30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بمن یطلب دلوھم لایمکنھم ان یکلفوہ بالاغتسال اولا [1] اھ(۸)وفی الخلاصۃمعزیا(۹)للاصل ونحوہ فی الخانیۃ(۱۰)وعنھا فی الغنیۃ واللفظ لفقیہ النفس مختصرا ادخل یدہ للاغتراف لایفسد الماء وکذا اذا ادخل یدہ فی الجب الی المرفق لاخراج الکوز ویدہ ورجلیہ فی البئر لطلب الدلو لمکان الضرورۃ ولو للتبرد یصیر مستعملا لانعدام الضرورۃ [2] اھ(۱۱)وفی(۱۲)الحلیۃ قال القدوری کان شیخناابو عبدالله یقول الصحیح عندی من مذہب اصحابنا ان ازالۃ الحدث توجب استعمال الماء ولا معنی لھذا الخلاف اذلا
اور ہم اس کو “ الطرس المعدل “ میں بیان کرچکے ہیں تو ان کا طلب پر اکتفاء اس سبب سے نہیں جو ذکر کیا اور خانیہ کی فصل مایقع فی البئر میں ہے ، بے وضو نے اگر اپنی انگلیوں کے کناروں کو دھویا اور پورا عضو نہ دھویا ، حاکم نے مختصر میں کہا کہ اس طرح پانی مستعمل ہوجائے گا ،
اور وجیز امام کُردری میں ہے ، جُنب یا حائض نے اس میں(پانی میں)چلّو بھرنے کیلئے اپنا ہاتھ ڈالا یا اس میں سے لوٹا نکالنے کیلئے ، تو پانی ضرورت کی وجہ سے خراب نہیں ہوگا ، ہاں اگر ٹھنڈک حاصل کرنے کیلئے ڈالا تو فاسد ہوجائے گا ،
اور کافی میں ہے کہ امام محمد نے کنویں کے مسئلہ میں پانی کے مستعمل ہونے کا حکم اس لئے نہیں لگایا کہ وہاں ضرورت ہے ، کیونکہ اگر ڈول نکالنے والا مل جائے تو لوگوں کیلئے ممکن نہیں کہ پہلے اس کو غسل کا پابند کریں اھ ،
اور خلاصہ میں یہ چیز اصل کی طرف منسوب ہے اور اسی قسم ک عبارت خانیہ میں ہے اور خانیہ سے غنیہ میں منقول ہے اور الفاظ فقیہ النفس کے ہیں مختصراً کسی شخص نے پانی میں اپنا ہاتھ چلّو بھرنے کیلئے ڈالا تو وہ پانی کو فاسد نہ کرے گا اور اسی طرح لوٹا نکالنے کیلئے اپنا ہاتھ گڑھے میں کہنیوں تک ڈالا ، اور اسی طرح ہاتھ پیر اگر کنویں میں ڈول کی تلاش میں ڈالے تو ضرورت کی وجہ سے پانی
(۱)نص فیہ وانما لم یأخذ الماء حکم الاستعمال فی مسألۃ طلب الدلو لمکان الضرورۃ اذ الحاجۃ الی الانغماس فی البئر لطلب الدلومما یکثرولواحتیج الی نزح کل الماء کل مرۃ لحرجوا حرجا عظیما فصارکا لمحدث اذا غرف الماء بکفہ لایصیر مستعملا بلا خلاف وان وجد اسقاط الفرض لمکان الضرورۃ [3] اھ(۱)وفی البرھان شرح مواھب الرحمٰن(۱۵)ثم غنیۃذوی الاحکام للشرنبلالی معناہ وفی شرح الوھبانیۃ للعلامۃ ابن الشحنۃ اعتبار الضرورۃ فی مثل ذلک(۱۶)مذکور فی الصغری وغیرھا اھ(۱۷)وفی النھایۃ(۱۸)ثم الھندیۃلوانغمس(۲)للاغتسال للصلاۃیفسدالماء بالاتفاق [4] اھ ونحوہ(۱۹)فی العنایۃوغیرھا وفی فوائد الامام ظھیرالدین ابی بکر محمد بن احمد بن عمر علی شرح الجامع الصغیر للامام الصدر الشھید حسام الدین عمر بن عبدالعزیز رحمہما الله تعالی لو ادخل رجلہ فی البئر ولم ینوبہ الاستعمال ذکر شیخ الاسلام المعروف بخواھرزادہ رحمہ الله تعالی ان الماء یصیر مستعملا عند محمد رضی الله تعالٰی عنہ وذکر شمس الائمۃ الحلوانی رحمہ
فاسد نہ ہوگا اور ٹھنڈک کے حصول کی خاطر ڈالے تو پانی مستعمل ہوجائے گا کہ ضرورت نہیں ہے۔
اور حلیہ میں ہے کہ قدوری نے کہا ہمارے شیخ ابو عبداللہ فرماتے تھے میرے نزدیک ہمارے اصحاب کا صحیح مذہب یہ ہے کہ ازالہ حَدَث پانی کے استعمال کا موجب ہے اور اس اختلاف کا کوئی مفہوم نہیں کیونکہ اس میں نص موجود نہیں ، اور ڈول کی تلاش کے مسئلہ میں پانی کا مستعمل نہ ہونا ضرورت ہونے کی وجہ سے ہے کیونکہ کنویں میں ڈول کی تلاش میں غوطہ خوری عام ہے ، اور اگر ہر مرتبہ کنویں کا پورا پانی نکالنا پڑ جائے تو لوگ سخت تنگی میں مبتلا ہوجائیں گے ، تو یہ بے وضو کی طرح ہے کہ وہ چلّو سے پانی لے تو بالاتفاق پانی مستعمل نہ ہوگا اگرچہ اس میں اسقاط فرض بھی پایا جارہا ہے ، کیونکہ ضرورت ہے ، اور برہان شرح مواہب الرحمن ، نیز غنیہ ذوی الاحکام شرنبلالی میں اس کا ہم معنی ہے ، اور علّامہ ابن الشحنہ کی شرح وہبانیہ میں ہے کہ اس قسم کے مسائل میں ضرورت کا اعتبار صغریٰ وغیرہ میں مذکور ہے اھ اور نہایہ وہندیہ میں ہے کہ نماز کیلئے غسل کرنے کو غوطہ لگایا تو پانی بالاتفاق مستعمل ہوجائے گا اھ اور عنایہ وغیرہ میں اسی کی مثل ہےاور امام ظہیر الدین ابو بکر محمدبن احمد بن عمر کے جو فوائد شرح جامع صغیر امام صدر شہید حسام الدین عمر بن عبدالعزیز رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ
الله تعالی انہ لایصیر مستعملا لان الرجل فی البئر بمنزلۃ الید فی الاٰنیۃ فعلی ھذا التعلیل اذا ادخل الرجل فی الاناء یصیر مستعملا لعدم الضرورۃ [5]اھ۔ یکن موضع ضرورۃ وما قالہ الحُلوانی علی موضع الضرورۃ [6]اھ
قلت : وحاصل قول الامام الحُلوانی ان الید ربما لاتبلغ قعرالبئر فمست الحاجۃ الی الرجل ھذا ھو الذی یعطیہ نص قولہ لااحتمال فیہ لغیرہ واسشناء موضع الضرورۃ معلوم من اقوالھم بالضرورۃ(۱(فقول العلامۃ ابن الشحنۃ فی زھر الروض بعد نقلہ یمکن دفع التعارض بحمل ماقالہ خواھر زادہ علی مااذا لم تردد فی موضع الجزم وشک فی محل الیقین وفی متن الملتقی لوانغمس جنب فی البئر بلانیۃ فقیل الماء والرجل نجسان عندالامام والاصح ان الرجل
طاھر والماء مستعمل عندہ [7] اھ
وفی شرحہ مجمع الانھر لوقال انغمس محدث لکان اولی وانما قال بلانیۃ
میں ہے کہ اگر کسی شخص نے کنویں میں بلانیت استعمال اپنا پیر ڈالا تو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ شیخ الاسلام المعروف خواہر زادہ نے فرمایا کہ پانی امام محمد کے نزدیک مستعمل ہوجائے گا ، اور شمس الائمہ الحُلوانی نے ذکر کیا کہ پانی مستعمل نہ ہوگا کیونکہ کنویں میں پیر کا ڈالنا ایسا ہے جیسا ہاتھ برتن میں ، اسی استدلال کی بنیاد پر اگر کوئی شخص برتن میں پیر داخل کرے تو پانی ضرورت نہ ہونے کی وجہ سے مستعمل ہوجائے گا اھ۔
میں کہتا ہوں اور امام حُلوانی کے قول کا ماحصل یہ ہے کہ ہاتھ کبھی کنویں کی تَہ تک نہیں پہنچ پاتا ہے تو پَیر کی ضرورت ہوتی ہے ، یہ مفہوم ان کی اس تصریح سے حاصل ہوتا ہے کہ اس میں اس کے غیر کا احتمال نہیں ہے اور مقام ضرورت کا استنشاء اُن کے اقوال سے بداہۃً معلوم ہوتا ہے تو علامہ ابن الشحنہ کا قول زہر الروض میں نقل کے بعد اس کا تعارض اس طرح رفع ہوسکتا ہے کہ خواہر زادہ نے جو فرمایا ہے اس کو
ضرورت کے نہ ہونے پر محمول کیا جائے اور حُلوانی کے قول کو ضرورت پر محمول کیا جائے اھ۔ تردد ہے مقام یقین میں اور شک ہے مقام یقین میں۔ اور متن ملتقی میں ہے کہ اگر کسی جُنب نے بلانیت کنویں میں غوطہ گایا تو کہا گیا کہ آدمی اور پانی دونوں نجس ہیں امام کے نزدیک۔ اور اصح یہ ہے کہ ان کے نزدیک آدمی پاک ہے اور پانی مستعمل ہے اھ ت
اور اس کی شرح مجمع الانہر میں ہے کہ اگر انغمس محدث
لانہ لوانغمس للاغتسال فسد الماء عند الکل [8] اھ وفی النھر الفائق فی تعلیل قول محمد فی مسألۃ جحط اماطھارۃ الرجل فلان محمدالایشترط الصب واما الماء فللضرورۃ [9] اھ نقلہ السید الازھری علی الکنز وفی الدر اسقاط فرض ھو الاصل بان یدخل یدہ اور رجلہ فی الجب لغیر اغتراف ونحوہ فانہ یصیر مستعملا لسقوط الفرض اتفاقا [10] اھ ولو استرسلنا فی سرد الفروع لاعیانا ولکن نرد البحر ونکثر الاغتراف منہ لان الکلام
[1] الکافی
[2] غنیۃ المستملی باب الانجاس سہیل اکیڈمی لاہور ص۱۵۲
[3] بحرالرائق کتاب الطہارت مسئلۃ البئر جحط ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۹۷
[4] ہندیۃ الماء الذی لایجوز بہ التوضؤ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۲۳
[5] کفایۃ مع الفتح الماء الذی یجوزبہ الوضؤ ومالایجوز نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۸۰
[6] زہر الروض
[7] ملتقی الابہر فصل فی المیاہ العامرہ مصر ۱ / ۳۱
[8] مجمع الانہر فصل فی المیاہ العامرہ مصر ۱ / ۳۱
[9] فتح المعین بئر حجط سعید کمپنی کراچی ۱ / ۷۰
[10] درمختار باب المیاہ مجتبائی دہلی ۱ / ۳۷
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع