دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 2 | فتاوی رضویہ جلد ۲

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۲

ای فلا یفسد قلیلہ لان غیر المستعمل اکثر الثانی :  قال وقال(۱)محمد فی کتاب الاثار بعد روایۃ حدیث عائشۃ رضی الله تعالی عنہا ولا باس ان یغتسل الرجل مع المرأۃ بدأت قبلہ او بدأ قبلھا [1]  قال اذا عرفت ھذا لم تتأخر عن الحکم بصحۃ الوضوءمن الفساقی الموضوعۃ فی المدارس عند عدم غلبۃ الظن بغلبۃ الماء المستعمل او وقوع نجاسۃ فی الصغار منھا قال فان قلت اذا تکرر الاستعمال ھل یمنع قلت الظاھر عدم اعتبار ھذا المعنی فی النجس فکیف بالطاھر قال قال فی المبتغی(وھو الثالث)قوم یتوضؤن صفا علی شاطیئ النھر جاز فکذا فی الحوض لان حکم ماء الحوض فی حکم ماء جار انتھی [2]۔                        

تبدیل نہیں کرے گا جیسے دودھ ، اور شیخین کے نزدیک اس کی وجہ یہ ہے کہ تھوڑے سے بچنا ممکن نہیں اس لئے معاف ہے پھر امام محمد کے نزدیک کثیر وہ ہے جو مطلق پانی پر غالب آجائے۔ اور شیخین کے نزدیک یہ ہے کہ قطرہ کی جگہ برتن میں ظاہر ہوجائے ، انتہیٰ ، فرمایا تمہیں معلوم ہوچکا ہے کہ صحیح مفتی بہ محمد کی روایت ابو حنیفہ سے ہے اھ یعنی قلیل پانی کو فاسد نہیں کرتا ہے کیونکہ غیر مستعمل زائد ہے۔

 ثانی : فرمایا ، محمد نے کتاب الاثار میں حضرت عائشہ کی اس حدیث۔ کوئی حرج نہیں کہ مرد عورت کے ساتھ غسل کرے خواہ مرد پہل کرے یا عورت۔ کے بعدفرمایا کہ اس سے بآسانی یہ نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ مدارس میں جو برتن رکھے ہوتے ہیں اُن سے غسل کرلینے میں حرج نہیں ، جبکہ یہ ظن غالب نہ ہو کہ مستعمل پانی غالب ہوگیا ہے یا چھوٹے برتن میں نجاست پڑچکی ہے۔ فرمایا اگر تم یہ کہو کہ جب استعمال بار بار ہو تو کیا وضو یا غسل منع ہے؟ میں کہتا ہوں بظاہر اس وصف کا اعتبار نجس پانی میں نہ ہوگا تو طاہر میں کیسے ہوگا؟ فرمایا کہ انہوں نے مبتغیٰ میں فرمایا(یہ تیسرا ہے)اگر کچھ لوگ صف باندھ کر نہر کے کنارے پر وضو کریں تو جائز ہے ، حوض کا بھی یہی حکم ہے کیونکہ حوض کا پانی جاری پانی کے حکم میں ہے انتہیٰ۔

قلت :  ای ان المنع انما یکون لسقوط الغسالۃ فیھا اولادخال المحدثین ایدیھم فیھا والکل غیر مانع علی ماتقرر عندہ ثم اتی باثار بعضھا فی الملاقی وبعضھا فی الملقی فقال وقدروی ابن ابی شیبۃ عن الحسن فی الجنب یدخل یدہ فی الاناء قبل ان یغسلہا قال یتوضؤبہ ان شاء وعن سعید بن المسیب لاباس الجنب عــہ١ یدہ فی الاناء قبل ان یغسلھا [3] وعن عائشۃ بنت سعد قالت کان سعد یامرالجاریۃ بتناولہ الطھور من الحوض فتغمس یدھا فیھا فیقال انھا حائض فیقول انا حیضتہا وعن عامر قال کان اصحاب رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم یدخلون ایدیھم فی الاناء وھم جنب والنساء حیض لایرون بذلک بأسا یعنی قبل ان یغسلوھا وعن ابن عباس فی الرجل یغتسل من الجنابۃ فینضح فی انائہ من غسلہ فقال لاباس بہ [4] وعن الحسن وابراھیم والزھری وابی جعفر وابن سیرین نحوہ قال فان قلت فما محمل حدیث لایبولن احدکم فی الماء الدائم ولا یغتسلن                                                                               

میں کہتا ہوں ، یعنی منع اس لئے ہے کہ دھوون اس میں گرتا ہے یا اس لئے کہ بے وضو لوگ اس میں اپنے ہاتھ ڈالتے ہیں اور یہ سب غیر مانع ہے جیسا کہ ان کے نزدیک مقرر ہے پھر انہوں نے اس کے بعض اثار ملاقی میں اور بعض ملقیٰ میں ذکر کیے پس فرمایا اور تحقیق ابن ابی شیبہ نے حسن سے جنب کے بارے میں روایت کی جو بے دھوئے اپنا ہاتھ برتن میں ڈالے تو فرمایا اگر چاہے تو اُس کے ساتھ وضو کرے ، اور سعید بن المسیب سے مروی ہے کہ جنب اگر اپنا ہاتھ دھونے سے قبل برتن میں ڈال دے تو حرج نہیں ، اور عائشہ بنت سعد کہتی ہیں کہ حضرت سعد باندی کو حکم دیتے تھے کہ وہ حوض سے پانی لا کر دے ، تو وہ حوض میں اپنا ہاتھ ڈبوتی تھی ، تو کہا جاتا تھا کہ وہ حائضہ ہے ، تو آپ فرماتے تھے : کیا میں نے اس کو حائضہ کیا ہے؟ اور عامر سے مروی ہے کہ اصحابِ رسول اللہ  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم اپنے ہاتھ پانی میں ڈالتے تھے جبکہ وہ جنب ہوتے تھے اور عورتیں حائض ہوتی تھیں اور یہ لوگ بلا ہاتھ دھوئے پانی میں ڈالنے میں ہرج نہیں سمجھتے تھے ، اور ابن عباس سے منقول ہے کہ اگر کوئی شخص غسلِ جنابت کرے اور اس کے چھینٹے برتن میں گریں تو اس میں حرج نہیں ، اور حسن ، ابراہیم : زہری ،

 

عــہ  کذا بالاصل ولعلہ ان یدخل الجنب یدہ  منہ۔ (م)

اصل میں اسی طرح ہے شاید یوں ہو “ ان یدخل الجنب یدہ “ ۔ (ت)

فیہ من الجنابۃ [5] قلت استدل بہ الکرخی علی عدم جواز التطہیر بالمستعمل ولا یطابق عمومہ فروعھم المذکورۃ فی الماء الکثیر فیحمل علی الکراھۃ وبذلک اخبر راوی الخبر فاخرج ابن ابی شیبۃ عن جابر بن عبدالله رضی الله تعالٰی عنہما قال کنا نستحب ان ناخذ من ماء الغدیر ونغتسل بہ ناحیۃ [6] قال وما ذکر من الفروع مخالفا لھذا فبناء علی روایۃ النجاسۃ کقولھم لوادخل جنب اومحدث اوحائض یدہ فی الاناء قبل ان یغسلھا فالقیاس انہ یفسد الماء وفی الاستحسان لایفسد للاحتیاج الی الاغتراف حتی لوادخل رجلہ یفسد الماء لانعدام الحاجۃ ولو ادخلھا فی البئر یفسد لانہ محتاج الی ذلک فی البئر لطلب الدلو فجعل عفواً ولو ادخل فی الاناء اوالبئر بعض جسدہ سوی الید والرجل افسدہ لانہ لاحاجۃ الیہ [7] وامثال ھذہ(ثم ذکر مسائل واٰثارا لا تتعلق بما نحن فیہ الی ان قال)وعن ابی جریج قال قلت لعطاء رأیت رجلا توضأفی ذلک الحوض متکشفا فقال لاباس بہ قدفعلہ ابن عباس رضی الله تعالٰی عنہما وقد علم انہ یتوضؤ منہ الابیض                                              

ابو جعفر اور ابن سیرین نے اسی قسم کی روایت کی ، فرمایا اگر کوئی کہے کہ پھر “ لایبولن احدکم فی الماء الدائم الخ “ حدیث کا کیا مفہوم ہوگا؟

میں کہتا ہوں کرخی نے اس سے استدلال کیا ہے کہ مستعمل پانی سے طہارت کا حاصل کرنا جائز نہیں ہے لیکن اس کا عموم زائد پانی میں ان کی فروع سے مطابقت نہیں رکھتا پس اسے کراہت پر محمول کیا جائے گا اور راویِ حدیث نے یہی خبر دی ہے۔ چنانچہ ابن ابی شیبہ نے جابر بن عبداللہ  سے روایت کی کہ ہم اس امر کو پسند کرتے تھے کہ تالاب سے پانی لے کر ایک کونے میں جاکر غسل کریں ، فرمایا اور جو فروع اس کی مخالف ہیں تو وہ نجاست کی روایت پر ہیں ، جیسے کسی جُنب یا محدث یا حائض نے اپنا ہاتھ برتن میں بلا دھوئے ڈالا ، تو قیاس چاہتا ہے کہ پانی خراب ہوجائے اور استحسان کی رُو سے فاسد نہ ہوگا ، کیونکہ چُلّو بھرنے کی حاجت ہوتی ہے یہاں تک کہ اگر کسی نے برتن میں پیر ڈال دیا تو پانی خراب ہوجائے گا کیونکہ ضرورت نہیں ، اور اگر پیر کُنویں میں ڈالا تو پانی خراب نہ ہوگا کیونکہ کُنویں سے ڈول پانی خراب ہوجائے گا کیونکہ اس کی کوئی ضرورت نہیں ، نکالنے کیلئے پیر ڈالنے کی ضرورت ہوتی ہے تو اس کو معاف کردیا گیا ہے اور اگر برتن یا کُنویں میں ہاتھ پَیر کے علاوہ جسم کا اور کوئی حصّہ ڈالا تو  اور اسی کی مثل دوسری چیزیں ہیں(پھر انہوں نے ایسے مسائل اور آثار ذکر کئے جن کا

والاسود وفی روایۃ وکان ینسکب من وضوء الناس فی جوفھا قال وکأنھم رأوا حدیث المستیقظ خاصا بہ او انہ امر تعبدی علی أن ابن ابی شیبۃ قد روی عن أبی معویۃ عن الاعمش عن ابرھیم قال کان اصحاب عبدالله رضی الله تعالی عنہ اذا ذکر عندھم حدیث ابی ھریرۃ رضی الله تعالی عنہ قالوا کیف یصنع أبو ھریرۃ بالمھراس الذی بالمدینۃ [8] اھ فھذا کل ما أتی ٭بہ فی ھذا الباب فی کتابہ ٭رحمہ الله تعالٰی فی ماٰبہ۔

اقول :  وبالله التوفیق الکلام فیہ من وجوہ الاوّل(۱)من العجب استنادہ رحمہ الله تعالی بعبارۃ المبتغی فلیس فیھا أثر مما ابتغی لان کلامہ عــہ فی الحوض الکبیر الاتری إلی قولہ إن ماء الحوض فی حکم ماء جار ومعلوم قطعا أن ذلک انما ھوفی الحوض     

 



[1]   کتاب الاثار باب غسل الرجل والمرأۃ من اناء واحد  ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ص۱۰

[2]   الاشتباہ عن مسألۃ المیاہ

[3]   مصنفہ ابن ابی شیبہ فی الرجل یدخل یدہ فی الاناء وہوجنب ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ۱ / ۸۲

[4]   مصنفہ ابن ابی شیبہ فی الرجل الجنب یغتسل وینفح من غسلہ فی اناء ایضاً  ۱ / ۷۲

[5]   مصنّف ابن ابی شیبۃ  من کان یکرہ ان یبول فی الماء الراکد ادارۃ القرآن کراچی ۱ / ۱۴۱

[6]   مصنف ابن ابی شیبۃ الرجل ینتہی الی البئر والغدیر وہوجنب  ادارۃ القرآن کراچی

[7]   بدائع الصنائع  فصل فی الطہارۃ الحقیقیۃ   سعید کمپنی کراچی ۱ / ۶۹

[8]       رسالہ علامہ قاسم

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن