30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
عشرین واربعین والکل بان الفارۃ یجاورھا من الماء عشرون دلو الصغر جثتہا فحکم بنجاسۃ ھذا القدر لان ماوراءہ لم یجاور الفأرۃ بل جاور ماجاور الفأرۃ والشرع ورد الی اخرمامر ، (۳)فکتبت علیہ ان لوفرض عدم التنجیس بالفأرۃ الالقدر عشرین لزم فساد الکل للاختلاط بحیث لایمتاز ثم رأیت العلامۃ ابن امیرالحاج ذکرفی الحلیۃ الوجھین الاولین بعبارات مطنبۃ مفیدۃ کما ھو دابہ رحمہ الله تعالٰی
علیہ وسلم نے اُس پانی کے پاک ہونے کا حکم دیا جو اس گھی سے متصل ہے جو چُوہے سے متصل ہے اور جو گھی چُوہے کے متصل ہے وہ ناپاک ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ نجس کے متصل کا متصل اگر اس پر نجاسۃ کا حکم لگایا جائے تو جو متصل کے متصل کے ساتھ متصل ہوگا اس پر بھی نجاست کا حکم لگایا جائے گا اور یہ سلسلہ لامتنا ہی چلے گا ، اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ اگر پیشاب کا ایک قطرہ یا چُوہیا بڑے سمندر میں گرجائے تو تمام کا تمام پانی ناپاک ہوجائے گا کیونکہ پانی کے تمام اجزاء ایک دوسرے سے متصل ہیں ، ا ور یہ غلط ہے اھ۔ میں نے اس کی تردید تین طرح کی ہے اور یہ وجوہ میں نے اپنے بدائع کے نسخہ کے حاشیہ پر ذکر کی ہیں : (۱)گفتگو جامد چیز میں ہے تو سرایت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ (۲)شریعت نے کثیر اور جاری پانی کے بارے میں یہ حکم دیا ہے کہ وہ اس وقت تک ناپاک نہ ہوگا جب تک اس کے اوصاف میں سے کسی ایک وصف میں تبدیلی نہ ہوجائے اور تھوڑا پانی شیئ واحد ہے ، اس میں متصل کا متصل ، متصل ہے۔ )۳)شیخ امام نے یہ اس لئے بیان کیا ہے کہ چُوہیا ، بلّی اور بکری جو کنویں میں گِر جائے ان کے حکم میں فرق ظاہر ہوجائے ، بیس ، چالیس ڈول اور
فقال فی الاول معلوم ان الماء لیس بشیئ کثیف یمنع کثافتہ سریان النجاسۃ الواقعۃ فیہ من محلھا الذی حلت بہ الی غیرہ کما فی السمن الجامد لیقع الاقتصارفی التنجیس علی الجار المتصل دون غیرہ بل ھو مائع رقیق لطیف تعین لطافتہ ورقۃ اجزائہ مع الاضطراب العارض لہ بواسطۃ الاخذ منہ علی سرایۃ النجاسۃ الی سائر اجزائہ ثم ذکر الثانی بعد کلام اٰخر [1]۔
والاٰن اقول : (۱)السمن الجامد ھل یقبل التنجس بجوار النجس ام لاعلی الثانی لم امر صلی الله تعالی علیہ وسلم بتقویر ماحول الفأرۃ وسلمتم نجاستہ وعلی الاول اذا فرض ان جار النجس نجس وھلم جراوجب تنجیس ما یجاور ھذا المأمور بتقویرہ لکونہ مجاورا لھذا النجس وان لم یجاور الفارۃ فلا یجدی الفرق باللطافۃ والکثافۃ بل لقائل ان
کل پانی نکالا جائیگا۔ چُوہیا کے ساتھ پانی کے بیس ڈول متصل ہیں کیونکہ اس کا جسم چھوٹا ہے تو اتنی ہی مقدار پانی کی نکالی جائے گی کیونکہ اس مقدار کے علاوہ پانی چُوہیا کے متصل نہیں ہے بلکہ جو چُوہیا سے متصل ہے اس کے متصل ہے اور حکم شرعی اس کی مثل وارد ہوا ہے۔ ۔ الخ۔ میں نے اس پر لکھا ہے کہ اگر یہ فرض کیا جائے کہ چُوہیا سے صرف بیس ڈولوں کی مقدار نجس ہوگی تو کُل کا فساد لازم آئیگا کہ اختلاط ہوا ہے اور امتیاز ختم ہوگیا۔ پھر میں نے علامہ ابن امیر الحاج کو دیکھا کہ انہوں نے حلیہ میں دو پہلی وجوہ مفصل عبارات سے لکھی ہیں ، جیسا کہ ان کا اسلوب ہے ، پہلی میں فرمایا یہ معلوم ہے کہ پانی کثیف شیئ نہیں کہ اس کی کثافت اس نجاست کی سرایت کو مانع ہو جو اس میں گری ہے ، جیسا جامد گھی ، تاکہ ناپاکی صرف متصل تک ہی محدود رہے دوسرے تک تجاوز نہ کرے ، بلکہ پانی مائع ہے رقیق ہے لطیف ہے اس کی لطافت واجزاء کی رقت عارض ہونے والے اضطراب کے ساتھ ، دوسرے تمام اجزاء تک نجاست کے سرایت کرنے میں معاون ہے ، پھر دوسری وجہ دوسرے کلام کے بعد ذکر کی۔ (ت)
اور اب میں کہتا ہوں منجمد گھی نجس کے ملنے کی وجہ سے نجس ہونے کو قبول کرے گا یا نہیں! دوسری تقدیر پر حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے چُوہیا کے ارد گرد کے گھی کو دُور کرنے کا حکم کیوں فرمایا اور تم نے اس کی نجاست تسلیم کرلی ، اور پہلی تقدیر پر جب یہ فرض کیا گیا کہ نجس کا پڑوسی نجس ہے اور ھلم جرا تو جو حصہ صفائی والی جگہ سے ملا ہوا ہے اس کو نجس کر دے گا کیونکہ وہ اس نجس کے مجاور ہے اگرچہ چُوہیا کے مجاور نہیں تو لطافت وکثافت کا فرق کچھ مفید نہ ہوگا ، بلکہ کوئی کہنے والا کہہ سکتا ہے
(۱)یقول اذا تنجس السمن حولھا فما یجاور ھذا السمن لیس جار جار النجس بل جار النجس وھکذا الی الاخر فان فرق بان السمن متنجس لانجس وجار النجس یتنجس لاجار المتنجس لزم ان لایتنجس الماء اذا القی فیہ ھذا السمن بعد التقویر لانہ لاقی متنجسا لانجسا وبہ یظھر مافی کلام ملک العلماء ویطوی ھذا البساط من اولہ۔
فاقول : وبالله التوفیق(۲)لیس سبب تنجس الطاھر مجاورتہ لنجس(۳)الا تری ان لولف ثوب نجس فی ثوب طاھر لم یتنجس الطاھر اذا کانا یابسین بل ولا اذا کانت فی النجس بقیۃ نداوۃ یظھر بھافی الطاھر مجرد اثر کمافی الدر والشامی وبیناہ فی فتاوٰنا بل ھو اکتساب الطاھر حکم النجاسۃ عند لقاء النجس وذلک یحصل فی الطاھر المائع القلیل بمجرد اللقاء وان کان النجس یابسالا بلۃفیہ وفی الطاھر الغیر المائع بانتقال البلۃ النجسۃ الیہ فلا بد لتنجیسہ من بلۃ تنفصل ثم یختلف الامر باختلاف جرم الطاھر لطافۃ وکثافۃ فالسرایۃفی اللطیف اکثر منھافی الکثیف وکذلک قد یختلف باختلاف زمن التجاور اذا عرفت ھذا فالسمن یقور ویلقی منہ قدر مایظن سرایۃ البلۃ النجسۃ الیہ ویبقی الباقی طاھرا لان التنجس لم یکن کہ جب چُوہیا کے اردگرد گھی نجس ہوگیا تو جو اس گھی کے مُجاور ہے وہ نجس کے متصل کا متصل نہیں ہے بلکہ نجس کا متصل ہے اور اسی طرح اخیر تک ، اگر یہ فرق کیا جائے کہ گھی متنجس ہے نجس نہیں ہے اور نجس کا متصل نجس ہوتا ہے نہ کہ متنجس کا متصل ، تو لازم آئے گا کہ پانی اس وقت نجس نہ ہو جب اس میں گھی نتھارنے کے بعد ملایا جائے کیونکہ اس کی ملاقات متنجس سے ہوئی نجس سے نہیں ہوئی ، اس سے ملک العلماء کے کلام کی خامی ظاہر ہوجاتی ہے اور بساط ابتدأ سے لپیٹ دی جاتی ہے۔
میں کہتا ہوں وباللہ التوفیق ، پاک کا ناپاک ہونا اس لئے نہیں ہے کہ وہ ناپاک سے متصل ہے مثلاً یہ کہ اگر ایک نجس کپڑا پاک کپڑے میں لپیٹ دیا جائے تو پاک ناپاک نہ ہوگا ، اگر وہ دونوں خشک ہیں بلکہ اس صورت میں بھی نجس نہ ہوگا جبکہ ناپاک میں تری باقی ہو جس کا محض اثر پاک پر ظاہر ہو ، جیسا کہ دُر اور شامی میں ہے اور ہم نے اس کو اپنے فتاوی میں بیان کیا ہے بلکہ وہ پاک کا نجاست کے حکم کو حاصل کرنا ہے نجس کے ملنے سے اور یہ اُس پاک میں ہوتا ہے جو مائع قلیل ہو ، اور یہ محض ملنے سے ہوگا اگرچہ نجس خشک ہو اور اس میں تری نہ ہو ، اور طاہر غیر مائع میں نجس تری اس کی طرف منتقل ہوگی تو اس کو ناپاک کرنے کیلئے تری کا ہونا ضروری ہے جو اس سے جُدا ہو ، پھر معاملہ پاک کے جرم کے اختلاف کی وجہ سے مختلف ہوگا ، یعنی لطافت وکثافت کے اعتبار سے ، تو لطیف میں بہ نسبت کثیف کے سرایت زیادہ ہوگی ، اور اسی طرح یہ اختلاف اتصال کے زمانہ کے اختلاف سے بھی پیدا
لمجاورۃ النجس حتی یقال ان السمن الذی بعدہ مجاور لہذا النجس بل لسرایۃ البلۃ وقد (۱) انتھت فظھران استشھاد ملک العلماء بمسألۃ السمن علی التفرقۃ بین الفأرۃ وما فوقھا لاوجہ لہ وانما الاٰبار تتبع الاٰثار ، وما احسن ماقال المحقق رحمہ الله تعالی فی فتح القدیرفی مسائل البئر من الطریق ان یکون الانسان فی ید النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم واصحابہ رضی الله تعالی عنہم کالاعمٰی فی یدالقائد [2] اھ۔ نسأل الله تعالٰی حسن التوفیق اٰمین۔ وثانیا : وھو(۲)الثامن عشر لیس مذھبنا ان النجس اذا وقع فی الماء القلیل لم ینجس منہ الاما اتصل بہ عینا والباقی باق علی طھارتہ وانما یمتنع استعمالہ مخافۃ استعمال النجس لاختلاطہ بہ بحیث لایمکن التمییز بل المذھب قطعا شیوع النجاسۃفینجس الکل وحینئذ۔ اقول : ماذا(۳)یشیع من النجاسۃ عینہا ام حکمہا ای یکتسب الماء بمجاورتہا حکمھا الاول باطل قطعا لما علمت من انجاس لاتختلط وایضا قطرۃ من بول مثلا کیف تمتزج بغدیر کبیر غیر کبیر فان قسمۃ الاجسام
ہوتا ہے ، جب تم نے یہ جان لیا تو گھی کو نتھارا جائے گا اور اس میں سے اتنی مقدار پھینک دی جائے گی جتنی اس کی طرف نجس تری کی سرایت کا گمان ہو اور باقی پاک رہے گا کیونکہ ناپاک ہونانجس کے اتصال کی وجہ سے نہ تھا کہ یہ کہا جائے کہ اس کے بعد والا گھی اس نجس کے مجاور(متصل)ہے بلالکہ اس کی نجاست تری کے اس کی طرف آجانے کی وجہ سے ہے اور تری ختم ہوچکی ہے ، تو معلوم ہوا کہ ملک العلماء کا استشہاد گھی کے مسئلہ سے چُوہیا اور اس سے بڑے جانور کے مسئلہ میں اختلاف کو ثابت کرنے کے لئے بلا وجہ ہے اور بیشک کُنویں آثار کے تابع ہوتے ہیں ، اور محقق نے فتح القدیر میں خوب فرمایا کنویں کے مسئلہ میں ، صحیح راستہ یہ ہے کہ انسان حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم اور آپ کے اصحاب کے ہاتھ میں اس طرح ہاتھ دے دے جیسے اندھا اپنے قائد کے ہاتھ میں ہاتھ دیتا ہے ، ہم اللہ تعالٰی سے احسن توفیق کے سائل ہیں۔ اور ثانیا(اور یہی اٹھارھواں ہے)ہمارا مذہب یہ نہیں ہے کہ جب نجاست تھوڑے پانی میں گر جائے تو صرف وہی پانی ناپاک ہوگا جو اس سے متصل ہے اور باقی پاک رہے گا اور اس کا استعمال اس لئے ممنوع ہوگا کہ کہیں اس میں ناپاک مل کر نہ آجائے اور پتا نہ چل سکے ، بلالکہ قطعی مذہب یہ ہے کہ نجاست تمام کو شامل ہوگی۔
اور اس صورت میں میں کہتا ہوں کہ نجاسۃ کے عموم سے کیا راد ہے کیا عین نجاست عام ہوگی یا اس کا حکم عام ہوگا؟ یعنی قریبی پانی پر بھی اس کا حکم لاگو ہوگا ، پہلی صورت تو قطعاً باطل ہے کیونکہ معلوم ہوچکا ہے کہ نجاستوں میں اختلاط نہیں پایا جاتا ہے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع