30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
متناھیۃ عندنافیستحیل ان یکون فی الصغیر مایساوی عدۃ حصص الکبیر وللثانی وجھان الانتقال التدریجی ای یکتسب الحکم مایلیھا من الماء من کل جانب ثم الاجزاء التی تلی ھذہ المیاہ تکتسب من ھذہ ثم وثم الی ان ینتھی الی جمیع الماء مالم یبلغ حد الکثرۃ ام الثبوت الدفعی بان ینجس الکل بوقوع النجس معامن دون توسیط وسائط الاول باطل لانا نعلم قطعا ان بوقوع قطرۃ من بول مثلافی ھذا الطرف من غدیر طولہ مائۃ ذراع وعرضہ ذراع الانصف اصبع وعمقہ الف ذراع یتنجس الطرف الاخر واخر القعرمعالاان الشرع یحکم بتأخر تنجس ذلک الطرف بزمان صالح لانتقال الحکم شیئا فشیئا فاذن ثبت ثبوت الحکم للکل معااصالۃ بدون توسط ، ومعلوم من الشرع ان الماء لاینجسہ الاملاقاۃ النجس وقد افدتم انتم ھھنا ان ملاقاۃ النجس الطاھر توجب تنجیس الطاھر وان لم یغلب علی الطاھر فوجب ان الملاقاۃ حصلت لکل الماء دفعۃ لابالوسائط ومعلوم قطعا ان اللقاء الحسی اٰن الوقوع لیس الا لجزء خفیف والامر اظھرفی نحو الشعرۃ المذکورۃ فثبت انھا حین وقعت لاقت جمیع اجزاء الماء القلیل والا لما تنجس الکل معالعدم السبب فظھر ولله الحمد ان الماء القلیل فی نظر
مثلا پیشاب کا ایک قطرہ تالاب سے کیسے مختلط ہوگا ، کیونکہ ہمارے نزدیک اجسام کی تقسیم متناہی ہے ، تو یہ امر محال ہے کہ چھوٹی چیز بڑی چیز کے متعدد حصّوں سے مل جائے اور دُوسری شق میں بھی دو صورتیں ہیں ، ایک تو تدریجی انتقال ہے ، یعنی جو پانی نجاست کے متصل ہے وہ حکم کو حاصل کرلے ہر طرف سے ، پھر اس سے متصل پانی کے دوسرے اجزأ ان سے حکم کو حاصل کرلیں اور یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہے جب تک کہ یہ حکم تمام پانی کو عام نہ ہوجائے ، جب تک حدِ کثرت کو پانی نہ پہنچے یا انتقال دفعۃً اور یکدم ہو کہ نجاست گرتے ہی سارا پانی ناپاک ہوجائے اور درمیان میں کوئی واسطہ نہ آئے ، پہلا باطل ہے کیونکہ ہم قطعی طور پر جانتے ہیں کہ اگر پیشاب کا ایک قطرہ ایسے حوض میں گرجائے جس کی لمبائی سَو ہاتھ ہے اور چوڑائی ایک ہاتھ سے ایک انگلی کم اور گہرائی ایک ہزار ہاتھ ہے اب جس کنارے میں وہ قطرہ گرا ہے وہ قطعاً ناپاک ہے اور دوسرا کنارہ بھی ناپاک ہے اور گہرائی کا آخری حصہ تک ناپاک ہے اور یہ سب بیک وقت ہوگا یہ نہیں کہ شریعت دوسرے کنارے کی ناپاکی کا حکم قدرے تاخیر سے دے گی کہ آہستہ آہستہ حکم اس کی طرف منتقل ہو ، اس سے معلوم ہوا کہ حکم اصالۃً تمام پانی کیلئے بیک وقت بلا توسط کے منتقل ہوگا ، اور یہ بات معلوم ہے کہ شریعت پانی کو اس وقت تک نجس قرار نہیں دیتی ہے جب تک کہ نجاست اس کی طرف منتقل نہ ہو اور آپ نے یہاں فرمایا ہے کہ نجس کا پاک سے ملنا پاک کو نجس
الشرع کشیئ واحد بسیط وان ملاقاۃ جزء منہ ملاقاۃ للکل(۱)فثبت ان المحدث اذا ادخل یدہ مثلافی الغدیر الغیر الکبیر فبمجرد الادخال لاقاھا الماء کلہ فصار جمیعہ مستعملا والحمد لله علی حسن التفھیم وتواتر الائہ
وبالجملۃ لوکان اللقاء یقتصر علی مااتصل بہ حقیقۃ لم یتنجس بوقوع الشعرۃ الاقطیرات تحیطھا لان سبب التنجیس لیس الاملاقاۃ النجس وھی مقصورۃ علی تلک القطیرات لکنہ باطل قطعا فعلم ان الکل ملاق وانہ لامساغ لان یقال ان غیر الملاقی اکثر من الملاقی ولله الحمد دائم الباقی والصّلٰوۃ والسلام علی المولی الکریم الواقی ، واٰلہ وصحبہ اجمعین الی یوم التلاقی۔
ثالثا وھو(۲)التاسع عشر قصر الحکم علی الملاقی یحیل الاستعمال ، ویسلکہ فی سلک المحال ، وذلک لان الاجسام لاتتلاقی الابالسطوح لاستحالۃ تداخل الاجسام وانی یقع السطح من الجسم فماء الوضوء والغسل یجب ان یبقی طھور الان الذی لاقی منہ بدن المحدث سطح والباقی جسم فلا یسلبہ الطھوریۃ لان المستعمل
کردیتا ہے خواہ وہ پاک پر غالب نہ ہوا ہو ، تو معلوم ہوا کہ ملاقاۃ تمام پانی سے دفعۃً بلا واسطوں کے ہوئی ہے ، اور یہ قطعی معلوم ہے کہ یہ حسی لقاء محض ایک خفیف جزء سے ہے ، یہ چیز بال کی مثال سے واضح ہے جو گزر چکی ہے ، اس سے ثابت ہوا کہ جب وہ نجاست گِری تو کم پانی کے تمام اجزأ سے ملی ، ورنہ تو تمام پانی بیک وقت ناپاک نہ ہوتا کیونکہ اس کا سبب موجود نہیں ، اس سے ثابت ہوا کہ تھوڑا پانی شارع کی نگاہ میں شیئ واحد ہے اور بسیط ہے اور اس کے ایک جزء کی اس سے ملاقاۃ کُل سے ملاقاۃ ہے تو ثابت ہوا کہ مُحدِث جب اپنا ہاتھ مثلاً چھوٹے تالاب میں ڈالے تو ہاتھ ڈالتے ہی کُل پانی اُس سے مل گیا تو سب مستعمل ہوگیا ، اور خلاصہ یہ کہ اگر ملاقاۃ صرف اسی حد تک ہوتی جس سے پانی حقیقۃً ملا ہے تو بال گرنے سے صرف چند قطرات ہی نجس ہوتے جو بال کے گردا گرد ہوتے کیونکہ ناپاکی کا سبب نجس سے ملاقاۃ ہے جو اِن چند قطروں تک محدود ہے ، مگر یہ چیز قطعاًباطل ہے ، تو معلوم ہوا کہ سارے کا سارا مُلاقی ہے اور اس کے سوا چارہ کار نہیں کہ یہ کہا جائے کہ غیر مُلاقی ، ملاقی سے زیادہ ہے۔ (ت)
ثالثا ، یہی(انیسواں)ہے حکم کا محض ملاقی تک محدود رکھنا استعمال کو محال کرنا ہے کیونکہ اجسام کی ملاقاۃ صرف سطوح سے ہوتی ہے ، کیونکہ اجسام میں تداخل محال ہے اور سطح کو جسم سے کتنی نسبت ہے؟ تو وضو اور غسل کا پانی واجب ہے کہ طہور ہے کیونکہ پانی کے جس حصّے کو مُحدِث کا بدن ملا ہے وہ فقط سطح ہے اور باقی جسم ہے تو وہ اس کی طہوریۃ کو سلب نہ کرے گا ، کیونکہ مستعمل ، اپنے غیر سے
اقل بکثیرۃ من غیرہ۔
فان قلت : نعم ھو الحقیقۃ ولکن الشرع المطھر اعتبر کل الجسم المصبوب علی بدن المحدث مستعملا لانہ شیئ واحد متصل۔
قلت : فکذا کل ماء قلیل شیئ واحد حکما شرعیا متصل حسا عادیا ولم یکن ذلک فی المصبوب للصب بل لقلتہ الا تری ان ماء الغدیر یتنجس کلہ معا بوقوع قطرۃ من نجس وما ھو الا لانہ شیئ واحد لقاء جزء منہ لقاء الکل کما بینا فبا دخال المحدث یدہ فی الاناء لاقاھا کل مافی الاناء لاالسطح المتصل بھا
فقط وفیہ المقصود فان قلت المؤثر الاستعمال وھوبالصب یعد مستعملا لکل المصبوب فیصیر کلہ مستعملا۔
قلت : لادخل لفعل المکلف عندنا انما المؤثر کون الماء القلیل المعدود شرعا شیئا واحدا اسقط فرضا اواقام قربۃ وھذا حاصل فی الوجھین۔
ورابعاوھو(۱)العشرون ماءفی طست اراد المحدث ان یغسل بہ یدہ فلہ فیہ وجھان ان یصبہ علی یدہ فیرد الماء علی الحدث اویدخل یدہ فی الطست فیرد الحدث علی الماء
بہت کم ہے۔ اگر کہا جائے کہ حقیقۃ تو ایسا ہی ہے لیکن شریعت نے کل پانی کو جو مُحدِث کے جسم پر بہا گیا ہے مستعمل قرار دیا ہے کیونکہ وہ شیئ واحد ہے اور متصل ہے۔
میں کہتا ہوں اسی طرح ہر تھوڑا پانی حکم شرعی کے اعتبار سے شیئ واحد ہے اور حسّی اعتبار سے متصل ہے اور یہ چیز بہائے پانی میں بہانے کی وجہ سے نہیں ہے بلالکہ اس کی قلت کی وجہ سے ہے ، اس لئے تالاب کا کل پانی بیک وقت ناپاک ہوجاتا ہے جبکہ اس میں نجاست کا کوئی قطرہ گر جائے ، اور یہ اسی لئے ہے کہ وہ شَے واحد کی طرح ہے ، اُس کے ایک جُزء سے ملاقات کل سے ملاقات ہے ، جیسا کہ ہم نے بیان کیا تو جب مُحدِث نے اپنا ہاتھ برتن میں ڈالا تو برتن میں جو کچھ تھا اُس سے ہاتھ کی ملاقات ہوگئی ، یہ نہیں کہ صرف اس کی متصل سطح سے ملاقات ہوئی اور اسی میں مقصود ہے ، اگر کہا جائے کہ استعمال میں مؤثر بہانا ہے تو کل بہایا ہوا مستعمل شمار ہوگا تو کل مستعمل ہوگا۔
تو میں کہوں گا ہمارے نزدیک مکلّف کے فعل کا کوئی دخل نہیں ، موثر تو صرف یہ ہے کہ تھوڑا پانی شرعاً ایک شَے ہے خواہ وہ فرض کو ساقط کرے یا قربۃ ادا کرے اور یہ دونوں صورتوں میں حاصل ہے۔ اور رابعاً اور یہی(بیسواں)ہے ، اگر ایک طشت میں پانی ہے اور مُحدِث یہ چاہتا ہے کہ اس سے اپنا ہاتھ دھوئے ، تو اس کے دو طریقے ہیں ایک تو یہ کہ اس کو ہاتھ پر بہائے تو پانی حَدَث پر واقع ہوگا اور یا یہ کہ ہاتھ کو طشت میں ڈال دے
فان صبہ کلہ علی یدہ یصیر کلہ مستعملا قطعا باجماع اصحابنا وان کان یکفیہ بعضہ وقد اسرف لکن لامساغ لان یقال انما استعمل قدرما یکفیہ والفضل بقی علی طھوریتہ فکذا اذا ادخل یدہ فی کلہ وغسلہا ھناک وای فرق بینھما وبالله التوفیق۔
وخامسا اقول : وبالله التوفیق(۱)وھوالحادی والعشرون : الاستعمال مبنیا للمفعول ای صیر ورۃ الماء مستعملا لایمکن ثبوتہ لا یلاقی بدن المحدث وھو سطح الماء الباطن لان الاستعمال انسلاب الطھوریۃ فلا یثبت الافیما کان طھورا کما ان الموت لایلحق الاما کان حیا ومعلوم ان الطھوریہ صفۃ جرم الماء قال الله عزوجل “ وَ اَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً طَهُوْرًاۙ “ [1]وقال تبارک وتعالی وَ یُنَزِّلُ عَلَیْكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ مَآءً لِّیُطَهِّرَكُمْ بِهٖ[2] لاصفۃ احدا اطرافہ التی لاوجود لھا الا بالانتزاع علی فرض اتصال الاجسام ولافی الغسل صفۃ طرف لا یتجزی لانہ اسالۃ ولا اسالۃ الا بالجسم والا ففیم یمتاز عن المسح ، وبعبارۃ اخری ھل استعمال الماء عدم صلوحہ للتوضی بہ ام سقوط
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع