30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مستعمل قرار دیتے ہیں اور مستعمل کو نجس کہتے ہیں تو انکے نزدیک کنویں کا کُل پانی نکالا جائیگا جیسا کہ گزرا ، اور جب یہ حکم بلا قصد گرنے والے کا ہو تو پھر اس کا کیا حال ہوگا جو ٹھنڈک حاصل کرنے کیلئے قصداً غوطہ لگائے ، پھر انہوں نے نجاست حکمیہ والی شق کا ذکر کیا ہے اور وہاں انہوں نے یہاں کے برعکس حکم صحیح کی صراحت کی ، جیسا کہ آئے گا ، اور اگر یہاں جو کچھ ہے اس کو ضرورت پر محمول کرلیا جائے تو یہ بعید ہونے کے علاوہ اُن کے قول او التبرد کے مناقض ہے ، مگر یہ کہا جاسکتا ہے کہ انہوں نے اس کو بھی اسی میں شامل کرلیا ہے ، جیسا کہ آئیگا ، تو اس تسامح کی بنیاد پر یہ حمل صحیح ہے لیکن محفوظ نہیں ، اور اگر استطراد کو زائد کیا جائے اتنا کہ طاہر کو بھی شامل ہوجائے تو ایک تو امام ثانی کے قول کی تعمیم “ سواء
وجہ لتخصیص الحکم بالطاھر فان الکلام مسوق فی شق وان لم یکن طاھرا وقد قدم حکم الطاھر من قبل ، وبالجملۃ فالعبارۃ ھھنافیما وصل الیہ فھمی القاصر لاتخلو عن قلق وحزازۃ ولعلھا وقع فیھا من قلم الناسخین تغییر وتقدیم وتاخیر وکم لہ من نظیر فلیتأمل والله تعالی اعلم بمراد خواص عبادہ۔
الخامس عشر : ثم قال(۱)قدس سرہ تحت قولہ المار وان کان علی یدہ نجاسۃ حکمیۃ فقط مانصہ واما حکم المیاہ فالماء الاول مستعمل عند ابی حنیفۃ رضی الله تعالٰی عنہ لوجود ازالۃ الحدث والبواقی علی حالھا لانعدام مایوجب الاستعمال اصلا(ای لان الصورۃ مفروضۃفی الانغماس للتبرد اوطلب الدلو فلانیۃ قربۃ والحدث قدزال بالاول)وعند ابی یوسف ومحمد المیاہ کلھا علی حالھا اما عند محمد فظاھر لانہ لم یوجد اقامۃ القربۃ بشیئ منھا واما ابو یوسف فقد ترک اصلہ عند الضرورۃ علی مایذکر[1]اھ۔ فقد افادان لووجدت نیۃ القربۃ لصار الماء مستعملا عند الامام الربانیّ
انغمس۔ ۔ ۔ الخ “ اس کو قطعا شامل نہیں ، پھر اس پر یہ بھی اشکال ہے کہ شمول بے وضو کو نہیں نکالے گا تو یہ مطلق حکم کیسے لگایا جاسکتا ہے کہ تمام پانی اپنی حالت پر باقی ہیں ، اور حکم کو پاک کے ساتھ مخصوص کردینے کی کوئی وجہ نہیں کیونکہ گفتگو اس شق سے متعلق ہے کہ اگر پاک نہ ہو حالانکہ پاک کا حکم پہلے ہی گزر چکا ، اور خلاصہ یہ کہ میری ناقص فہم میں یہاں عبارت اضطراب سے خالی نہیں ، اور شاید اس میں ناسخین سے کچھ تغیّر ، تقدیم یا تاخیر واقع ہوئی ہے ، اور اس کی بہت نظائر ہیں ، غور کر اور اللہ تعالٰی زیادہ جانتا ہے اپنے خاص بندوں کے ارادوں کو۔
پندرھواں ، پھر انہوں نے ان کے گزرے ہوئے قول “ وان کان علی یدہ نجاسۃ حکمیۃ فقط “ کے تحت فرمایا بہر حال پانی ، تو پہلا پانی امام ابو حنیفہ کے نزدیک مستعمل ہے کیونکہ اس میں حدث کا ازالہ پایا جاتا ہے اور باقی اپنے حال پر باقی ہیں کہ وہاں کوئی ایسا سبب موجود نہیں جس کی بنا پر ان کو مستعمل قرار دیا جائے(یعنی مفروضہ تو یہ ہے کہ ٹھنڈک حاصل کرنے یا ڈول کی طلب میں غوطہ لگایا اور قربۃ کی نیت نہیں ہے ، اور حدث پہلے ہی سے زائل ہوگیا)اور ابو یوسف اور محمد کے نزدیک کل پانی اپنی حالت پر ہیں ، محمد کے نزدیک تو ظاہر ہے کیونکہ ان سے قربۃ ادا نہیں کی گئی ہے اور ابو یوسف نے ضرورت کی وجہ سے اپنی اصل کو چھوڑا ہے جیسا کہ ذکر کیا جاتا ہے اھ ۔ پس انہوں نے بتایا کہ اگر قربۃ کی نیت ہوگی تو پانی مستعمل ہوگا
ایضا بل ھو کذلک فان التحقیق انہ لایقصر الاستعمال علی نیۃ القربۃ کما تقدم۔
اقول : فھذہ صرائح نصوص المسألۃ عن ائمۃ المذھب رضی الله تعالی عنھم اتی بھا ملک العلماء فلا یعارضھا ماوقع منہ فی تعلیل اوجدل اما الجدل فظاھر(۱)والعلۃ ان صحت لزمت صحۃ الحکم ولاعکس لجواز ان تکون ھٰذہ باطلۃ والحکم معللا بعلۃ اخری وھھنا کذلک فان القول بنجاسۃ المستعمل معلل بوجوہ اخر ذکرت فی البدائع نفسھا والہدایۃ والکافی والتبیین وغیرھا وھذا العلامۃ قاسم قدرد علی ملک العلماء استدلالہ بھذا الحدیث فی رسالتہ ھذہ وقد تقدم قولہ انہ لایطابق عمومہ فروعھم المذکورۃفی الماء الکثیرفیحمل علی الکراھۃ۔ ۔ ۔ الخ وقال قبلہ حیث رد بعض کلام البدائع قولا قولا قولہ وروی عن النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم انہ قال لایبولن احدکم فی الماء الدائم ولا یغتسلن فیہ من الجنابۃ من غیر فصل بین دائم ودائم۔ ۔ ۔ الخ یقال علیہ انظر ھل انت من اکبر مخالفی ھذا الحدیث حیث قلت انت ومشائخک انہ یتوضؤ من الجانب الاخرفی المرئیۃ ویتوضؤ من ای جانب کان فی غیر المرئیۃ کما اذا بال فیہ انسان اواغتسل جنب ام انت من العاملین
امام ربانی کے نزدیک ، بلالکہ حقیقۃً یہی ہے کیونکہ تحقیق یہ ہے کہ مستعمل ہونا نیتِ قربۃ پر موقوف نہیں جیسا کہ گزرا۔
میں کہتا ہوں یہ تصریحات ہیں جو اس مسئلہ میں ائمہ مذہب سے منقول ہیں ، ان کو ملک العلماء نے ذکر کیا ہے ، ان کے معارض وہ عبارت نہیں ہوسکتی ہے جو انہوں نے علّت کے بیان کے وقت یا جدل کے طور پر بیان کی ہے ، جدل کی بات تو ظاہر ہے اور علّۃ اگر صحیح ہوئی تو حکم کی صحت کو لازم ہوگی ، اور اس کا عکس نہ ہوگا ، کیونکہ ممکن ہے کہ یہ علت باطلہ ہو اور حکم دراصل کسی اور علۃ کی وجہ سے ہو ، اور یہاں یہی صورت حال ہے ، کیونکہ مستعمل پانی کی نجاست کا قول دوسری علتوں کی وجہ سے ہے جو بدائع میں مذکور ہیں ، ہدایہ ، کافی اور تبیین وغیرہا میں بھی یہی ہے ، اور علّامہ قاسم نے اپنے رسالہ میں ملک العلماء کے اس حدیث سے استدلال پر رَد کیا ہے اور ان کا یہ قول گزر چکا ہے کہ اس کے عموم اور ان کے مذکورہ فروع میں مطابقت نہیں پائی جاتی ہے جو ماءِ کثیر سے متعلق ہیں تو اس کو کراہت پر محمول کیا جائے گا الخ اور اس سے قبل فرمایا جہاں انہوں نے بدائع کے بعض کلام کو رد کیا ہے ، اور ایک ایک بات کا رد کیا ہے کہ ان کا قول کہ روایت کیا گیا ہے کہ حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص ٹھہرے ہوئے پانی میں ہرگز پیشاب نہ کرے اور نہ ہی غسلِ جنابت کرے ، اس میں کوئی تفصیل نہیں ہے ایک ٹھہرے ہوئے اور دوسرے ٹھہرے ہوئے کے درمیان ۔ ۔ ۔ الخ
بہ فانہ لااعجب ممن لیستدل بحدیث ھو احد من خالفہ اھ۔ وھذا مااشار الیہ بقول لایطابق عمومہ۔ ۔ ۔ الخ۔
اقول : رحمکم الله جاوزتم الحدفی الاخذ والرد فاولا(۱)ماقالوہ انما ھوفی الکثیر والکثیر ملحق بالجاری والحدیث فی الدائم ثانیا : (۲)الکراھۃ ان ارید بہا کراھۃ التحریم لم یلائم قولہ وبذلک اخبر راوی الخبر قال کنا نستحب الی اخرمامر مع انھا لاتفید کم اذلولم یتغیر بہ الماء لم یکن وجہ للنھی عنہ الاتری ان الماء الکثیر لعدم تغیرہ یجوز الاغتسال فیہ اجماعا کمافی البدائع وقد استدل ھو علی نجاسۃ الماء المستعمل وشیخکم المحقق علی الاطلاق علی انسلاب الطہوریۃ عنہ بھذا النھی المفید کراھۃ التحریم وان ارید بہا کراھۃ التنزیہ فعدول عن الحقیقۃ من دون ضرورۃ ملجئۃ ولا یلائمہا نون التأکیدفی قولہ صلی الله تعالی علیہ وسلم لایغتسلن وقددفع العلامۃ الاکمل فی العنایۃ کراھۃ التنزیہ بان تقییدہ بالدائم ینافیہ فان الماء الجاری
اس پر یہ کہا جائے گا غور کرو کیا تم اس حدیث کے بڑے مخالفین میں سے ہو۔ کیونکہ تم نے اور تمہارے مشائخ نے کہا ہے کہ اگر نجاست نظر آرہی ہو تو دوسرے کنارے سے وضو کرلے اور اگر نظر نہ آتی ہو تو جس کنارے سے چاہے وضو کرے ، جیسے کسی انسان نے اس پانی میں پیشاب کیا یا جنب نے غسل کیا۔ یا تم اس حدیث پر عمل کرنے والوں میں سے ہو ، اس سے زیادہ تعجب خیز بات کیا ہوگی کہ جو شخص اس حدیث کا مخالف ہے وہی اس حدیث سے استدلال بھی کرتا ہے اھ اور یہ ہے وہ بات جس کی طرف انہوں نے اپنے قول لایطابق عمومہ میں اشارہ کیا تھا الخ۔
میں کہتا ہوں اللہ تم پر رحم کرے تم نے قبول کرنے اور رد کرنے دونوں میں حد سے تجاوز کیا ہے اول تو یہ کہ جو کچھ انہوں نے فرمایا ہے وہ کثیر پانی کی بابت ہے اور کثیر جاری کے حکم میں ہے اور حدیث ٹھہرے ہوئے پانی سے متعلق ہے۔
ثانیاً : اگر کراہت سے مراد کراہت تحریم ہے تو یہ ان کے قول کے موافق نہ ہوگی ، اور اسی کی خبر حدیث کے راوی نے دی فرمایا “ کنا نستحب الخ “ پھر یہ آپ کیلئے مفید نہیں ، اس لئے کہ اگر اس کی وجہ سے پانی میں تغیر نہ ہوتا تو اس سے منع کرنے کی کوئی وجہ نہ ہوتی ، مثلاً کثیر پانی کہ وہ متغیر نہیں ہوتا اس سے غسل کرنا بالاجماع جائز ہے ، جیسا کہ بدائع میں ہے اور اس نے خود اس سے مستعمل پانی کے نجس ہونے پر استدلال کیا ہے اور آپ کے شیخ محقق نے پانی سے طہوریۃ کے سلب ہوجانے پر استدلال کیا ہے ، اور دلیل ، یہی نہی ہے جو کراہت تحریمی کو ظاہر کرتی ہے اور اگر اس سے کراہت تنزیہی کا ارادہ کیا جائے تو یہ حقیقت سے بلا اشد ضرورت کے انحراف کرنا ہے
یشارکہ فی ذلک المعنی فان البول کما انہ لیس بادب فی الماء الدائم فکذلک فی الجاری فلا یکون للتقیید فائدۃ وکلام الشارع مصون عن ذلک [2] اھ۔ وقد قال فی المجتبی اما البول فیہ(۱)فمکروہ قلیلا کان اوکثیرا دائما اوجاریا وسمی ابو حنیفۃ رضی الله تعالٰی عنہ من یبول فی الماء الجاری جاھلا [3] اھ۔ کمافی ابن الشلبی علی التبیین۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع