30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
الحدث فیقع الدور فقطعنا الدور من الابتداء فقلنا انہ لایزیل الحدث عنہ فبقی ھو بحالہ والماء علی حالہ [1] اھ۔ وبالجملۃ لااستقامۃ لہذا علی قول ابی یوسف اصلا الابان یقال انہ مبنی علی طہارۃ الماء المستعمل عندھم جمیعاوھو قول صحیح قد قواہ ملک العلماء وجعلہ مختار المحققین وان مشی فی مواضع کثیرۃ علی نسبۃ التنجیس الی الشیخین کما اشتھر فعلی ھذا تکون المسألۃ نصا عن ائمتنا الثلثۃ علی سریان حکم الاستعمال الی جمیع الماء مع طھارتہ والله سبحنہ وتعالٰی اعلم۔
اس کو کنویں میں ڈول نکالنے یا ٹھنڈک حاصل کرنے کیلئے داخل کرتا ہے تو وہ اول(یعنی پہلا پانی کیونکہ مسئلہ اس مفروضہ پر ہے کہ کئی پانیوں میں ہاتھ ڈبویا)سے پاک نکلے گا ، یہ ابو حنیفہ اور محمد کے نزدیک ہے ، یہی صحیح ہے کیونکہ جنابت ایک ہی مرتبہ ڈبونے سے زائل ہوگئی اور ابو یوسف کے نزدیک وہ نجس ہے ، اور وہ کبھی پاک نہ ہوگا۔ اگر آپ اس کو یہاں ضرورت پر محمول کریں کیونکہ بدائع میں ہے “ بہرحال ابو یوسف نے اپنی اصل کو ضرورت کے وقت ترک کیا ہے ، جیسا کہ اُن سے مروی ہے اور بشر نے ان سے روایت کی ہے کہ سب کے سب پانی نجس ہیں اور یہی چیز ان کے مذہب سے لگّا کھاتی ہے۔
دفعہ ۸۰۹ : جو یہاں گزرا کہ پانی مستعمل ہے اور آدمی پاک ہے ، امام ثانی کے قول کے برعکس ہے ضرورت کی حالت میں ، کیا آپ نہیں دیکھتے کہ ان کا مذہب کنویں کے مسئلہ “ جحط “ میں “ ح “ ہے یعنی پانی اپنی سابقہ حالت پر پاک ہے اور انسان بھی جیسا کہ پہلے تھا ناپاک ہے۔ بدائع میں فرمایا ابو یوسف فرماتے ہیں اس اصل پر عمل لازم ہے(یعنی یہ کہ پہلی ملاقات ہی میں حکم ثابت ہوجاتا ہے)ہاں ضرورت کے وقت اس کو ترک بھی کرسکتے ہیں ، جیسے جنب اور بے وضوجب برتن میں سے پانی لینے کیلئے اپنے ہاتھ ڈبوئیں تو پانی مستعمل نہ ہوگا اور حدث بھی زائل نہ ہوگا کیونکہ یہاں ضرورت موجود ہے ، کیونکہ یہ پانی اگر مستعمل ہوتا تو حَدَث کے زائل کرنے کی وجہ سے ہوتا ، اور اگر یہ حدث کو زائل کرتا تو ناپاک ہوجاتا اور
الرابع عشر : (۱) ثم قال قدس سرہ فی من انغمس فی ثلثۃ اٰبار واکثر عندھما(ای الطرفین رضی الله تعالٰی عنہما)ان انغمس لطلب الدلواوالتبرد فالمیاہ باقیۃ علی حالھا وان کان الانغماس للاغتسال فالماء الرابع فصاعدا مستعمل لوجود اقامۃ القربۃ [2] اھ۔ فانظر علی ای شیئ حکم بکونہ مستعملا الماء الرابع فصاعد الا خصوص مالاقی منہ سطح البدن۔
قلت والمعنی جمیع المیاہ من اولہا وانما خص الرابع فما فوقہ بالذکر دفعا لتوھم انہ یقتصر حکم الاستعمال علی المیاہ الثلثۃ الاول اذ لاقربۃ بعد التثلیث فالرابع وما بعدہ لایصیر مستعملا لعدم السببین فنبّہ علی بطلانہ بان ذلک عند اتحاد المجلس ولا مساغ لہ فی باب الاٰبار
اگر ناپاک ہوتا تو حدث کو زائل نہ کرتا ، اور جب حدث کو زائل نہیں کیا تو پاک رہا اور جب پاک رہا تو حدث کو زائل کرے گا تو دور لازم آئے گا ، تو ہم نے دور کو ابتداء ہی سے قطع کیا اور وہ اس طرح کہ یہ پانی حدث کو زائل نہیں کرتا ہے تو انسان اپنی حالت پر رہا اور پانی اپنی حالت پر رہا اھ۔ خلاصہ یہ کہ ابو یوسف کے قول پر یہ قول کسی طرح درست نہیں بیٹھتا ہے ، اس کی محض ایک ہی صورت ہے اور وہ یہ کہ پانی ان تمام ائمہ کے نزدیک پاک ہے اور یہی قول صحیح ہے ، اس کو ملک العلماء نے قوی قرار دیا اور اس کو محققین کا مختار قرار دیا ، اگرچہ اکثر مقامات پر انہوں نے اس پانی کو شیخین کے نزدیک نجس قرار دیا ہے ، جیسا کہ مشہور ہے ، اس بنا پر یہ مسئلہ اس امر کی تصریح ہوگا کہ ہمارے تینوں ائمہ کے نزدیک استعمال کا حکم تمام پانی میں جاری ہوگا اور انسان پاک رہے گا ، والله سبحانہ وتعالٰی اعلم۔
چودھواں : پھر قدس سرہ نے فرمایا کہ جس شخص نے تین یا تین سے زیادہ کُنوؤں میں غوطہ لگایا تو ان دونوں(یعنی طرفین)کے نزدیک اگر ڈول کی تلاش میں لگایا ٹھنڈک حاصل کرنے کیلئے ، تو پانی اپنی حالت پر باقی رہیں گے ، اور اگر غوطہ خوری غسل کیلئے تھی تو چوتھا پانی اور اس کے بعد والے پانی مستعمل ہوں گے کہ ان سے قربۃ ادا ہوئی ہے اھ۔ تو دیکھے انہوں نے کس چیز پر مستعمل ہونے کا حکم لگایا ہے ، چوتھا پانی اور اس سے زائد خاص وہ پانی نہیں جس سے مُحدِث ملا۔
میں کہتا ہوں مراد یہ ہے کہ پہلے پانی سے لے کر تمام پانی مستعمل ہیں ، انہوں نے چوتھے اور اُس کے بعد والے کا خصوصی ذکر اس لئے کیا تاکہ یہ وہم نہ ہو کہ استعمال کا حکم صرف تین پانیوں تک ہی محدود ہے کیونکہ تثلیث کے بعد قربۃ باقی نہیں رہتی ہے تو چوتھا اور اس کے بعد والا مستعمل نہ ہوگا ، کیونکہ اس میں دونوں سبب موجود نہیں ہیں ، تو اس کے بطلان پر انہوں
اقول : (۱)لکن یشکل علیہ انہ رحمہ الله تعالٰی اما ذکر ھذافی من کان علی بدنہ نجاسۃ حقیقیۃ لان عبارتہ ھکذا وان لم یکن طاھرا فان کان علی بدنہ نجاسۃ حقیقیۃ وھو جنب اولا فانغمس فی ثلثۃ اٰبار اواکثر من ذلک لایخرج من الاولی والثانیۃ طاھرا بالاجماع ویخرج من الثالثۃ طاھرا عند ابی حنیفۃ ومحمد رضی الله تعالی عنہما والمیاہ الثلثۃ نجسۃ لکن نجاستھا علی التفاوت علی ماذکرنا وعند ابی یوسف کلھا نجسۃ والرجل نجس سواء انغمس لطلب الدلواوالاغتسال وعندھما ان انغمس لطلب الدلواوالتبرد فالمیاہ باقیۃ علی حالھا [3]۔ ۔ ۔ الخ۔ وکیف تبقی علی حالہا والفرض ان علی بدنہ نجاسۃ حقیقیۃ الا ان یقال انتھی الکلام علیھا الی قولہ المیاہ کلھا نجسۃ والرجل نجس وقولہ سواء انغمس لطلب الدلو۔ ۔ ۔ الخ۔ بیان لعدم اقتصار الحکم عند ابی یوسف علی النجاسۃ الحقیقیۃ بل کذلک الحکمیۃ کما قدمنا ان عند ابی یوسف ھو نجس ولا یخرج طاھرا ابدا فلما استطرد ھذا ابان خلاف الطرفین فیہ ان ھذا التعمیم لیس عندھما ۔ ویکدرہ ان
نے متنبّہ کیا کہ یہ اتحاد مجلس کی صورت میں ہے ، اور یہ چیز مختلف کُنوؤں میں نہیں پائی جاتی ہے۔
میں کہتا ہوں اس پر اشکال یہ ہے کہ انہوں نے یہ حکم اس شخص کا بیان کیا ہے جس کے بدن پر حقیقی نجاست ہو ، ان کی عبارت اس طرح ہے “ پس اگر وہ پاک نہیں ہے تو یا تو اس کے بعدن پر حقیقی نجاست ہوگی ، اور وہ جنب ہوگا یا نہیں ، ایسا شخص اگر تین کُنووں میں غوطہ لگائے یا زیادہ میں تو پہلے اور دوسرے سے بالاجماع پاک نہیں نکلے گا اور تیسرے سے ابو حنیفہ اور محمد کے نزدیک پاک نکلے گا اور تینوں پانی نجس ہیں ، مگر ان کی نجاست مختلف ہے جیسا کہ ہم نے ذکر کیا ، اور ابو یوسف کے نزدیک سب نجس ہیں ، اور انسان بھی نجس ہے ، خواہ اس نے ڈول نکالنے کیلئے غوطہ لگایا ہو یا غسل کرنے کیلئے ، اور طرفین کے نزدیک اگر ڈول نکالنے کیلئے یا ٹھنڈک حاصل کرنے کیلئے غوطہ لگایا تو پانی اپنی حالت سابقہ پر باقی ہے۔ ۔ ۔ الخ۔ لیکن یہ کیسے ہوسکتا ہے جبکہ فرض یہ کیا گیا ہے کہ اُس کے بدن پر حقیقی نجاست ہے۔ ہاں اگر یہ کہا جائے کہ ان کا کلام المیاہ کلھا نجسۃ والرجل نجس پر پورا ہوا اور ان کا قول سواء انغمس لطلب الدلو۔ ۔ ۔ الخ۔ اس امر کا بیان ہے کہ ابو یوسف کے نزدیک حکم نجاسۃ حقیقیہ پر مقصور نہیں ہے بلالکہ حکمیہ کا بھی یہی حال ہے جیسا کہ ہم ذکر کر آئے ہیں کہ ابو یوسف کے نزدیک انسان ناپاک ہے تو کبھی پاک نہ ہوگا ، اس سے
الکلام المستطرد اذنفی النجاسۃ الحکمیۃ فکیف یقول عندھما ان انغمس لطلب الدلو اوالتبرد فالمیاہ باقیۃ علی حالھا فان عند الامام رضی الله تعالی عنہ یصیر الماء مستعملا بازالۃ الحدث وان لم ینوبل کذلک عند محمد ایضا عند التحقیق ، (۱)وقدقال فی البدائع فی اٰدمی وقع فی البئر ان کان علی بدنہ نجاسۃ حکمیۃ فعلی قول من جعل ھذا الماء مستعملا والمستعمل نجسا ینزح ماء البئر کلہ [4] کما تقدم ، فاذا کان ھذافی الواقع بلا قصد فکیف فی المنغمس قصد ا للتبرد ثم(۲)قد اتی بشق النجاسۃ الحکمیۃ بعد ھذا وصرح فیہ بالحکم الصحیح علی خلاف ماھنا کما سیأتی وان حمل ماھنا علی الضرورۃ فمع بعدہ یاباہ قولہ او التبرد الا ان یقال انھم قد ادخلوہ فیہا کما یأتی فبناء علی ھذا التسامح یصح ھذا الحمل غیر انہ لایسلم فان زید الاستطراد حتی یشمل الطاھر فمع ان التعمیم المذکورفی قول الامام الثانی سواء انغمس۔ ۔ ۔ الخ لم یکن لیشملہ قطعا یعکر علیہ ان الشمول لایخرج المحدث فکیف یصح اطلاق الحکم بان المیاہ باقیۃ علی حالھا ولا معلوم ہوا کہ اس میں طرفین کا خلاف ہے ، کہ یہ تعمیم اُن دونوں کے نزدیک نہیں ہے۔
اس پر یہ اعتراض ہے کہ کلام مستطرد نجاست حکمیہ کی بابت ہے تو پھر یہ کیسے فرمایا کہ طرفین کے نزدیک اگر ڈول نکالنے یا ٹھنڈک حاصل کرنے کیلئے غوطہ لگایا تو پانی اپنی حالت پر باقی ہیں کیونکہ امام کے نزدیک پانی حدث کے ازالہ سے مستعمل ہوجائیگا اگرچہ اُس نے نیت نہ کی ہو ، بلکہ تحقیق یہ ہے کہ امام محمد کے نزدیک بھی یہی حکم ہے ، بدائع میں ہے کہ اگر کوئی انسان کُنویں میں گر گیا تو اگر اس کے بدن پر نجاست حکمیہ ہے توجولوگ اس پر پانی کو
[1] بدائع الصنائع فصل فی الطہارۃ الحقیقیۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۷۰
[2] بدائع الصنائع فصل فی الطہارۃ الحقیقیۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۷۰
[3] بدائع الصنائع فصل فی الطہارۃ الحقیقیۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۷۰
[4] بدائع الصنائع فصل اما بیان المقدار الذی یصیر بہ المحل نجسا ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۷۴
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع