30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
آدمی پاک ہے اور پانی پاک تو ہے مگر پاک کرنے والا نہیں اھ اور اسی میں ہے اگر کسی نے غسل کیلئے غوطہ لگایا تو پانی اتفاقا مستعمل ہوجائے گا اور حدث کا حکم جنابت والا ہی ہے ، اس کو بدائع میں ذکر کیا اھ اور اسی میں ہے کہ یہی حکم حائض اور نفاس والی عورت کا ہے جس کا خون منقطع ہوچکا ہو ، اور انقطاعِ خون سے قبل تو وہ دونوں اُس پاک شخص کی طرح ہیں جس نے ٹھنڈک حاصل کرنے کیلئے غوطہ لگایا تو پانی مستعمل نہ ہوگا ، فتاوٰی قاضی خان اور خلاصہ میں یہی ہے اھ۔ اور اسی میں ہے کہ قاضی اسبیجابی نے شرح مختصر طحاوی میں فرمایا کہ ایک جنب شخص نے ایک کنویں میں غسل کیا اور پھر دوسرے کنویں میں یہاں تک کہ دس کنوؤں میں غسل کیا ، تو محمد نے فرمایا تیسرے سے پاک نکلے گا ، پھر اگر اس کے بدن پر نجاست ہو تو تمام پانی نجس ہوجائیں گے(یعنی تینوں)اور اگر نجاست نہ ہو تو تینوں مستعمل ہوجائیں گے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
عـــہ۱ : اقول بل من الاولی لان التثلیث لیس الاسنۃ فکانہ اراد الطھارۃ المسنونۃ ثم لا یخفی التقیید بالمضمضۃ والاستنشاق اھ منہ۔
عـــہ۲ : اقول ان لم یحدث بعد الثالثۃ کما لایخفی اھ منہ
میں کہتا ہوں بلالکہ پہلے سے کیونکہ تثلیث تو سنت ہے گویا انہوں نے مسنون طہارت کا ارادہ کیا ہے پھر مضمضہ اور استنشاق کی قید لگانا مخفی نہیں اھ۔ ت
میں کہتا ہوں اگر تیسرے کے بعد حدث لاحق نہ ہوا ہو جیسا کہ مخفی نہیں۔ ت
وکذا صرحوا ان الماء یفسد اذا ادخل الکف فیہ وممن صرح بہ صاحب المبتغی بالغین المعجمۃ ا[1] اھ وفیہ قال الاسبیجابی والو لوالجی فی فتاواہ جنب اغتسل فی بئر ثم بئر الی اٰخر ماتقدم [2] اھ وفیہ قال الامام القاضی ابو زید الدبو سی فی الاسرار ان محمد ا یقول لما اغتسل فی الماء القلیل صار الکل مستعملا حکما [3] اھ فھٰذہ العبارۃ کشف اللبس واوضحت کل تخمین [4] وحدس اھ ولنقتصر علی ھذا القدر خاتمین بما اعترف البحر انہ کشف اللبس وازاح الحدس وھی کما تری نصوص صرائح تفید ان ملاقاۃ الماء القلیل لعضو علیہ حدث یجعلہ مستعملا سواء وردالماء علی العضو اوالعضو علی الماء علی سبیل النجاسۃ الحقیقیۃ فالماء نجس سواء وردت ھی علی الماء اوالماء علیھا وبالجملۃ کانت الفروع٭تأتی علی ھذا السنن المطبوع٭ والاقوال٭تنسج علی ھذا المنوال٭الی ان جاء الدور بتلامذۃ الامام المحقق علی الاطلاق٭ و دارت مسألۃ التوضی فی الفساقی
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پھر اگر تیسرے کنویں کے بعد اس نے نیت کی تو پانی مستعمل ہوجائے گا اگر نیت نہ کی تو مستعمل نہ ہوگا اور اسی کی مثل اُن سے منقول ہے اور خزانۃ المفتین میں محمد کا مذکور قول صحیح قرار دیا گیا ہے اور اس میں میں نے تین کے ارادہ کی تصریح دیکھی ہے ، جس طرح میں نے اس کی وضاحت بخوبی کردی ہے ، اور اسی طرح انہوں نے وضو میں اضافہ کیا ہے اور پھر میں نے منحہ میں سراج وہاج سے اس امر کی تصریح دیکھی کہ صرف تین مستعمل ہوں گے نہ کہ ان کے بعد والے ، اور یہ ظاہر ہے اور اس میں ماء مقید کی ابحاث سے ہے ، اور انہوں نے اس امر کی تصریح کی ہے کہ جنب جب کنویں میں اُترے اور غسل کا ارادہ کرے تو سب کے نزدیک پانی مستعمل ہوجائے گا ، اس کی تصریح اکمل ، صاحبِ معراج الدرایہ اور دوسرے علماءنے کی ہے اھ ۔ اور اسی میں ہے ، اسی طرح فقہاء نے تصریح کی ہے کہ جب کوئی شخص پانی میں ہتھیلی ڈال دے تو پانی مستعمل ہوجائے گا ، اور اس کی تصریح صاحبِ مبتغی نے کی ہے(غین معجمہ سے)اھ ، اور اسی میں ہے کہ اسبیجابے اور ولوالجی نے اپنے فتاوٰی میں فرمایا کہ ایک جنب ایک کنویں میں غسل کیلئے اترا پھر دوسرے میں اُترا
الصغار بین الحذاق ۔ فافتی العلامۃ زین الدین قاسم بن قطلو بغا بالجواز والف رسالۃ سماھا رفع الاشتباہ عن مسألۃ المیاہ [5] وخالفہ تلمیذہ العلامۃ عبدالبربن الشحنۃ وصنف رسالۃ سماھا زھرالروض فی مسألۃ الحوض [6]
والامام ابن امیرالحاج فی الحلیۃ ایضامیل الی شیئ مما اعتمدہ العلامۃ قاسم وھم جمیعا من جلۃ اصحاب الامام ابن الھمام علیھم رحمۃ الملک المنعام ثم جاء المحقق زین بن نجیم صاحب البحر رحمہ الله تعالٰی فانتصر الزین للزین ونمق رسالۃ سماھا الخیر الباقی فی جواز الوضوء من الفساقی ثم تتابع المتاخرون علی اتباعہ کالنھر والمنح والدر وذکر فی الخزائن ان لہ رسالۃ فیہ والعلامۃ الباقانی والشیخ اسمٰعیل النابلسی وولدہ العارف بالله سیدی عبدالغنی ومحشی الاشباہ شرف الدین الغزی فیما ذکرہ المدقق العلائی بلاغا وکذا بعض مشائخ الشامی والسادات الثلثۃ ابو السعود الازھری وط وش میلا مع تردد والیہ یمیل کلام العلامۃ نوح افندی ووافق
الیٰ آخر ماتقدم۔ اور اسی میں ہے کہ امام قاضی ابو زید الدبُّوسی نے اسرار میں فرمایا کہ محمد فرماتے ہیں کہ جب کسی شخص نے تھوڑے پانی میں غسل کیا تو کل پانی حکماً مستعمل ہوجائے گا اھ اس عبارت نے کل معاملہ وضاحت سے کھول کر رکھ دیا ہے اھ ہم اسی پر اکتفاء کرتے ہیں اور اختتام پر بحر کا یہ قول نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے ابہام کو رفع کردیاہے ، اور جیسا کہ آپ دیکھتے ہیں یہ صریح نصوص ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ تھوڑے سے پانی کا عضو سے ملنا جس پر حدث ہے پانی کو مستعمل بنا دیتا ہے خواہ پانی عضو پر وارد ہو یا عضو پانی پر وارد ہو ، اور اگر یہ پانی نجس عضو پر آئے ، خواہ پانی عضو پر یا عضو پانی پر تو پانی نجس ہوجائے گا۔ خلاصہ کلام یہ کہ مسئلہ کی فروع کو اِس انداز سے بیان کیا گیا ہے ، اور اس قسم کے اقوال علماء وفقہاء کے ذکر کئے گئے ہیں ، پھر جب محقق علی الاطلاق کے شاگردوں کا دور آیا اور چھوٹے حوضوں میں وضو کا مسئلہ ماہرین کے درمیان زیر بحث آیا تو علّامہ زین الدین قاسم بن قطلو بغانے جواز کا فتوٰی دیا اور ایک رسالہ لکھا جس کا نام “ رفع الاشتباہ عن مسئلۃ المیاہ “ ہےاس پر ان کے شاگرد علّامہ عبدالبربن الشحنہ نے ان کی مخالفت کی ، اور ایک رسالہ “ زھر الروض فی مسئلۃ الحوض “ لکھا۔ امام ابن الحاج نے حلیہ میں علّامہ قاسم کی طرف کچھ میلان کیا ہے ، یہ تمام کے تمام
العلامۃ ابن الشحنۃ منھم العلامۃ ابن الشلبی وبہ افتی والمحقق علی المقدسی والعلامۃ حسن الشرنبلالی ۔
قلت : والیہ یرشد کلام المحقق فی الفتح وقد علمت انھا الجادۃ المسلوکۃ الی زمن العلامۃ قاسم والمروی عن جمیع اصحابنا وعن ائمتنا الثلثۃ عینا ولم یخالفھا احد ممن تقدمہ غیر الامام صاحب البدائع فی جدل وتعلیل اما عند ذکر الاحکام فھو مع الجمھور وکذلک قدمنا عن عدۃ من ھٰؤلاء المتأخرین خلاف ما مالوا الیہ اماما نسب الی العلامۃ قارئ الھدایۃ فلا یتم کما ستعرف ان شاء الله تعالٰی وبالجملۃ فالمسألۃ ذات معترک عظیم والرسائل الثلث جمیعا بحمدالله
تعالٰی عندی وھٰانا الخصھا لک مع مالھا وعلیھا اجمالا مفصلا وبالله التوفیق فلنوزع الکلام علی اربعۃ فصول
ابن ہُمام کے جلیل القدر تلامذہ ہیں ، پھر ابنِ نُجیم صاحب بحر آئے اور انہوں نے زین کی مدد کی اور ایک رسالہ لکھا جس کا نام “ الخیر الباقی فی جواز الوضوء من الفساقی “ ہے پھر متاخرین نے پے درپے اس مسئلہ پر کلام کیا اور ان کی پیروی کی مثلاً نہر ، منح ، درر اور خزائن میں ہے کہ انہوں نے اس پر ایک رسالہ لکھا ہے ، اور علّامہ باقانی ، شیخ اسماعیل نابلسی اور ان کے صاحبزادہ عارف باللہ عبدالغنی نابلسی اور اشباہ کے محشی شرف الدین الغزی بقول مدقق علائی بطور بلاغ ، اور اسی طرح بعض مشائخ شامی اور سادات ثلثہ ابو السعود الازہری 'ط' اور 'ش' کا اس طرف میلان ہے ، کچھ تردّد بھی کیا ہے اور اسی طرف علامہ نوح آفندی کا کلام ہے اور علامہ ابن الشحنہ نے موافقت کی اور علّامہ ابن شلبی نے بھی موافقت کی اور اسی پر فتوٰی دیا اور محقق علی المقدسی اور علّامہ حسن شرنبلالی نے بھی یہی فرمایا۔ (ت)
میں کہتا ہوں محقق کا کلام فتح میں اسی طرف رہنمائی کرتا ہے اور آپ جان چکے ہیں کہ علّامہ ابن قاسم کے زمانہ تک یہی روش رہی ، اور یہی ہمارے تمام اصحاب اور ائمہ ثلثہ سے منقول ہے ، اور متقدمین میں سے سوائے صاحبِ بدائع کے کسی اور نے مخالفت نہ کی ، جدل اور تعلیل میں ، اور احکام کے ذکر کے وقت وہ جمہور کے ساتھ ہیں ، اور اسی طرح ہم بہت سے متاخرین سے ان کے خلاف نقل کر چکے ہیں ، اور جو علامہ قارئ الہدایہ کی طرف منسوب ہے وہ ثابت نہیں ، جیسا کہ آپ عنقریب جان لیں گے اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ ، اور خلاصہ یہ ہے کہ مسئلہ بہت معرکہ کا ہے اور تینوں رسائل بحمداللہ میرے پاس ہیں جن کا خلاصہ میں آپ کے سامنے مالہا وما علیہا کے ساتھ پیش کرتا ہوں یہ کلام چار فصول پر مشتمل ہے۔
[1] فتح القدیر کتاب الطہارت نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۷۶
[2] بحرالرائق کتاب الطہارت سعید کمپنی کراچی ۱ / ۷۱
[3] بحرالرائق کتاب الطہارت سعید کمپنی کراچی ۱ / ۷۱ ، ۹۹
[4] بحرالرائق کتاب الطہارت سعید کمپنی کراچی ۱ / ۷۱
[5] بحرالرائق کتاب الطہارۃ مطبع ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۷۲
[6] بحرالرائق کتاب الطہارۃ مطبع ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۷۲
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع