانی اور شیخ محقق سے یہ تمام کا قول ہے تو متروکہ روایت کی طرف اس کو راجع کرنا کیسے جائز ہوسکتا ہےاور خامساً اکثر نے اس کو محمد کی طرف منسوب کیا ہے جیسا کہ فوائد ظہیریہ ، شیخ الاسلام ، خواہر زادہ ، ابو بکر رازی ، شمس الائمہ سرخسی ، زیلعی اور تمہارے شیخ محقق ، بحر ، اسبیجابی ، ولوالجی سے گزرا ، اور جہاں محمد نے استعمال کا حکم ساقط ہونے کی بات کی اس کو انہوں نے ضرورت پر محمول کیا جیسا کہ بحر ، نہر ، فتح ، تبیین ، کافی ، برہان ، حلیہ ، فوائد ، صغری ، خبازی ، قدوری ، جرجانی ، شمس الائمہ حلوانی سے گزرا اور بحر سے سرخسی سے اصل میں امام محمد کی نص سے گزرا اور بحر سے دبوسی سے گزرا کہ محمد فرماتے ہیں کُل حکماً مستعمل ہوگا اور بحر میں
والحلیۃ والفوائد والصغری والخبازی والقدوری والجرجانی وشمس الائمۃ الحلوانے و عن البحر عن السرخسی عن نص محمد فی الاصل وعن البحر عن الدبوسی ان محمدا یقول صار الکل مستعملا حکما وقد قال عــہ فی البحر ان ھذہ العبارۃ کشفت اللبس واوضحت کل تخمین وحدس [1] ومعلوم ان محمدا لم یقل قط بالتنجیس فکیف تحمل علیہ وبہ(۱)ظھر الجواب عما اراد بہ البحر فی البحر والرسالۃ دفع الاستبعاد عن ھذا الحمل بان المحقق فی الفتح حمل فرعافی الخانیۃ علی نجاسۃ المستعمل وقال لایفتی بمثل ھذہ الفروع [2] اھ۔
زاد فی الرسالۃ ان تلمیذہ فی الحلیۃ حمل علیھا فرعی الاجمۃ والطحلب وحمل فروعا کثیرۃ علی ھذا النحو [3] اھ فھل بعض فروع وردت متفرقۃ فی غضون بعض الفتاوٰی کھذہ الفروع الوافرۃ ، المتکاثرۃ المتواترۃ ، الثابتۃ الدائرۃ ، فی عامۃ الشروح والفتاوی مع عدۃ من
فرمایا ہے کہ اس عبارت سے مشکل حل ہوگئی ہے ، اور یہ معلوم ہے کہ محمد نے پانی کے نجس ہونے کا قطعاً قول نہیں کیا ہے تو اس کو اس پر کیسے محمول کیا جائے گا ، اور اس سے بحر اور رسالہ کا جواب بھی ظاہر ہوگیا ، انہوں نے اس حمل کو بعید گردانا تھا ، اور کہا تھا کہ محقق نے فتح میں مستعمل پانی پر ایک فرع خانیہ کی اس پانی کی نجاست پر محمول کی ہے ، اور کہا ہے کہ اس قسم کی فروع پر فتوی نہ دیا جائے اھ رسالہ میں یہ اضافہ ہے کہ ان کے شاگرد نے حلیہ میں اس پر اجمہ اور طحلب کی دو فروع کو محمول کیا ، یہ خلاصہ اور منیہ میں مذکور ہیں اور فرمایا کہ اسی نہج پر انہوں نے بہت سی فروع اخذ کی ہیں ، اھ تو کیا ان فروع کی طرح کچھ اور ایسی فروع ہیں جو متفرق فتاوی میں اس کثرت کے ساتھ مذکور ہوں ، کیا شروح اور کیا متون اور ان پر کیسے کوئی نکیر نہیں کی؟ یا ان کی طرح کتب ظاہر روایت میں ہوں؟ یا ان کی اتنی تصحیحات ہوں؟ یا تمام مذہب حنفی کی کتب میں منصوص ہوں؟ـ یا ان پر اتفاق کیا گیا ہو کہ یہ ہم سب کا قول ہے یہ ہمارے اصحاب کا مذہب ہے؟ یا ان کا کوئی اور محمل ہے کہ ان کی طرف روشن
عـــہ ای اوردہ علی نفسہ ولم یجب عنہ۔ منہ غفرلہ(م)
یعنی انہوں نے اسکو اپنے اوپر وارد کیا ہے اوراس کا جواب نہیں دیا۔ (ت)
المتون ، من دون نکیر ولا مجال ظنون ، ام ھی کھذہ فی الکتب الظاھرۃ ، ام ھی مذیلات بالتصحیحات المتظافرۃ ، ام ھی منصوص علیھا من جمیع ائمۃ المذھب الحنفی ، ام ھی مزینۃ بطراز الاتفاق وبانھا قولنا جمیعا وبانھا مذھب اصحابنا فاین ذی من اتی ، ام ھل لھا محمل غیر ھذا فکیف یقاس علی المتعین ، مالہ سبیل واضح متبین۔
السادس والعشرون : کلام العلامۃ علی حدیث لایبولن احدکم فی الماء الدائم قدمنا الکلام علیہ واشرنا الی کلام شیخہ المحقق علی الاطلاق حیث یقول اما قولہ صلی الله تعالی علیہ وسلم(وذکر الحدیث)فغایہ مایفید نھی الاغتسال کراھۃ التحریم ویجوز کونھا لکیلا تسلب الطھوریۃ فیستعملہ من لاعلم بہ بذلک فی رفع الحدث ویصلی ولافرق بین ھذا وبین کونہ یتنجس فیستعملہ من لاعلم لہ بحالہ فی لزوم المحذور وھو الصلاۃ مع المنافی فیصلح کون کل منھما مثیرا للنھی المذکور [4] اھ۔ (۱)ودفع البحر ایاہ ببحث البدائع المذکور دفع للصحیح بمالیس بہ کما علمت اماحدیث راستہ ہو۔
چھبیسواں علاّمہ نے لایبولن احدکم فی الماء الدائم
(ٹھہرے پانی میں پیشاب نہ کرے)پر جو کلام کیا ہے اس پر ہم پہلے ہی بحث کر چکے ہیں ، اور اُن کے شیخ محقق علی الاطلاق کے کلام کی طرف اشارہ کرآئے ہیں ، وہ فرماتے ہیں “ بہرحال حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے فرمان(پھر انہوں نے مذکور حدیث بیان کی)میں جو غسل کرنے کی نہی ہے اس سے زیادہ سے زیادہ جو ثابت ہوتا ہے وہ نہی تحریم ہے تاکہ ایسا نہ ہو کہ طہوریت سلب ہوجائے ، اور اس کو کوئی شخص لاعلمی میں رفعِ حَدَث کیلئے استعمال کر بیٹھے اور نماز پڑھ لے اور اس میں اور اس مضمون میں کہ پانی نجس ہوجاتا ہے تو ایسا نہ ہو کہ اس کو کوئی شخص لاعلمی میں استعمال کرے ، دونوں صورتوں میں محذور لازم ہے ، یعنی منافی کے ہوتے ہوئے نماز پڑھنا ، پس جائز ہے کہ ان میں سے ہر ایک
المستیقظ ، فاقول : لیس من حجتنا فی ھذا الباب لاحتمال انہ لاحتمال النجاسۃ العینیۃ بل ھو الظاھر من قولہ صلی الله تعالٰی علیہ وسلم فانہ لایدری این باتت یدہ والعلامۃ عدل عن ھذا الجواب الواضح الی ثلثۃ (۱)لا یستقیم منھا شیئ فاوّلا : دعوی الخصوص لادلیل علیہ وثانیا : کیف یجعل تعبدیا غیر معقول المعنی مع الارشاد الی المعنی فی نفس الحدیث فانہ لایدری این باتت یدہ وثالثا : ماعن اصحاب عبدالله رضی الله تعالی عنھم یجوز ان یکون لان اباھریرۃ رضی الله تعالٰی عنہ کان یرسلہ ارسالا فاشاروا الی تخصیص مواضع الضرورۃ کما ھو الحکم المصرح بہ عندنا اذا کان الماء فی جب ولا اٰنیۃ یغترف بھا۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع